?️
سچ خبریں: عوامی محاذ برائے آزادی فلسطین نے ایک بیان جاری کرتے ہوئے صہیونی دشمن کے خلاف مزاحمت کے آپشن پر قائم رہنے اور سمجھوتہ اور مذاکرات کے عمل کو ترک کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔
المیادین نیوز چینل کی رپورٹ کے مطابق عوامی محاذ برائے آزادی فلسطین نے ایک بیان جاری کرتے ہوئے اعلان کیا کہ مزاحمت بہترین آپشن ہے جو آزمایا جا چکا ہے جو قابضین کو فلسطینیوں کے قومی حقوق کو تسلیم کرنے پر مجبور کرسکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: مزاحمت کو مزید متحد اورمضبوط ہونے کی ضرورت
اس محاذ نے تاکید کی کہ سمجھوتے کا آپشن ایک تباہ کن، بیکار اور ناکام آپشن ہے جس کی وجہ سے فلسطینی کاز گزشتہ 30 سالوں میں ایک تاریک سرنگ میں داخل ہو جائے گا۔
عوامی محاذ برائے آزادی فلسطین نے مزید کہا کہ اوسلو معاہدے اور بیکار مذاکرات سمیت فلسطینی دھارے کی کارکردگی کا جائزہ لیا جانا چاہیے اور اس پر نظر ثانی کی جانی چاہیے،ہم فعال فلسطینی گروہوں سے کہتے ہیں کہ وہ صہیونی دشمن کے خلاف لڑنے کے لیے متحد ہو جائیں۔
اس بیان میں کہا گیا ہے کہ جس چیز کا از سر نو جائزہ لیا جانا چاہیے وہ سمجھوتہ کا عمل اور اس تباہ کن اور بیکار طریقے پر انحصار کرنے کے عوامل ہیں،جو لوگ اس راستے کو پسند کرتے ہیں اور قومی جذبے کو نشانہ بناتے ہیں ان کا حساب ہونا چاہیے۔
اس بیان میں تاکید کی گئی ہے کہ فلسطینی قوم، ہر ایک سیاسی اور سماجی ذوق اور نقطہ نظر کے ساتھ مزاحمت کی حمایت اور اس آپشن پر بھروسہ کرنے کے لیے متحد اور مضبوط موقف کی مالک ہے۔
اس سے پہلے مغربی حتیٰ صہیونی ذرائع ابلاغ نے خبریں شائع کرکے اس بات پر زور دیا تھا کہ فلسطینی عوام میں مزاحمت کی سوچ کو ختم کرنا ممکن نہیں ہے۔
اس حوالے سے جرمن اخبار ڈیر اشپیگل نے تحریک حماس کی تباہی کے امکان کے بارے میں اپنی ایک رپورٹ میں اس بات پر زور دیا کہ اس تحریک کی طاقت اور اس کی عوامی مقبولیت کے پیش نظر ایسا کرنا ناممکن ہے۔
اگرچہ اسرائیلی فوج نے گزشتہ دو مہینوں میں غزہ کی پٹی کو کھنڈر میں تبدیل کر دیا ہے لیکن اس اخبار نے مزاحمت اور حماس کے ایک تجزیہ کار کے حوالے سے کہا کہ یہ خیال کہ اسرائیل حماس کو شکست دینے یا اسے فوجی ذرائع سے تباہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے غیر حقیقی ہے اس لیے کہ حماس ایک نظریہ بن چکی ہے۔
مزید پڑھیں: 33 روزہ جنگ میں حزب اللہ نے امریکہ کے شیطانی منصوبے کو کیسے خاک میں ملایا؟
Der Spiegel نے ایک اسرائیلی فوجی تجزیہ کار کے حوالے سے کہا کہ حماس کو تباہ کرنا ناممکن ہے، کیونکہ حماس صرف ایک تنظیم نہیں ہے، بلکہ ایک ایسی طاقت ہے جس کی جڑیں معاشرے میں پیوست ہیں اور اس کے افکار و نظریات لوگوں کے دلوں اور دماغوں میں پیوست ہیں۔
اس مسئلے کا موازنہ جنگ کے بعد جرمنی کی صفائی سے کیا جا سکتا ہے، یعنی اس طرح کے آپریشن میں کئی دہائیاں لگیں گی۔


مشہور خبریں۔
سی سی ڈی کی کارروائی میں 3 دہشت گرد ہلاک
?️ 19 ستمبر 2025راولپنڈی (سچ خبریں) ضلع خیبر میں دہشتگردانہ کارروائی کا منصوبہ ناکام بنا
ستمبر
عمران خان کو قید تنہائی میں رکھا گیا ہے، بیٹوں سے بات کی اجازت بھی نہیں، جمائما گولڈ اسمتھ
?️ 16 اکتوبر 2024اسلام آباد: (سچ خبریں) بانی پی ٹی آئی اور سابق وزیراعظم عمران
اکتوبر
ضمنی انتخابات میں کامیابی کیلئے پی ٹی آئی ڈور ٹو ڈور مہم چلائے گی۔
?️ 12 جولائی 2022اسلام آباد: (سچ خبریں) پنجاب کے 20 حلقوں میں ضمنی انتخابات میں کامیابی کیلئے تحریک انصاف ایڑی
جولائی
کیا حزب اللہ کے میزائل ذخائر اور مزاحمتی قوت ختم ہو چکی ہے؟
?️ 31 دسمبر 2024سچ خبریں:حزب اللہ کی سیاسی کونسل کے نائب صدر محمود قماطی نے
دسمبر
دہشت گردانہ حملہ ناکام بنانے پر وزیراعظم کا سیکیورٹی جوانوں کو سلام
?️ 3 فروری 2022اسلام آباد (سچ خبریں) وزیر اعظم عمران خان نے پنجگور اور نوشکی
فروری
بین الاقوامی برادری کی جانب سے گزشتہ سال افغانستان کو دو ارب ڈالر کی امداد
?️ 18 دسمبر 2022سچ خبریں:طالبان کے دوبارہ قیام کے بعد افغانستان کو امداد کی فراہمی
دسمبر
غزہ پر کس کا کنٹرول ہے؟ امریکی حکام کا اظہار خیال
?️ 6 اکتوبر 2024سچ خبریں: عبری زبان اخبار نے غزہ میں حماس کے سیاسی دفتر
اکتوبر
خطے کی بدلتی ہوئی صورتحال کے تناظر میں ریاض اور اسلام آباد کے درمیان نیا دفاعی معاہدہ
?️ 20 ستمبر 2025 خطے کی بدلتی ہوئی صورتحال کے تناظر میں ریاض اور اسلام آباد
ستمبر