سوڈان مین 2025 میں طویل خانہ جنگی اور دنیا کا بدترین انسانی بحران

سوڈان

?️

سوڈان مین 2025 میں طویل خانہ جنگی اور دنیا کا بدترین انسانی بحران

سوڈان میں جاری خانہ جنگی 2025 میں تیسرے سال میں داخل ہو چکی ہے اور یہ ملک اس وقت دنیا کے سب سے سنگین انسانی بحران کا سامنا کر رہا ہے۔ اپریل 2023 میں سوڈانی فوج اور نیم فوجی گروہ ’’ریپڈ سپورٹ فورسز‘‘ کے درمیان شروع ہونے والی لڑائی نہ صرف ختم نہیں ہو سکی بلکہ وقت گزرنے کے ساتھ مزید پھیلتی چلی گئی، جس کے نتیجے میں ریاستی ڈھانچہ ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو گیا اور عام شہری سب سے زیادہ متاثر ہوئے۔

بین الاقوامی اور علاقائی رپورٹس کے مطابق جنگ کے آغاز سے اب تک تقریباً ایک لاکھ پچاس ہزار افراد ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ صرف 2025 کے دوران ہزاروں شہری جان سے گئے، جن میں بڑی تعداد خواتین اور بچوں کی ہے۔ دارفور، خرطوم اور کردفان کے علاقے سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں جہاں رہائشی علاقوں، بازاروں اور پناہ گزین کیمپوں پر حملے معمول بن چکے ہیں۔ اندھا دھند بمباری اور مسلح جھڑپوں نے شہریوں کی زندگی کو مسلسل خطرے میں ڈال رکھا ہے۔

سوڈان اس وقت دنیا میں جبری بے گھری کا سب سے بڑا مرکز بن چکا ہے۔ ملک کے اندر ایک کروڑ بیس لاکھ سے زائد افراد اپنے گھروں سے بے دخل ہو چکے ہیں جبکہ چالیس لاکھ سے زیادہ افراد مصر، چاڈ، جنوبی سوڈان، ایتھوپیا اور دیگر ہمسایہ ممالک میں پناہ لینے پر مجبور ہوئے ہیں۔ پناہ گزین کیمپوں میں خوراک، صاف پانی، طبی سہولیات اور سکیورٹی کی شدید کمی ہے اور خواتین و بچے سب سے زیادہ غیر محفوظ ہیں۔

غذائی بحران 2025 میں خطرناک حد تک بڑھ گیا ہے۔ اندازوں کے مطابق دو کروڑ ساٹھ لاکھ سے زائد افراد شدید بھوک کا شکار ہیں اور کئی علاقوں میں باضابطہ طور پر قحط کا اعلان کیا جا چکا ہے۔ دارفور کے زمزم کیمپ سمیت متعدد علاقوں میں لوگ بھوک سے جانیں گنوا رہے ہیں۔ امدادی راستوں کی بندش، لوٹ مار اور محاصروں نے انسانی امداد کو تقریباً ناممکن بنا دیا ہے۔

جنگ نے سوڈان کے صحت کے نظام کو مکمل طور پر مفلوج کر دیا ہے۔ تقریباً اسی فیصد اسپتال اور طبی مراکز بند ہو چکے ہیں یا شدید نقصان کا شکار ہیں۔ طبی عملے پر حملے، ادویات کی قلت اور سہولیات کی تباہی کے باعث وبا، ملیریا اور ڈینگی جیسی بیماریاں تیزی سے پھیل رہی ہیں۔ ہیضے کی وبا نے ہزاروں جانیں لے لی ہیں اور عالمی ادارہ صحت نے صورتحال کو نہایت تشویشناک قرار دیا ہے۔

تعلیم کا شعبہ بھی اس جنگ کی نذر ہو گیا ہے۔ ایک کروڑ ستر لاکھ سے زائد بچے اسکول سے باہر ہیں جبکہ ہزاروں تعلیمی ادارے تباہ یا پناہ گاہوں اور فوجی مراکز میں تبدیل ہو چکے ہیں۔ جامعات کی بندش کے باعث ایک پوری نسل کا مستقبل خطرے میں پڑ گیا ہے اور ماہرین اسے سوڈان کے لیے ایک خاموش مگر تباہ کن بحران قرار دے رہے ہیں۔

انسانی حقوق کی صورتحال بھی بدترین سطح پر پہنچ چکی ہے۔ قتل، جبری گمشدگیاں، نسلی بنیادوں پر تشدد اور جنسی جرائم کے بے شمار واقعات رپورٹ ہوئے ہیں۔ خواتین اور بچیاں خاص طور پر جنسی تشدد کا نشانہ بن رہی ہیں اور کئی علاقوں میں اجتماعی قبریں دریافت ہوئی ہیں۔ اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کی تنظیمیں ان جرائم کو ممکنہ جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم قرار دے رہی ہیں۔

میدانی سطح پر 2025 میں کچھ علاقوں میں طاقت کا توازن بدلا ہے۔ فوج نے خرطوم کے بعض حصے دوبارہ حاصل کیے تاہم یہ کامیابیاں پائیدار ثابت نہ ہو سکیں۔ اس کے برعکس ریپڈ سپورٹ فورسز نے دارفور کے بیشتر علاقوں پر کنٹرول مضبوط کر لیا اور فاشر جیسے اہم شہر کے سقوط نے بحران کو مزید گہرا کر دیا۔ یہاں بڑے پیمانے پر ہلاکتوں اور جبری نقل مکانی کی اطلاعات سامنے آئیں۔

سال کے اختتام تک نہ تو کوئی فیصلہ کن عسکری کامیابی حاصل ہو سکی اور نہ ہی سیاسی حل کی کوئی واضح امید نظر آئی۔ عالمی برادری کی سفارتی کوششیں کمزور ثابت ہوئیں اور امدادی وسائل ضرورت سے کہیں کم رہے۔ ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ اگر جنگ جاری رہی تو سوڈان مکمل ریاستی ناکامی، علاقائی عدم استحکام اور انسانی تباہی کے ایک نئے مرحلے میں داخل ہو سکتا ہے، جس کے اثرات پورے خطے تک پھیلنے کا خدشہ ہے۔

مشہور خبریں۔

رئیسی کا دورۂ روس امریکی تخریب کاری کے خلاف ایک اہم قدم ہے: پاکستانی محقق

?️ 21 جنوری 2022اسلام آباد (سچ خبریں) پاکستان ڈیولپمنٹ اینڈ کمیونیکیشن ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے

تحریک انصاف عمران خان کی صحت کیلئے فکرمند ہے۔ سلمان اکرم راجہ

?️ 30 جنوری 2026اسلام آباد (سچ خبریں) پی ٹی آئی کے سینئر رہنما سلمان اکرم

ماورا حسین کی راحت فتح پر بنائے گئے پیروڈی گانے کی ویڈیو وائرل

?️ 25 فروری 2024کراچی: (سچ خبریں) اداکارہ ماورا حسین کی جانب سے راحت فتح علی

مشکوک خط کا معاملہ: ملک بھر کے پوسٹ آفس کو الرٹ جاری

?️ 5 اپریل 2024اسلام آباد: (سچ خبریں) ڈائیریکٹر جنرل (ڈی جی) پاکستان پوسٹ نے اعلیٰ

بلاول بھٹو کی مولانا فضل الرحمان سے ملاقات، کشمیر کی سیاسی صورتحال پر تبادلہ خیال

?️ 27 اکتوبر 2025اسلام آباد (سچ خبریں) چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کی

صہیونی وزیر کی فلسطینیوں کو پھانسی دینے کی شرمناک درخواست

?️ 6 اپریل 2022سچ خبریں:  اسرائیل کے چینل 14 ٹیلی ویژن نے گزشتہ رات فلسطینیوں

پارٹی رہنماؤں کی گرفتاری کے خلاف پی ٹی آئی کا اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع

?️ 9 اکتوبر 2022اسلام آباد: (سچ خبریں) پاکستان تحریک انصاف  نے ایف آئی اے کی

عدالتی معاون منیر اے ملک نے عمران خان کے خلاف توہین عدالت کارروائی کی مخالفت کر دی

?️ 8 ستمبر 2022اسلام آباد: (سچ خبریں) اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے