?️
لبنان میں شیخ نعیم قاسم نے کیسے امریکی سازشوں کو ناکام بنایا
بیروت میں حالیہ دنوں سفارتی سرگرمیوں میں غیرمعمولی تیزی دیکھی گئی ہے۔ ایران کی قومی سلامتی کونسل کے سیکرٹری علی لاریجانی کے دورۂ لبنان کے بعد امریکی نمائندے ٹام باراک اور مورگان اورٹاگوس بھی بیروت پہنچے، جبکہ اطلاعات کے مطابق سعودی فرستادہ یزید بن فرحان بھی جلد لبنان کا دورہ کریں گے۔
امریکی وفد نے لبنانی حکام پر زور دیا کہ وہ مزاحمتی قوت حزب اللہ کو غیرمسلح کرنے کے عملی اقدامات کریں۔ اگرچہ بظاہر اس دورے کا مقصد تعاون اور حوصلہ افزائی بتایا گیا، لیکن اصل میں یہ واشنگٹن کی جانب سے دباؤ بڑھانے کی ایک کڑی تھی۔
لبنانی ذرائع کے مطابق حزب اللہ کے سیکرٹری جنرل شیخ نعیم قاسم کی حالیہ تقریر کو جنگ کے بعد ان کی سب سے سخت اور واضح پالیسی بیان قرار دیا جا رہا ہے۔ ان کے بیانات نے امریکی منصوبوں کو جھٹکا دیا اور لبنانی حکام کو اپنی حکمتِ عملی پر نظرثانی پر مجبور کر دیا۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے مؤقف کو امریکی وفد کی ملاقاتوں میں بھی موضوعِ بحث بنایا گیا۔
لبنانی صدر میشل عون نے امریکی وفد سے ملاقات میں تین اہم نکات اٹھائے لبنان پہلے ہی یہ فیصلہ کر چکا ہے کہ اسلحہ محدود کرنے کا عمل فوج کی نگرانی میں مرحلہ وار شروع ہوگا، لیکن اس کے لیے شام اور اسرائیل کی رضامندی ناگزیر ہے۔
لبنانی فوج وسائل اور صلاحیتوں سے محروم ہے، لہٰذا اس کی مضبوطی اور براہِ راست حمایت ضروری ہے۔ملک کو معاشی اور مالی بحران سے نکالنے کے لیے بنیادی ڈھانچے کی بحالی اور امدادی منصوبے شروع کرنا ہوں گے۔
لبنانی وزیرِاعظم نواف سلام نے امریکی نمائندوں پر زور دیا کہ وہ اسرائیل پر دباؤ ڈالیں تاکہ وہ جارحانہ اقدامات روکے، قبضہ شدہ علاقوں سے پیچھے ہٹے اور قیدیوں کو رہا کرے۔ ان کے بقول، جب تک فوج کو مالی و عسکری مدد فراہم نہیں کی جاتی، وہ اپنی ذمہ داریاں پوری نہیں کر سکتی۔
لبنانی حکام کا خیال تھا کہ حزب اللہ خاموش رہے گی یا اسرائیلی دھمکیوں کے باعث لچک دکھائے گی، لیکن شیخ نعیم قاسم کی تقریر نے یہ حساب کتاب بدل دیا۔ دوسری جانب اسرائیل نہ تو کسی سیاسی تعہد پر تیار ہے اور نہ ہی عملی طور پر لبنانی سرزمین پر اپنی خلاف ورزیوں کو روک رہا ہے۔
پارلیمنٹ اسپیکر نبیہ بری نے امریکی نمائندے کو سخت لہجے میں یاد دلایا کہ پچھلے دورے میں جو معاہدہ ہوا تھا، اسرائیل نے اس پر عمل کیوں نہ کیا؟ انہوں نے واضح کیا کہ جب تک اسرائیل لبنانی علاقوں سے پیچھے نہیں ہٹتا اور جنگ بندی کی پاسداری نہیں کرتا، حزب اللہ کے ہتھیاروں پر کوئی بات ممکن نہیں۔
Short Link
Copied


مشہور خبریں۔
غزہ جنگ بندی کے مستقبل کے لیے سب سے نمایاں منظرنامے / کیا جنگ ختم ہو چکی ہے؟
?️ 26 اکتوبر 2025سچ خبریں: ان حالات کی روشنی میں جن میں غزہ جنگ بندی
اکتوبر
المیادین کی ٹرمپ کے غزہ پلان کی تفصیلات سے متعلق رپورٹ
?️ 2 اکتوبر 2025سچ خبریں: ٹیلی ویژن نیٹ ورک المیادین نے دعویٰ کیا ہے کہ اسے
اکتوبر
چوہدری مونس الٰہی کی خط کے حوالے سے میڈیا سے گفتگو
?️ 23 جولائی 2022 لاہور: (سچ خبریں)مسلم لیگ(ق) کے رہنما چوہدری مونس الٰہی نے کہا ہے
جولائی
اسلام آباد پولیس کی ریڈ زون کی حدود میں باضابطہ توسیع کی درخواست
?️ 1 نومبر 2022اسلام آباد: (سچ خبریں) اسلام آباد پولیس نے مقامی انتظامیہ سے باضابطہ
نومبر
امریکہ میں یہودی اداروں کی نیتن یاہو کے خلاف مظاہروں کی تیاری
?️ 21 جولائی 2024سچ خبریں: عبرانی زبان کے اخبار Haaretz نے اطلاع دی ہے کہ
جولائی
غزہ پر وسیع حملے کی صورت میں بڑی تعداد میں اسرائیلی قیدی اور فوجیوں کے ہلاک ہونے کا مکان
?️ 7 اگست 2025سچ خبریں: عبرانی اخبار معاریو نے صہیونی فوجی ذرائع کے حوالے سے
اگست
آصف زرداری ایک اور کرپشن ریفرنس میں طلب
?️ 3 نومبر 2023اسلام آباد:(سچ خبریں) احتساب عدالت اسلام آباد نے سابق صدر آصف علی
نومبر
اسقاط حمل کے معاملے میں ٹرمپ کا یو ٹرن
?️ 21 ستمبر 2023سچ خبریں: ٹرمپ چاہتے ہیں کہ ریپبلکن اسقاط حمل کے حقوق کے
ستمبر