صیہونی ریاست بین الاقوامی سطح پر تنہائی کا شکار

صیہونی ریاست

?️

سچ خبریں: اسرائیلی اخبار "گلوبس” نے اپنی رپورٹ میں بین الاقوامی سطح پر صیہونی ریاست کی تنہائی کی صورت حال کو اجاگر کیا ہے۔ یوآف کارنی، واشنگٹن میں اس میڈیا کے نامہ نگار، نے غزہ پٹی میں جاری صیہونی ریاست کے مظالم اور اس کے نتیجے میں عالمی سطح پر اسرائیل کی بڑھتی ہوئی تنہائی کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالی ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے:15 مئی کو ڈچ اخبار "NRC”، جو ایک معتبر لبرل اخبار ہے، نے اپنے فرسٹ پیج پر 7 نسل کشی کے ماہرین کے آراء شائع کیے، جس میں ڈچ عوام کو یاد دلایا گیا کہ 77 سال قبل صیہونیوں نے کیا کیا تھا۔
گلوبس نے صیہونی ریاست کے مظالم کو جواز دینے کی کوشش کے بعد لکھا کہ اس مضمون کا عنوان تھا کہ تقریباً تمام ماہرین کا ماننا ہے کہ اسرائیل غزہ میں نسل کشی کر رہا ہے۔ ان ماہرین میں دو اسرائیلی بھی شامل تھے—راز سیگال (سٹاکٹن یونیورسٹی، نیو جرسی) اور سیموئل لیرڈمین (حیفا یونیورسٹی)۔
مصنف کے مطابق، اس معتبر اور وسیع پیمانے پر پڑھے جانے والے اخبار کا یہ اقدام اسرائیل کے خلاف اعلان جنگ کے مترادف ہے اور ظاہر کرتا ہے کہ ڈچ لبرل ازم میں اسرائیل مخالف رجحان کس حد تک پہنچ چکا ہے، جو اب صرف بائیں بازو تک محدود نہیں۔
گلوبس نے مزید لکھا کہ ایک اور ڈچ اخبار "ہیٹ پارول” نے بھی "یوم نکبہ” کے موقع پر اپنے فرسٹ پیج پر لکھا کہ فلسطینیوں کو جبراً بے دخل کیا جا رہا ہے—یہ سلسلہ 1948 سے جاری ہے۔ یہ اخبار ہولوکاسٹ کے دور میں نازی مخالف تحریک کا ترجمان سمجھا جاتا تھا۔ اخبار نے زور دے کر کہا کہ "غزہ میں جو کچھ ہو رہا ہے، وہ دنیا کی سب سے واضح نسل کشی ہے۔
ایک اور ڈچ اخبار "ٹرو” نے اپنے اداریے میں ہولوکاسٹ اور غزہ میں نسل کشی کا موازنہ کیا۔ یہ اداریہ نازی جرمنی کے ہتھیار ڈالنے کی 80ویں سالگرہ کے موقع پر شائع ہوا۔
اسی تناظر میں، اسرائیلی اخبار "معاریو” نے ایک مضمون میں اسرائیلی قیادت کو خبردار کیا کہ غزہ میں مظالم کی وجہ سے اسرائیل کے خلاف پابندیاں اور عالمی رویہ دن بدن بڑھ رہا ہے اور ایک دن اسرائیل پابندیوں کے سونامی کا سامنا کرے گا۔
مضمون میں بتایا گیا کہ ایک یونیورسٹی ریسرچ سینٹر کو حال ہی میں ایک برطانوی کمپنی کی طرف سے ای میل موصول ہوئی جس میں یونیورسٹی کے لیبارٹری سازوسامان کی فروخت کا معاہدہ منسوخ کر دیا گیا۔ کمپنی نے لکھا کہ وہ اس ڈیل کو ختم کرنے کا فیصلہ کر چکی ہے اور یونیورسٹی کو کسی اور فروخت کنندہ کی تلاش کرنی چاہیے۔
مضمون کے مصنف سیموئل رازنر کا کہنا ہے کہ یہ چھوٹی چھوٹی لہریں جو ابھر رہی ہیں، وہ ایک بڑے سیاسی سونامی کی شکل اختیار کر سکتی ہیں جو پورے اسرائیل کے لیے خطرہ بن جائے گا۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر اب یا مستقبل میں یہ سونامی نہیں بھی آتا، تو اس بات کی کوئی ضمانت نہیں کہ آنے والے وقتوں میں پابندیوں کا یہ طوفان نہیں اٹھے گا۔

مشہور خبریں۔

قطر کی اسرائیل کے ساتھ تعلقات کی شرط

?️ 5 جون 2021سچ خبریں:قطری وزیر خارجہ نے زور دے کر کہا کہ جب تک

اسٹیبلشمنٹ اب بھی نیوٹرل نہیں ہے، عمران خان کا دعویٰ

?️ 7 جنوری 2023اسلام آباد(سچ خبریں) پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین عمران

فلسطینی قیدی مغربی کنارے تک کیوں نہیں پہنچے؟

?️ 12 ستمبر 2021سچ خبریں:کچھ تجزیہ کاروں نے چھ فلسطینی اسیروں کی عظیم کامیابیوں کا

غزہ کی سڑکوں کی صفائی کا آغاز، امدادی کارروائیوں کی رفتار سست

?️ 14 اکتوبر 2025 سچ خبریں: غزہ سے المیادین نیٹ ورک کے نامہ نگار نے

وزیراعظم کا نوشہرہ کی صورتحال کا جائزہ

?️ 29 اگست 2022نوشہرہ: (سچ خبریں)دریائے کابل میں نوشہرہ کے مقام پر پانی کی سطح

امریکی افسروں اور خفیہ اڈوں کی معلومات ہمارے پاس ہیں: حنظله ہیکر گروپ

?️ 3 جون 2026سچ خبریں:حنظله سائبر کمان نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی افسران اور

امریکہ کا لبنان میں حزب‌الله کے خلعِ اسلحہ ہونے پر زور

?️ 27 اگست 2025امریکہ کا لبنان میں حزب‌الله کے خلعِ اسلحہ ہونے پر زور  امریکی

ہم صرف مشاورتی اجلاس کیلئے لاہور جا رہے ہیں کوئی جلسہ یا احتجاج نہیں کر رہے ، بیرسٹرگوہر

?️ 12 جولائی 2025اسلام آباد: (سچ خبریں) پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹرگوہر کا کہنا

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے