فلسطین کو ختم کرنے والے اسرائیل کے دو منصوبے

?️

فلسطین کو ختم کرنے والے اسرائیل کے دو منصوبے

رژیم صیہونی نے حالیہ دنوں میں دو ایسے منصوبے شروع کیے ہیں جو فلسطین کے سیاسی و جغرافیائی مستقبل پر گہرے اثرات ڈال سکتے ہیں۔ ایک طرف غزہ میں گدعون 2کے نام سے فوجی آپریشن جاری ہے جس کا مقصد دراصل پورے غزہ پر قبضہ اور دو ملین سے زائد فلسطینیوں کی جبری بے دخلی بتایا جا رہا ہے، دوسری طرف مغربی کنارے میں ای۔ون نامی بستی کی تعمیر کا منصوبہ پیش کیا گیا ہے جو علاقے کے نقشے کو مکمل طور پر بدل دے گا۔
ذرائع کے مطابق اسرائیلی کابینہ نے فوجی مخالفتوں کے باوجود گدعون 2 پر اصرار کیا ہے۔ رپورٹوں میں کہا گیا ہے کہ پچھلے گدعون 1 آپریشن میں بھاری جانی نقصان کے بعد بھی حکام اس نئی کارروائی کو حتمی قبضے کے لیے ناگزیر قرار دے رہے ہیں۔ حتیٰ کہ بعض اسرائیلی کمانڈروں نے اس آپریشن کو ناکام قرار دیتے ہوئے اس کے خطرناک نتائج سے خبردار بھی کیا ہے۔
اسی دوران اسرائیل کے انتہا پسند وزیرِ خزانہ بتسئیل سموترچ نے مغربی کنارے میں ای۔ون منصوبے کا اعلان کیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ منصوبہ غزہ پر قبضے کے ساتھ مل کر فلسطینی ریاست کے باقی امکانات کو بھی ختم کر دے گا۔ اس بستی کی تعمیر کے نتیجے میں مغربی کنارے کا جنوبی علاقہ الخلیل شمالی شہروں رام اللہ اور نابلس سے کٹ جائے گا، جبکہ القدس اشغالی کو براہِ راست اسرائیلی علاقے سے جوڑ دیا جائے گا۔
رپورٹوں کے مطابق اس منصوبے سے تقریباً 70 فیصد زمین جو دو ریاستی حل کے تحت فلسطینی اتھارٹی کے دائرہ اختیار میں آنی تھی، اسرائیلی قبضے میں چلی جائے گی۔ علاوہ ازیں امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ مستقبل میں الخلیل بھی مکمل طور پر اسرائیلی کنٹرول میں شامل ہو جائے گا۔
سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ غزہ میں فوجی کارروائی اور مغربی کنارے میں الحاقی منصوبوں کا بیک وقت آغاز دراصل یہ واضح پیغام ہے کہ اسرائیل منظم انداز میں دو ریاستی حل کو دفن کر رہا ہے۔ وہی حل جسے نوے کی دہائی میں امریکا اور بعض عرب ممالک خصوصاً مصر اور سعودی عرب کی حمایت حاصل تھی۔
اب جبکہ تین دہائیوں کے بعد یہ بات کھل کر سامنے آ چکی ہے کہ تل ابیب کبھی بھی اس فارمولے کو نافذ کرنے کا ارادہ نہیں رکھتا تھا، موجودہ حکومت کھلے عام یہودی ریاست کے قیام کی طرف بڑھ رہی ہے جہاں فلسطینیوں کو نہ غزہ اور نہ ہی مغربی کنارے میں کوئی حقیقی اختیار حاصل ہوگا اور موجودہ فلسطینی انتظامیہ محض بلدیاتی یا اداری سطح تک محدود کر دی جائے گی۔

مشہور خبریں۔

پاکستانی وفد کے دورہ اسرائیل کے بارے میں ہمیں علم نہیں تھا:اسلام آباد

?️ 23 مارچ 2025سچ خبریں: پاکستان کی وزارت خارجہ کے ترجمان شفقت علی خان نے

افغانستان کی صورتحال کا ذمہ دار پاکستان نہیں ہے

?️ 9 جولائی 2021اسلام اباد (سچ خبریں) وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ

امریکہ میں ابتدائی ووٹوں کی گنتی؛ ٹرمپ اور ہیرس برابر

?️ 5 نومبر 2024سچ خبریں:امریکی صدارتی انتخابات 2024 کی پہلی باقاعدہ گنتی سے پتہ چلتا

Jokowi supporters try to prevent anti-Jokowi activist from entering Batam

?️ 9 ستمبر 2022Strech lining hemline above knee burgundy glossy silk complete hid zip little

داعش کی پکار؛ غزہ کے بجائے افغانستان میں جہاد کرو

?️ 9 مئی 2024سچ خبریں: داعش دہشت گرد گروہ نے ایک نیا مضمون شائع کر کے

وزیراعظم نے بجلی بریک ڈاؤن پر عوام سے معذرت کرلی

?️ 24 جنوری 2023اسلام آباد: (سچ خبریں) وزیراعظم شہباز شریف نے بجلی بریک ڈاؤن کی وجہ سے عوام کی

جارحیتوں اور جنگوں کے مقابلے میں خاموشی ذمہ داریوں پر عمل نہ کرنا ہے: الحوثی

?️ 18 دسمبر 2025سچ خبریں:یمن کی انصارالله تحریک کے رہنما عبدالملک الحوثی نے اپنے خطاب

بھارت کو کشمیریوں کی پرواہ نہیں وہ بس کشمیر کی سرزمین پر قابض ہونا چاہتا ہے: دیویندر سنگھ بہل

?️ 5 جون 2021جموں (سچ خبریں)  مقبوضہ کشمیر میں سوشل پیس فورم کے چیئرمین ایڈووکیٹ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے