غزہ پر بمباری کو لے کر اسرائیل اور امریکہ کے درمیان شدید کشیدگی

غزہ

?️

سچ خبریں: اکثر صیہونی ذرائع ابلاغ نے اعتراف کیا اسرائیل اور وائٹ ہاؤس کے درمیان تعلقات حالیہ دنوں میں غزہ پر بڑے پیمانے پر ہونے والی بمباری اور خطے میں امریکہ کے روایتی حریفوں کے تنازع پر سرد مہری کا شکار ہو گئے ہیں۔

اسپوٹنک نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق صیہونی اخبار یدیوت احرونٹ نے اتوار کے روز اپنی ایک رپورٹ میں غزہ کی پٹی پر بمباری میں اضافے پر اسرائیلی حکام اور وائٹ ہاؤس کے اہلکاروں کے درمیان سنگین تنازعہ کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا کہ اسرائیلی میڈیا کے مطابق حالیہ دنوں میں واشنگٹن کے ساتھ ابیب کے تعلقات دشمنی میں بدل گئے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: امریکہ اور اسرائیل کے درمیان کیا چل رہا ہے؟

اس رپورٹ کی بنیاد پر عبرانی اخبار نے مشرق وسطیٰ میں امریکہ کی موجودہ خارجہ پالیسی کے بارے میں ایک تجزیے میں لکھا ہے کہ امریکی حکومت نے خطے کی موجودہ صورتحال کا اندازہ لگانے میں غلطی کی ہے اور ان کا خیال ہے کہ انسانی بنیادوں پر جنگ بندی پر اصرار کر کے اور غزہ کو ایندھن فراہم کر کے وہ مشرق وسطیٰ میں اپنی سیاسی پوزیشن بہتر کر سکتے ہیں۔

اس صہیونی اخبار نے مزید لکھا کہ امریکی دباؤ کا نتیجہ الٹا ہوگا اور فوج کو جنگ بندی سے پہلے زیادہ سے زیادہ پوائنٹس حاصل کرنے کے لیے فوری حملے کرنے پر مجبور کرے گا جس کے نتیجہ میں ہلاک ہونے والوں اور جنگ کے متاثرین کی تعداد میں اضافہ ہوگا۔

یدیوت احرونٹ نے غزہ جنگ کے حوالے سے واشنگٹن کی کارکردگی پر تنقید جاری رکھتے ہوئے کہا کہ واشنگٹن تل ابیب کی پالیسیوں کے خلاف مشرق وسطیٰ میں جنگ بندی اور استحکام کے قیام کے لیے کوشاں ہے تاکہ روس کے خلاف یوکرین کی جنگ میں اپنے اہداف حاصل کیے جا سکیں اور دوسری طرف چین کے مقابلے میں اپنی بالادستی باقی رکھ سکے۔

اس اخبار نے مزید لکھا ہے کہ صیہونی رہنماؤں اور امریکی سیاست دانوں کی علاقائی پالیسی میں اختلافات ایک نئے دور میں داخل ہو چکے ہیں جن میں شدت آنے کی توقع ہے۔

مزید پڑھیں: امریکہ کا عرب ممالک کی فوج اور اسرائیل کے درمیان ہم آہنگی کے لیے ایک اڈہ قائم کرنے کا اعلان:المانیٹر

اس سلسلے میں بین الاقوامی تعلقات کے سیاسی تجزیہ کار جاسر مطر نے عربی اسکائی نیوز ویب سائٹ کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ نیتن یاہو کی کابینہ نے واشنگٹن کو دنیا کی نظروں میں ایک مشکل پوزیشن میں ڈال دیا ہے ۔

ان کا کہنا ہے کہ وائٹ ہاؤس نے تنازع کے آغاز میں تل ابیب کی سنجیدگی سے حمایت کی تھی لیکن اب غزہ میں عام شہریوں کے قتل عام کی وجہ سے امریکہ ملکی اور غیر ملکی حلقوں کے دباؤ کا شکار ہے۔

مشہور خبریں۔

ترکی کے صدارتی انتخابات کے پہلے مرحلے میں کیا ہوا؟

?️ 17 مئی 2023سچ خبریں:ترکی کے صدارتی اور پارلیمانی دونوں انتخابات میں اردگان-باغچلی اتحاد کے

لاہور: عدالت کا مسلم لیگ (ن) کی ترجمان مریم اورنگزیب کو گرفتار کرکے پیش کرنے کا حکم

?️ 27 نومبر 2023لاہور:(سچ خبریں) لاہور کی انسداد دہشت گردی کی عدالت نے پاکستان مسلم

آدھا رمضان گزر گیا مگر کے پی حکومت نے پیکج کی تقسیم شروع نہیں کی۔ عظمی بخاری

?️ 5 مارچ 2026لاہور (سچ خبریں) عظمیٰ بخاری نے کہا ہے کہ آدھا رمضان گزرنے

کیف دوبارہ جنگ جاری رکھنے کے قابل نہیں

?️ 22 جنوری 2024سچ خبریں:یوکرین کی وزارت دفاع  نے اس بات کی طرف اشارہ کرتے

جان ایف کینیڈی کے قتل سے متعلق ہزاروں دستاویزات کو ڈی کلاسیفائیڈ کر دیا گیا

?️ 16 دسمبر 2021سچ خبریں: اے ایف پی کی خبر کے مطابق موجودہ امریکی انتظامیہ نے

امریکہ کے تباہ کن رویے شامیوں میں عدم تحفظ اور عدم استحکام کا باعث

?️ 26 جنوری 2023سچ خبریں:اقوام متحدہ میں شام کے مستقل نمائندے بسام الصباح نے اس

ہم نے لبنانی عہدیداروں پر حزب اللہ کے ساتھ اتحاد کی وجہ سے پابندی لگا ئی: واشنگٹن

?️ 19 جون 2026سچ خبریں:امریکی محکمہ خارجہ نے ایک بیان میں اعلان کیا ہے کہ

پہلگام حملے کے بعد بھارتی اور پاکستانی رہنماؤں کی لفظی جنگ جاری

?️ 29 اپریل 2025اسلام آباد: (سچ خبریں) بھارت کے زیرانتظام کشمیر کے سیاحتی مقام پہلگام

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے