غزہ جنگ میں اجتماعی خودکشی اور، ڈپریشن کا باعث؛صیہونی فوجیوں کا اعتراف

غزہ جنگ میں اجتماعی خودکشی اور، ڈپریشن کا باعث؛صیہونی فوجیوں کا اعتراف

?️

سچ خبریں:صیہونی فوجیوں نے غزہ کی جنگ میں شدید ذہنی دباؤ، خودکشی کے بڑھتے واقعات اور جنگ کی بے مقصدیت کا اعتراف کیا ہے۔ فوجی کہتے ہیں: ہم تھک چکے ہیں، ہماری جان کی کوئی قدر نہیں۔

غزہ کی جنگ کے ابتدائی مہینوں سے ہی صیہونی فوجیوں میں ذہنی بیماریوں، ڈپریشن اور خودکشی کی رپورٹس سامنے آ رہی ہیں۔ اب عبرانی میڈیا نے خود فوجیوں کے بیانات پر مبنی ایک رپورٹ شائع کی ہے جس میں جنگ کے محاذ پر تعینات اسرائیلی فوجی اپنی حالت زار، اجتماعی کابوس اور خودکشی کے بڑھتے واقعات کا اعتراف کر رہے ہیں۔
فوجیوں کا کہنا ہے کہ ہم تھک چکے ہیں، زندگی کابوس بن گئی ہے،ایک 22 سالہ پیادہ فوجی "شاحر” نے بتایا کہ جنگ کے آغاز میں جوش و جذبہ تھا، لیکن جلد ہی یہ شدید تھکن اور موت کے خوف میں بدل گیا۔ اب جب بھی غزہ واپسی کا حکم ملتا ہے، پورا جسم کانپنے لگتا ہے اور ہاتھ اس قدر تھک چکے ہیں کہ ہتھیار سنبھالنا مشکل ہو جاتا ہے۔ ڈاکٹرز اسے نفسیاتی علامات بتاتے ہیں، لیکن کمانڈرز اسے نظرانداز کرتے ہیں۔
ایک اور فوجی "نوآم” نے کہا کہ جنگ کے آغاز میں سب کو اپنے مشن کا علم تھا، مگر اب ہم دفاعی پوزیشن میں ہیں، مقصد اور حوصلہ ختم ہو چکا ہے۔ فوج میں اب جان سے زیادہ اسلحہ اور گولہ بارود کو اہمیت دی جاتی ہے۔ اس نے اعتراف کیا کہ کئی ساتھی خودکشی کر چکے ہیں اور ہم سب شدید ذہنی دباؤ میں ہیں۔
ایک 23 سالہ کمانڈر "آمیر” نے بتایا کہ چند فوجیوں نے آگے بڑھنے سے انکار کیا اور کہا کہ یہ خودکشی ہے، مگر انہیں گرفتار کر لیا گیا۔ اس نے کہا کہ فوجی اب صرف مشینوں کی طرح ہیں، ان کی جان کی کوئی قدر نہیں۔ ایک دوست تھکن کے باعث گاڑی چلاتے ہوئے سو گیا اور ایک ساتھی کو کچل دیا، لیکن فوج نے اسے حادثہ قرار دیا۔
ایک 24 سالہ فوجی "بن” نے کہا کہ مستقل جنگ نے ہماری زندگی ختم کر دی ہے۔ ریزرو فوجی تو وقفے سے گھر جا سکتے ہیں، مگر ہم مستقل محاذ پر ہیں اور ہمیں نہیں معلوم کہ عام زندگی کیسی ہوتی ہے۔ کئی ریزرو فوجیوں نے بھی خودکشی کی ہے اور ہمیں لگتا ہے کہ ہمارا بھی یہی انجام ہو گا۔ فوج اور معاشرہ ہمیں صرف مشین سمجھتے ہیں۔
"محاذ پر موجود مائیں” نامی تنظیم کی سربراہ نے بتایا کہ درجنوں فوجیوں کی ماؤں نے رابطہ کر کے بتایا کہ ان کے بچے شدید ذہنی دباؤ اور پوسٹ ٹرامیٹک اسٹریس ڈس آرڈر (PTSD) کا شکار ہیں، ریزرو فوجی تو چھٹی لے سکتے ہیں، مگر مستقل فوجی لمبے عرصے تک جنگ میں رہنے پر مجبور ہیں اور ان کی کارکردگی اور ذہنی صحت بری طرح متاثر ہو رہی ہے۔
رپورٹ میں واضح کیا گیا کہ اسرائیلی فوجیوں میں ذہنی مسائل اور خودکشی کا سبب فلسطینیوں پر مظالم کا احساس جرم نہیں، بلکہ مزاحمت کاروں کی جانب سے ملنے والی شدید اور غیر متوقع ضربات ہیں۔
ایک فوجی "آلون” نے بتایا کہ غزہ میں تین ہفتے لڑائی کے بعد ایک راکٹ حملے میں اس کا کمانڈر مارا گیا اور دوسرا افسر شدید زخمی ہوا۔ وہ خود بھی شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہو گیا اور اب مزید لڑنے کی ہمت نہیں رہی۔

مشہور خبریں۔

ایسا پلیٹ فارم چاہتے ہیں، جہاں معاملات پر غور اور مجموعی سیاسی حل سامنے آئے، مولانا فضل الرحمٰن

?️ 25 جنوری 2025پشاور: (سچ خبریں) امیر جمعیت علمائے اسلام (ف) مولانا فضل الرحمٰن نے

بھارت شروع سے کرکٹ میں پاکستان کیخلاف سازش کرتا رہا ہے

?️ 18 ستمبر 2021اسلام آباد (سچ خبریں) تحریک انصاف کے مرکزی رہنماء سینیٹر فیصل جاوید

ٹرمپ پر پھر تیسرے ممکنہ قاتلانہ حملے کی نئی تفصیلات

?️ 14 اکتوبر 2024سچ خبریں: ایک شخص، جسے سابق امریکی صدر اور 2024 کے صدارتی

190ملین پاؤنڈ کیس: عمران خان اور بشریٰ بی بی کا سزا کے خلاف اسلام آبادہائیکورٹ سے رجوع

?️ 27 جنوری 2025اسلام آباد: (سچ خبریں) پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان اور

مغربی کنارے اور ایران اسرائیل کے لیے سب سے بڑے چیلنج ہیں: عبرانی میڈیا

?️ 23 جنوری 2023سچ خبریں:عبرانی زبان کے اخبار معاریو نے اعتراف کیا ہے کہ اسرائیل

بھارت کے پاس پانی روکنے یا بہاؤ میں تبدیلی کا کوئی جواز نہیں: انڈس واٹر کمشنر

?️ 19 دسمبر 2025اسلام آباد: (سچ خبریں) انڈس واٹر کمشنر پاکستان مہر علی شاہ نے

شہباز شریف کے کمر درد کو شہباز گل نے بہانہ قرار دیا

?️ 30 ستمبر 2021لاہور (سچ خبریں) وزیراعظم عمران خان کے معاون خصوصی ڈاکٹر شہباز گل

اسرائیل کی وحشیانہ جارحیت کا سلسلہ جاری

?️ 30 دسمبر 2023سچ خبریں:شام کی وزارت خارجہ نے شام کی سرزمین پر غاصب صیہونی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے