شہید قاسم سلیمانی میدانِ جنگ میں موجود رہنے والے کمانڈر تھے

انصاراللہ

?️

شہید قاسم سلیمانی میدانِ جنگ میں موجود رہنے والے کمانڈر تھے

یمن کی تحریک انصاراللہ کے سیاسی دفتر کے رکن نے کہا ہے کہ شہید سپہبد قاسم سلیمانی ایک ایسے فوجی کمانڈر تھے جو صرف منصوبہ بندی کے کمروں تک محدود نہیں رہے بلکہ ہمیشہ عملی طور پر میدانِ جنگ اور محاذِ اول میں موجود رہے۔

انصاراللہ کے سیاسی دفتر کے رکن حزام الاسد نے شہید قاسم سلیمانی کی شہادت کی چھٹی برسی کے موقع پر بین الاقوامی خبر رساں ادارے کو دیے گئے بیان میں کہا کہ حاج قاسم ایک روایتی فوجی کمانڈر نہیں تھے، بلکہ قیادت کی ایک منفرد اور ارتقائی مثال تھے۔ ان کی قیادت ایمان، اسٹریٹجک بصیرت، عملی عاجزی اور امتِ مسلمہ اور مظلوم اقوام سے گہرے تعلق کا امتزاج تھی۔

انہوں نے کہا کہ شہید سلیمانی ایک فداکار اور عملی کمانڈر تھے جو خطرناک مقامات اور محاذِ جنگ میں مجاہدین کے شانہ بشانہ موجود رہتے تھے۔ وہ صرف منصوبہ سازی تک محدود نہیں تھے بلکہ عملی طور پر لڑائی کی قیادت کرتے تھے۔

حزام الاسد کے مطابق شہید سلیمانی میدانِ جنگ کے حالات کو گہرائی سے سمجھنے اور مقامی واقعات کو علاقائی و عالمی تبدیلیوں سے جوڑنے کی غیرمعمولی صلاحیت رکھتے تھے۔ ان کی نمایاں خصوصیات میں اخلاص اور صداقت شامل تھیں؛ وہ ذاتی شہرت یا میڈیا کی توجہ کے خواہاں نہیں تھے بلکہ خاموشی سے عمل کرتے اور ان کے کارنامے خود بولتے تھے۔

انہوں نے مزید کہا کہ شہید سلیمانی انسانی اور اخلاقی اقدار کے حامل تھے اور مزاحمتی قوتوں اور اقوام کے ساتھ شراکت اور احترام کی بنیاد پر تعلقات رکھتے تھے، نہ کہ حکم چلانے یا بالادستی کے انداز میں۔

انصاراللہ کے رہنما نے کہا کہ شہید قاسم سلیمانی داعش اور دیگر دہشت گرد تنظیموں کے خلاف جدوجہد میں پیش پیش رہے۔ انہوں نے نہ صرف عسکری سطح پر مقابلہ کیا بلکہ ان سیاسی اور سیکیورٹی عوامل کو بھی سمجھا اور کمزور کیا جن کے نتیجے میں ایسی تنظیمیں وجود میں آئیں۔ ان کے نزدیک نام نہاد “تخلیقی انتشار” کا منصوبہ خطے کو فرقہ واریت کے ذریعے ازسرنو تشکیل دینے کی کوشش تھا، جو امریکا اور صہیونی مفادات کے لیے تیار کیا گیا تھا۔

ان کے مطابق عراق، شام اور لبنان میں شہید سلیمانی کی موجودگی نے ان ممالک کو تباہی اور ٹوٹ پھوٹ سے بچایا، خطے میں توازنِ طاقت کو برقرار رکھا اور وسیع پیمانے پر جنگ کے امکانات کو کم کیا۔

حزام الاسد نے کہا کہ شہید سلیمانی کے نزدیک مسئلہ فلسطین امتِ مسلمہ کا مرکزی مسئلہ تھا اور تمام مزاحمتی منصوبوں کا معیار بھی۔ وہ نہیں چاہتے تھے کہ فلسطین کا مسئلہ محض ایک انسانی یا ثانوی موضوع بن کر رہ جائے، بلکہ اس کی ایمانی اور جہادی حیثیت برقرار رہے۔

انہوں نے فلسطینی مزاحمت کی عسکری، لاجسٹک اور معنوی مدد کی اور اسے ایک متحد محورِ مزاحمت کا حصہ بنانے کے لیے کام کیا جو فلسطین سے لبنان، شام، عراق اور یمن تک پھیلا ہوا ہے۔ ان کے بقول، غزہ کی مزاحمت اور صہیونی ریاست کے خلاف بازدارانہ طاقت اسی مسلسل اور مخلصانہ حمایت کا نتیجہ ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ شہید سلیمانی نے اسلامی وحدت کے فروغ میں بھی اہم کردار ادا کیا۔ وہ فرقہ وارانہ اختلافات کو امت کے خلاف سب سے خطرناک ہتھیار سمجھتے تھے، اسی لیے مشترکہ دشمن کے مقابلے میں اتحاد پر زور دیتے تھے۔ ان کی حمایت کسی خاص مسلک تک محدود نہیں تھی بلکہ مظلوم کی حمایت، استکبار کی مخالفت اور قابض قوتوں کے خلاف مزاحمت پر مبنی تھی۔

واضح رہے کہ شہید سپہبد قاسم سلیمانی، کمانڈر نیروی قدس سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی، اور عراقی عوامی رضاکار فورس (الحشد الشعبی) کے نائب سربراہ ابو مہدی المهندس، 3 جنوری 2020 کو بغداد ایئرپورٹ کے قریب امریکی فضائی حملے میں شہید ہوئے تھے۔ یہ حملہ امریکی صدر کے حکم پر کیا گیا تھا۔

مشہور خبریں۔

الشعرا کی ٹرمپ سے امریکا میں ملاقات پر ترکی کی تشویش

?️ 11 نومبر 2025سچ خبریں: واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے کہ ترکی، دمشق-واشنگٹن

صہیونی اخبار: اسرائیلی فوج غزہ کی دلدل میں پھنسی ہوئی ہے

?️ 15 جولائی 2025سچ خبریں: صیہونی اخبار نے کہا ہے کہ حکومت کی فوج غزہ

مغربی کنارے کے خلاف صہیونی وزیر کا خفیہ منصوبہ سامنے آیا

?️ 22 جون 2024سچ خبریں: امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے ایک آڈیو فائل کا انکشاف کیا

وفاقی بجٹ میں غریبوں کا کتنا حصہ ہے؟

?️ 26 جون 2024سچ خبریں: پاکستان پیپلزپارٹی کی رہنما اور صدر پاکستان آصف زرداری کی

ورلڈ کپ کے دوران بھارت پاکستانی کرکٹ ٹیم کو تحفظ فراہم کرے، دفتر خارجہ

?️ 5 اکتوبر 2023اسلام آباد: (سچ خبریں) دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ ورلڈ کپ

26 ویں ترمیم کیس: 8 رکنی آئینی بینچ نے لائیو اسٹریمنگ کی درخواست منظور کرلی

?️ 7 اکتوبر 2025اسلام آباد: (سچ خبریں) سپریم کورٹ میں جسٹس امین الدین خان کی

غزہ میں قحط کی وجہ سے فوری جنگ بندی کی ضرورت ہے:اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل

?️ 24 اگست 2025غزہ میں قحط کی وجہ سے فوری جنگ بندی کی ضرورت ہے:اقوام

اختلافات خطرہ نہیں بلکہ سیکھنے اور آگے بڑھنے کے مواقع ہیں۔ وزیراعظم

?️ 28 جنوری 2026اسلام آباد (سچ خبریں) وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ دنیا

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے