غزہ میں ہزاروں انڈونیشی فوجیوں کی تعیناتی کی تیاریاں شروع

انڈونیشیا فوج

?️

غزہ میں ہزاروں انڈونیشی فوجیوں کی تعیناتی کی تیاریاں شروع
 ایک صہیونی میڈیا ادارے نے دعویٰ کیا ہے کہ غزہ میں ہزاروں انڈونیشی فوجیوں کی تعیناتی کے لیے ابتدائی انتظامات شروع کر دیے گئے ہیں۔ یہ اقدام ایک بین الاقوامی استحکام فورس کے تحت کیا جا رہا ہے، جو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے غزہ جنگ بندی معاہدے کے دوسرے مرحلے کے 20 نکاتی منصوبے کا حصہ ہے۔
اسرائیلی ٹی وی چینل کان  نے رپورٹ کیا ہے کہ غزہ میں بین الاقوامی استحکام فورس کے قیام کے سلسلے میں انڈونیشی فوجیوں کی تعیناتی کی تیاریاں جاری ہیں۔ اگرچہ ان کی آمد کی حتمی تاریخ کا اعلان نہیں کیا گیا، تاہم انڈونیشیا وہ پہلا ملک ہوگا جو اپنے فوجی غزہ بھیجے گا۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ غزہ کے جنوبی علاقے میں رفح اور خان یونس کے درمیان ایک مخصوص علاقہ انڈونیشی فوجیوں کی تعیناتی کے لیے تیار کیا جا رہا ہے۔ ذرائع کے مطابق یہ علاقہ فوجیوں کو قبول کرنے کے لیے تیار ہے، تاہم رہائشی عمارتوں اور تنصیبات کی تکمیل میں چند ہفتے لگ سکتے ہیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق، انڈونیشی فوجیوں کی تعداد تقریباً آٹھ ہزار ہوگی، جبکہ تل ابیب اور جکارتہ کے درمیان تعیناتی کے ابتدائی منصوبے اور فوجیوں کی منتقلی کے طریقۂ کار پر مذاکرات جاری ہیں۔
اسرائیلی چینل 12 نے بھی دعویٰ کیا ہے کہ انڈونیشیا بین الاقوامی استحکام فورس کے فریم ورک کے تحت آٹھ ہزار فوجی غزہ بھیجے گا، تاہم اس فورس کی قیادت کی جانب سے تاحال اس حوالے سے کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔
منصوبے کے مطابق، یہ بین الاقوامی فورس غزہ میں سکیورٹی آپریشنز کی قیادت، اسلحہ ضبط کرنے، انسانی امداد کی ترسیل اور تعمیرِ نو کے سامان کی فراہمی کو یقینی بنانے کی ذمہ دار ہوگی۔
اس سے قبل انڈونیشیا کے وزیر خارجہ سوگیونو نے کہا تھا کہ غزہ میں تعینات کی جانے والی بین الاقوامی استحکام فورس ایک عارضی اقدام ہے، جو حتمی سیاسی حل تک کے لیے ہوگا۔ انہوں نے واضح کیا کہ غزہ کے لیے حتمی ہدف دو ریاستی حل اور ایک آزاد فلسطینی ریاست کا قیام ہے۔
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے گزشتہ نومبر کے وسط میں ایک قرارداد منظور کی تھی، جس کے تحت غزہ میں عارضی بین الاقوامی استحکام فورس کے قیام کی اجازت دی گئی۔ یہ فورس سلامتی کونسل کی قرارداد 2803 (17 نومبر 2025) کے تحت کام کرے گی۔
اس سے قبل وائٹ ہاؤس نے بھی 16 جنوری کو غزہ میں عبوری انتظامی ڈھانچوں کی منظوری کا اعلان کیا تھا، جن میں کونسل آف پیس، غزہ ایگزیکٹو کونسل، قومی کمیٹی برائے انتظامِ غزہ اور بین الاقوامی استحکام فورس شامل ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ غزہ میں بین الاقوامی فورس کی تعیناتی “بہت جلد” عمل میں آئے گی، تاہم صہیونی حکومت نے ایک بار پھر شرط عائد کی ہے کہ غزہ کو غیر عسکری بنائے بغیر وہ بین الاقوامی فورس کے داخلے کی اجازت نہیں دے گی۔

مشہور خبریں۔

نکولس برنز نے چین میں امریکی سفارتخانہ سنبھالا

?️ 5 مارچ 2022سچ خبریں: بیجنگ میں امریکی سفارت خانے نے ایک ٹویٹ میں اعلان کیا

گزشتہ چند دنوں کی کارروائیوں نے صیہونیوں کی کمزوریوں کو ثابت کردیا:فلسطینی میڈیا

?️ 18 اکتوبر 2022سچ خبریں:فلسطینی میڈیا نے مغربی کنارے اور یروشلم میں مزاحمتی تحریک کی

مشہور ضرب المثل کوئی بھوک سے نہیں مرتا ؛غزہ میں بے معنی

?️ 15 جولائی 2025 سچ خبریں:غزہ میں اسرائیلی محاصرے اور گہری قحط سالی کے باعث

جموں کشمیر کے تنازع پر پاکستان کے اصولی مؤقف میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے

?️ 3 اپریل 2021اسلام آباد(سچ خبریں) ہفتہ وار پریس بریفنگ کے دوران ترجمان دفتر خارجہ

کارائیب میں بڑھتی کشیدگی کے باعث تیل کی قیمتوں میں اضافہ

?️ 2 دسمبر 2025 کارائیب میں بڑھتی کشیدگی کے باعث تیل کی قیمتوں میں اضافہ

ٹرمپ کی بیٹی نے کانگریس پر حملے کے دن گواہی دینے سے کیا انکار

?️ 21 جنوری 2022سچ خبریں:  ایوانکا ٹرمپ سابق امریکی صدر کی بیٹی نے جمعرات کو

ایک غیر قانونی ریاست کا سربراہ جس کی اس کے گھر میں بھی نہیں چلتی

?️ 17 جون 2023سچ خبریں:ایک صیہونی اخبار نے قابض حکومت کے وزیر اعظم کو ایک

فلسطینی قوم کا کوئی وجود نہیں:انتہاپسند صیہونی وزیر

?️ 16 نومبر 2025سچ خبریں:صیہونی وزیرِ داخلہ ایتمار بن گویر نے دعویٰ کیا کہ فلسطینی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے