فلسطینی ایکشن گروپ پر پابندی کے خلاف برطانوی عدالت کے فیصلے 

فلسطینی

?️

عدالت عظمیٰ نے حکم دیا کہ اس گروپ کو دہشت گرد تنظیم قرار دینے کا حکومتی اقدام آئین سے متصادم ہے۔
لندن پولیس نے بھی جمعہ کو اعلان کیا کہ سپریم کورٹ کے اس فیصلے کے بعد اب افسران فوری گرفتاریوں کے بجائے شواہد اکٹھے کرنے پر توجہ مرکوز کریں گے۔
ماہرین قانون کے مطابق برطانیہ کی سپریم کورٹ کا یہ فیصلہ حالیہ برسوں میں عوامی قانون کے حوالے سے سب سے اہم آزمائشوں میں سے ایک ہے۔ یہ حکم نہ صرف ایک احتجاجی گروپ کی قسمت کا فیصلہ ہے بلکہ قومی سلامتی اور بنیادی آزادیوں کے درمیان توازن کو بھی مرکز میں لے آیا ہے۔
یہ مقدمہ گزشتہ سال جولائی میں اس وقت شروع ہوا جب کیئر اسٹارمر کی قیادت میں برطانوی حکومت نے فلسطین ایکشن کو 2000 کے انسداد دہشت گردی قانون کے تحت دہشت گرد تنظیموں کی فہرست میں شامل کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس فیصلے کے تحت اس گروپ کی رکنیت یا حتیٰ کہ حمایت کے اظہار پر 14 سال تک قید کی سزا تھی، جس سے فلسطین حامی کارکنوں پر بے مثال قانونی دباؤ پیدا ہو گیا تھا۔
حکومت کا مؤقف تھا کہ فلسطین ایکشن نے بعض فوجی تنصیبات اور دفاعی صنعتوں میں داخل ہو کر اور عوامی املاک کو نقصان پہنچا کر سول احتجاج کی حدود سے تجاوز کر کے قومی سلامتی کے لیے خطرہ پیدا کر دیا تھا۔ تاہم سپریم کورٹ نے اس دلیل کو ناکافی قرار دیتے ہوئے پابندی کو غیرمتناسب اور بنیادی حقوق کے اصولوں کے خلاف قرار دے دیا۔
جسٹس وکٹوریہ شارپ کی سربراہی میں جاری کردہ فیصلے میں زور دیا گیا کہ کسی گروپ کو دہشت گرد تنظیموں کی فہرست میں شامل کرنا حکومت کا سب سے سخت قانونی اقدام ہے اور اسے صرف انتہائی ضروری اور متناسب حالات میں استعمال کیا جانا چاہیے۔
عدالت نے واضح کیا کہ فلسطین ایکشن پر لگائے گئے الزامات اگرچہ املاک کو نقصان پہنچانے یا غیرقانونی داخلے جیسے جرائم کی حدود میں قابل سماعت ہو سکتے ہیں، لیکن ضروری نہیں کہ وہ دہشت گردی کی قانونی تعریف کو پورا کرتے ہوں۔ واضح طور پر، ججوں کا خیال تھا کہ حکومت کے پاس ممکنہ مجرمانہ رویے سے نمٹنے کے لیے عام تعزیری اختیارات موجود تھے اور انسداد دہشت گردی کے سخت ترین طریقہ کار کو استعمال کرنے کی ضرورت نہیں تھی۔ عدالت کے نزدیک اس قانون کا استعمال آزادی اظہار اور اجتماع کے حق میں سنگین مداخلت ہے۔
فلسطین ایکشن پر پابندی کئی متنازع احتجاجی کارروائیوں کے بعد لگائی گئی تھی، جن میں گروپ کے کارکنوں کا برائز نورٹن میں رائل ایئر فورس کے اڈے میں داخل ہو کر فوجی طیاروں پر پینٹ پھینکنا شامل تھا، جسے حکومت نے خطرناک اور نقصان دہ قرار دیا تھا۔ اس سے قبل گروپ کے ارکان نے برسٹل میں ایلبٹ سسٹمز کی عمارت کو بھی نقصان پہنچایا تھا، جو اسرائیلی کمپنی ایلبٹ سسٹمز کا ذیلی ادارہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ کمپنی غزہ کے خلاف اسرائیل کے استعمال کردہ فوجی سازوسامان کی تیاری میں ملوث ہے اور ان کا احتجاج اسلحہ ساز صنعتوں کے خلاف سول نافرمانی کے دائرے میں آتا ہے۔
پابندی کے نفاذ کے بعد پورے برطانیہ میں گرفتاریوں کی لہر دوڑ گئی۔ سول مہمات کے مطابق، اس گروپ کی حمایت کے الزام میں 2700 سے زائد افراد کو گرفتار کیا گیا، جن میں اساتذہ، پادری، ریٹائرڈ فوجی افسران اور حتیٰ کہ ایک بزرگ جج بھی شامل تھے۔ ان میں سے بعض افراد پر صرف اس لیے مقدمہ چلایا گیا کیونکہ انہوں نے غزہ میں نسل کشی کے خلاف بینرز اٹھائے یا فلسطین ایکشن کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا۔ اس مسئلے نے سیاسی یکجہتی اور ممنوعہ تنظیم کی مجرمانہ حمایت کے درمیان حد بندی پر سنجیدہ بحث چھیڑ دی۔
حکومتی فیصلے کے خلاف اپیل گروپ کی بانی ارکان میں سے ایک ہدیٰ عموری نے دائر کی تھی۔ ان کا مؤقف تھا کہ حکومت نے انسداد دہشت گردی قانون کی وسیع تشریح کرتے ہوئے احتجاجی سرگرمیوں کو بین الاقوامی سیکیورٹی خطرات کی سطح پر رکھ دیا ہے اور اپنے قانونی اختیارات سے تجاوز کیا ہے۔ سپریم کورٹ نے اس دلیل کے کچھ حصوں کو قبول کرتے ہوئے کہا کہ یہ پابندی آزادی اظہار اور اجتماع میں سنگین مداخلت ہے اور حکومت جمہوری معاشرے میں اس مداخلت کی ضرورت ثابت نہیں کر سکی۔
تاہم اس فیصلے کے باوجود پابندی عارضی طور پر برقرار ہے کیونکہ برطانوی حکومت نے اعلان کیا ہے کہ وہ اپیل کورٹ میں فیصلے کو چیلنج کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ اس لیے اس گروپ اور اس کے حامیوں کی قانونی حیثیت التوا کا شکار ہے۔ لندن پولیس نے بھی کہا ہے کہ ان خاص حالات میں وہ فوری گرفتاریوں کے بجائے دستاویزات اکٹھا کرنے پر اکتفا کرے گی تاکہ قانونی صورت حال بدلنے پر مزید کارروائی کی جا سکے۔
سپریم کورٹ کے اس فیصلے کو انسانی حقوق کی تنظیموں اور بہت سے فلسطین حامی کارکنوں نے وسیع پیمانے پر خوش آئند قرار دیا ہے۔ حکومت کے ناقدین کا کہنا ہے کہ ایک داخلی احتجاجی تحریک کو بین الاقوامی مسلح گروہوں کے ساتھ برابر رکھنا انتہائی اقدام ہے اور اس سے انسداد دہشت گردی کے قوانین کو سیاسی ہتھیار میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔ دوسری طرف وزارت داخلہ کے عہدیداروں کا ماننا ہے کہ ابتدائی فیصلہ عوامی تحفظ کے تحفظ کے لیے کیا گیا تھا اور اس گروپ کی کارروائیاں پرامن احتجاج کی حدود سے تجاوز کر گئی تھیں۔
فلسطین ایکشن کیس اب برطانیہ میں سلامتی اور آزادی کے درمیان کشمکش کی علامت بن گیا ہے۔ اگر سپریم کورٹ کا یہ فیصلہ اگلے مراحل میں بھی برقرار رہتا ہے تو حکومت کو انسداد دہشت گردی کے قوانین کے استعمال کے لیے مزید واضح معیارات پیش کرنا ہوں گے۔ بہرحال، اس کیس نے حکومتی اختیارات کی حدود اور برطانیہ کے قانونی ڈھانچے میں سیاسی احتجاج کے مقام پر گہری بحث چھیڑ دی ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا خارجہ پالیسیوں کے خلاف احتجاج میں املاک کو نقصان پہنچانے کو دہشت گردی کے دائرے میں رکھا جا سکتا ہے یا پھر مجرمانہ جرم اور سیکیورٹی خطرے میں فرق کیا جانا چاہیے؟ اس سوال کا حتمی جواب برطانیہ میں سیاسی آزادی کی حدود کو مزید واضح کر سکتا ہے۔

مشہور خبریں۔

سعودی حکومت کے مخالفین میدان میں آنے والے ہیں:امریکی میڈیا کا انتباہ

?️ 3 جنوری 2023سچ خبریں:ایک امریکی اخبار نے سعودی ولی عہد کی آمرانہ پالیسیوں اور

ہند اور وینزویلا میں دوطرفہ تعلقات کو فروغ دینے پر اتفاق

?️ 31 جنوری 2026ہند اور وینزویلا میں دوطرفہ تعلقات کو فروغ دینے پر اتفاق  ہند

نیویارک کے اٹارنی جنرل کی ٹرمپ اور ان کے بچوں کے خلاف شکایت

?️ 22 ستمبر 2022سچ خبریں:    نیویارک کے اٹارنی جنرل نے سابق امریکی صدر ڈونلڈ

کورونا ختم نہیں ہونے والا:عالمی ادارۂ صحت

?️ 14 جولائی 2022سچ خبریں:دنیا بھر میں ایک بار پھر کورونا کے بڑھتے کیسز پر

سندھ میں گورنر راج لگانے کا ابھی کوئی فیصلہ نہیں ہو سکا:شیخ رشید

?️ 18 مارچ 2022اسلام آباد (سچ خبریں )وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے کہا ہے

مفتاح اسماعیل نے ڈالر کی قیمت میں مسلسل اضافہ کی وجوہات بتا دیں

?️ 19 نومبر 2021اسلام آباد (سچ خبریں) سابق وزیر وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے ڈالر

تائیوان کا امریکہ سے مزید ہتھیار خریدنے کا فیصلہ

?️ 5 مارچ 2025سچ خبریں: ایک انٹرویو میں تائیوان کے نائب وزیر خارجہ وو زیزونگ نے

ٹرمپ کا اپنے نام کے اشتہارات کے استحصال پر اعتراض

?️ 3 جون 2024سچ خبریں: ڈونلڈ ٹرمپ کی انتخابی مہم نے کانگریس کی پرائمری میں ٹرمپ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے