عبوری شامی حکومت کے پوتین سے کیا مطالبات ہیں؟

عبوری

?️

عبوری شامی حکومت کے پوتین سے کیا مطالبات ہیں؟
شام کی عبوری حکومت کے وزیرِ خارجہ اسعد حسن الشیبانی نے روسی صدر ولادیمیر پوتین سے ملاقات کے ایک روز بعد ماسکو میں اپنے روسی ہم منصب سرگئی لاوروف سے تفصیلی گفتگو کی، جس میں دمشق کی جانب سے ماسکو سے کیے گئے اہم مطالبات اور ان پر عمل درآمد کے طریقۂ کار پر غور کیا گیا۔
 لاوروف نے بدھ کے روز اس ملاقات میں کہا کہ الشیبانی کی صدر پوتین سے ہونے والی بات چیت انتہائی مثبت رہی، جس میں دوطرفہ تعلقات اور علاقائی صورتحال پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ شامی وزیرِ خارجہ نے اس ملاقات میں بین الاقوامی سطح پر روس کے ساتھ تعاون پر اطمینان کا اظہار کیا اور تعلقات کو مزید گہرا کرنے کی خواہش ظاہر کی۔
لاوروف کے مطابق، بدھ کی ملاقات ان مطالبات کا تفصیلی جائزہ لینے اور ان کے حصول کے عملی راستوں پر بات کرنے کا ایک اہم موقع ہے۔ انہوں نے اس موقع پر اس بات پر بھی زور دیا کہ روس شام کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور آزادی کے لیے اپنی غیرمشروط حمایت جاری رکھے گا۔
اس موقع پر اسعد حسن الشیبانی نے کہا کہ دمشق اور ماسکو کے تعلقات ایک نئے مرحلے میں داخل ہو رہے ہیں۔ ان کے مطابق گزشتہ سال شام کے لیے نہایت اہم رہا، کیونکہ 14 سالہ جنگ کے خاتمے نے ملک کو ایک نئے دور میں داخل کیا۔
شامی سرکاری خبر رساں ادارے سانا کے مطابق، منگل کے روز شامی عبوری حکومت کے وزرائے خارجہ اور دفاع نے صدر پوتین سے ملاقات کی تھی، جس میں سیاسی، فوجی اور معاشی تعاون پر جامع بات چیت ہوئی۔ شامی وفد نے خاص طور پر اسٹریٹجک تعاون کے فروغ، بالخصوص فوجی صنعت کے شعبے میں شراکت داری پر زور دیا۔
رپورٹ کے مطابق، شام نے روس سے اپنی دفاعی صلاحیت بڑھانے، فوجی سازوسامان کو جدید بنانے، تکنیکی مہارت کی منتقلی اور تحقیق و ترقی کے شعبوں میں تعاون کی درخواست کی ہے۔ ان اقدامات کا مقصد شامی قومی دفاعی نظام کو مضبوط بنانا اور ملک و خطے میں استحکام کو یقینی بنانا بتایا گیا ہے۔
سیاسی محاذ پر دونوں ممالک نے علاقائی اور عالمی صورتحال کا جائزہ لیا اور بین الاقوامی فورمز پر قریبی سیاسی و سفارتی ہم آہنگی کی اہمیت پر زور دیا۔ ساتھ ہی بین الاقوامی قوانین کے احترام اور داخلی امور میں بیرونی مداخلت کی مخالفت پر اتفاق کیا گیا۔
اقتصادی شعبے میں شامی حکومت نے روس سے تعمیرِ نو کے منصوبوں میں مدد، بنیادی ڈھانچے کی بحالی، سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی اور دوطرفہ تجارت بڑھانے کی خواہش ظاہر کی۔
سانا کے مطابق، صدر پوتین نے اس ملاقات میں شام کی وحدت اور مکمل خودمختاری کی حمایت کا اعادہ کیا اور ملک کی تقسیم یا قومی فیصلوں کی خودمختاری کو نقصان پہنچانے والے کسی بھی منصوبے کو مسترد کر دیا۔
مبصرین کے مطابق، عبوری شامی حکومت کے یہ مطالبات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ دمشق نہ صرف جنگ کے بعد فوجی اور سیاسی استحکام چاہتا ہے بلکہ روس کے ساتھ قریبی تعلقات کے ذریعے معاشی بحالی اور بین الاقوامی سطح پر اپنی پوزیشن کو بھی مضبوط بنانا چاہتا ہے۔

مشہور خبریں۔

مودی حکومت مقبوضہ جموں وکشمیرمیں اپنے جرائم کو چھپانے کی کوشش کر رہی ہے: مسرت عالم بٹ

?️ 12 اپریل 2023نئی دہلی: (سچ خبریں) کل جماعتی حریت کانفرنس کے نظر بند چیئرمین

السیسی کا یمن کے سیاسی حل کے لیے مصر کی حمایت پر زور

?️ 5 مئی 2023سچ خبریں:یمن کی صدارتی کونسل کے وزیر دفاع محسن الداعری نے مصر

ہم نے سفارتی تعلقات کے ذریعے ترکی کی پوزیشن کو بہتر کیا ہے: اردوغان

?️ 14 اگست 2022سچ خبریں:    ترکی کے صدر رجب طیب اردوغان نے کل ہفتہ

امریکی دہشت گردوں کا ایرانی کنٹینر جہاز پر حملہ

?️ 20 اپریل 2026 سچ خبریں:امریکی دہشت گرد فوجیوں نے چند گھنٹے قبل خلیج عمان

یمن کے خلاف سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کی خطرناک سازشیں

?️ 13 دسمبر 2025سچ خبریں: صنعا میں نیشنل سالویشن گورنمنٹ کے وزیر خزانہ عبدالجبار احمد نے

کولمبیا کا امریکہ پر الزام

?️ 19 اکتوبر 2025سچ خبریں:کولمبیا کے صدر گوستاوو پیٹرو نے امریکہ پر الزام لگایا ہے

اسرائیلی دہشت گردی اور غزہ کا دفاع کرنے والے مزاحمتی تحریکوں کے راکٹ

?️ 23 جون 2021واشنگٹن (سچ خبریں)  یہ 21 مئی 2021 کی شام ہے۔اسرائیل کے یہودی اپنا

ایران اسرائیل جنگ میں فتح کس کی ہوئی؛رأی الیوم کی زبانی

?️ 25 جون 2025 سچ خبریں:رأی الیوم نے اپنے تازہ تجزیے میں کہا ہے کہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے