سعودی عرب اور پاکستان کا دفاعی معاہدہ، خطے میں نیا توازن اور بھارت کی بڑھتی تشویش

سعودی پاکستان

?️

سعودی عرب اور پاکستان کا دفاعی معاہدہ، خطے میں نیا توازن اور بھارت کی بڑھتی تشویش
 بھارت کے سابق سفیر برائے سعودی عرب جیوتی پرساد داس نے خبردار کیا ہے کہ سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان ہونے والا نیا دفاعی تعاون کا معاہدہ خطے کے جغرافیائی و تزویراتی توازن کو متاثر کر سکتا ہے اور بھارت و سعودی تعلقات کو نئے دباؤ کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
اپنے  ایک تجزیے میں داس نے لکھا کہ اسٹریٹجک ملٹری ڈیفنس ایگریمنٹ (SMDA) جو ۲۵ ستمبر (۱۷ ستمبر بمطابق شمسی تقویم) کو ریاض اور اسلام آباد کے درمیان طے پایا، تین سالہ مذاکرات کا نتیجہ ہے۔
داس کے مطابق، سعودی عرب نے پہلی بار ۱۹۶۷ء میں اسرائیلی خطرات اور خطے میں سرد جنگ کے پس منظر میں پاکستان کے ساتھ ایک دفاعی معاہدہ کیا تھا۔ اس کے تحت پاکستانی فوجی ماہرین نے سعودی افواج کی تربیت، تنظیم نو اور جدید کاری میں کلیدی کردار ادا کیا، اور اندازوں کے مطابق اب تک ۱۰ ہزار سے زائد سعودی فوجیوں کو پاکستانی تربیت حاصل ہو چکی ہے۔
بھارتی سفارتکار کا کہنا تھا کہ ماضی میں سعودی عرب نے پاکستان کے مؤقف کی کشمیر اور بھارت کے ساتھ جنگوں میں غیر اعلانیہ حمایت کی، تاہم ۲۰۱۹ء میں بھارت کے آئین کی دفعہ ۳۷۰ کے خاتمے پر ریاض نے محتاط اور غیر جانبدارانہ موقف اختیار کیا۔ اسی طرح پاہالگام حملے کی مذمت بھی بغیر پاکستان کا نام لیے کی گئی تھی۔
اب نیا دفاعی معاہدہ اس توازن کو بدل سکتا ہے کیونکہ اس سے سعودی عرب پاکستان، چین اور ترکی کے قریب جا رہا ہے۔ یہ پاکستان کو یہ موقع دے گا کہ وہ ریاض کی مالی مدد سے امریکی ہتھیار خرید سکے اور خطے میں اپنی دفاعی پوزیشن مضبوط کرے۔
یہ معاہدہ ایسے وقت میں طے پایا جب اسرائیل نے چند روز قبل قطر میں امریکی ہوائی اڈے العدید پر بے سابقہ حملہ کیا تھا۔ مبصرین کے مطابق، اسی واقعے نے ریاض اور اسلام آباد کے درمیان مذاکرات کو تیز کیا۔
بعض ماہرین کا خیال ہے کہ سعودی عرب اس معاہدے کے ذریعے پاکستان کے ایٹمی چھتری نظام سے فائدہ اٹھانا چاہتا ہے تاکہ وہ اپنی اسٹریٹجک خودمختاری کو بڑھا سکے اور امریکی اثر سے جزوی آزادی حاصل کرے۔
دوسری رائے کے مطابق، یہ معاہدہ امریکی منظوری کے تحت ہوا ہے اور واشنگٹن کے مفادات کے مطابق خطے میں طاقت کا توازن برقرار رکھنے میں مدد دے گا۔
یہ معاہدہ اسلام آباد کے لیے ایک بڑی کامیابی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ پاکستان اب سعودی عرب کی مالی معاونت سے اپنی فوجی صلاحیت میں اضافہ کر سکتا ہے اور خطے میں بھارت کے اثر و رسوخ کو محدود کرنے کی کوشش کرے گا۔
رپورٹ کے مطابق، بھارت اور سعودی عرب کے تعلقات پہلے ہی کئی معاشی و سیاسی مسائل سے دوچار ہیں۔ریلیانس اور آرامکو کے درمیان تیل کے بڑے تجارتی معاہدے کی ناکامی،بھارت کی روس سے سستا تیل خریدنے کی پالیسی،اور اسرائیل کو بھارتی اسلحہ کی فروخت (جو غزہ میں استعمال ہوا)  ان سب نے تعلقات میں دراڑ ڈال دی ہے۔
اس کے باوجود، بھارت اپنی تینوں علاقائی شراکت داروں  خلیجی عرب ممالک، ایران اور اسرائیل  کے ساتھ تعلقات کو متوازن رکھنے کی کوشش کر رہا ہے۔ دہلی کی ترجیحات میں توانائی کا تحفظ، خلیج میں مقیم بھارتی شہریوں کی سلامتی اور انتہا پسندی کے پھیلاؤ کو روکنا شامل ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ سعودی-پاکستان دفاعی معاہدہ نہ صرف جنوبی ایشیا بلکہ پورے مغربی ایشیا میں طاقت کے نئے خطوط کھینچ سکتا ہے  اور بھارت کو اپنی خارجہ و دفاعی حکمتِ عملی پر ازسرِنو غور کرنا پڑے گا۔

مشہور خبریں۔

حزب اللہ کے ڈرونز نے صیہونی فوج کی نیندیں حرام کر دی ہیں:صیہونی میڈیا

?️ 10 مئی 2026سچ خبریں:صیہونی اخبار یدیعوت احرونٹ کی رپورٹ کے مطابق حزب اللہ کے

جنگ بندی کے باوجود غزہ کے دس لاکھ بچے پانی اور خوراک سے محروم: یونیسف

?️ 3 نومبر 2025سچ خبریں: یونیسف کے ترجمان نے انکشاف کیا ہے کہ غزہ پٹی میں

اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل کے نام دنیا کی 298 ممتاز شخصیات کے خط

?️ 26 اکتوبر 2023سچ خبریں:اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل کے نام دنیا کی 298 ممتاز

27 ویں آئینی ترمیم: لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شمس محمود مرزا بھی مستعفی

?️ 15 نومبر 2025لاہور: (سچ خبریں) جسٹس شمس محمود مرزا نے لاہور ہائیکورٹ کے جج

حکومت کی وفاقی کابینہ میں شامل مکنہ وزیروں کے نام اور تعداد سامنے آگئی

?️ 11 اپریل 2022اسلام آباد (سچ خبریں) اپوزیشن کے وزارت عظمیٰ کے امیدوار شہبازشریف کی

مغربی ممالک کو ہمارے ساتھ احترام سے پیش آنا چاہیے:پیوٹن

?️ 27 ستمبر 2022سچ خبریں:روس کے صدر ولادیمیر پیوٹن نے پیر کو سوچی میں اپنے

فلسطینی استقامتی تحریک کا مزائل تجربہ

?️ 5 اکتوبر 2022سچ خبریں:فلسطین کی اسلامی استقامتی تحریک نے غزہ کی پٹی میں میزائل

فوجیوں کی ہلاکت کے بارے میں نیتن یاہو جھوٹ بولتے ہیں: لاپیڈ

?️ 14 دسمبر 2023سچ خبریں:اسرائیل کے سابق وزیر اعظم اور اس حکومت کی کابینہ میں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے