ریاض اسلام آباد دفاعی معاہدہ، امریکہ اور اسرائیل کے لئے واضح پیغام 

دفاعی معاہدہ

?️

ریاض اسلام آباد دفاعی معاہدہ، امریکہ اور اسرائیل کے لئے واضح پیغام
 سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان ہونے والے نئے دفاعی معاہدے نے سوشل میڈیا پر بڑی توجہ حاصل کی ہے۔ صارفین نے اسے اسرائیل کے لیے ایک سخت پیغامِ بازدارندگی اور امریکہ کے لیے اس اشارے کے طور پر بیان کیا ہے کہ اب وہ ایک قابلِ اعتماد شراکت دار نہیں رہا۔
عرب میڈیا روسیا الیوم کے مطابق، سعودی ولی عہد محمد بن سلمان اور پاکستان کے وزیرِاعظم شہباز شریف کے مابین طے پانے والا یہ معاہدہ اس بات پر زور دیتا ہے کہ کسی ایک ملک پر حملہ، دونوں پر حملہ تصور ہوگا۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک صارف نے لکھا کہ یہ معاہدہ خطے میں سکیورٹی توازن کو نئی شکل دینے میں ریاض کی حیثیت کو اجاگر کرتا ہے۔ ایک اور صارف نے کہا کہ سعودی عرب نے ہر ممکنہ خطرے کا دروازہ بند کر دیا اور نتانیاهو کی بڑبڑاہٹ کا جواب دے دیا، ساتھ ہی امریکہ کو پیغام دیا کہ اب آپ پر اعتماد نہیں کیا جا سکتا۔
ایک اور تبصرہ نگار نے کہا کہ چونکہ ایران، پاکستان کا اتحادی ہے اور اب سعودی عرب نے بھی پاکستان کے ساتھ دفاعی معاہدہ کر لیا ہے، اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر بھارت پاکستان پر حملہ کرتا ہے تو وہ سعودی عرب پر حملہ سمجھا جائے گا اور اسی طرح سعودی عرب پر کسی بھی حملے کو پاکستان کے ایٹمی دفاع کے تناظر میں دیکھا جائے گا۔
بعض صارفین نے اسے تاریخی اور اسٹریٹجک معاہدہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ خطے کے استحکام اور مشترکہ سلامتی کو تقویت دے گا۔ ایک اور صارف نے لکھا: یہ محض کاغذ پر دستخط نہیں بلکہ اتحاد، عزت اور محفوظ مستقبل کی نمائندگی ہے۔ کسی اور نے کہا: سعودی عرب نے اس معاہدے کے ذریعے دنیا کو دکھا دیا ہے کہ اسلام آباد کے ساتھ تاریخی تعاون کے تحت وہ ایٹمی طاقتوں کے کلب میں شمولیت اختیار کر چکا ہے۔
یاد رہے کہ سعودی ولی عہد اور پاکستان کے وزیرِاعظم نے بدھ 26 ستمبر کو ریاض کے شاہی محل میں ملاقات کی۔ دونوں رہنماؤں نے دوطرفہ تعلقات، خطے اور عالمی امور پر بات چیت کے ساتھ ساتھ اسٹریٹجک دفاعی معاہدے پر دستخط کیے۔
مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ یہ معاہدہ آٹھ دہائیوں پر محیط تاریخی دوستی کے تناظر میں کیا گیا ہے تاکہ دونوں ممالک کی سلامتی کو مضبوط بنایا جا سکے، علاقائی اور عالمی امن کو فروغ دیا جا سکے اور مشترکہ دفاعی صلاحیتوں کو بڑھایا جا سکے۔ اس معاہدے میں واضح کیا گیا ہے کہ کسی بھی ایک ملک پر جارحیت کو دونوں ممالک پر حملہ سمجھا جائے گا۔

مشہور خبریں۔

پارلیمنٹ سے منظور شدہ ایک اور بل لاپتا ہوگیا

?️ 5 نومبر 2023اسلام آباد:(سچ خبریں) کئی ماہ قبل پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں سے منظور

وہ خوفناک منظر نامے جس کا اسرائیل کو انتظار تھا

?️ 6 اکتوبر 2024سچ خبریں: عبرانی زبان میڈیا کے مطابق تہران اسرائیل کے دفاعی نظام

بحری ناکہ بندی اور دھمکیوں کے باوجود مذاکرات ناقابل قبول کیوں؟

?️ 24 اپریل 2026 سچ خبریں:امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ رویوں میں ایران کے

ہر رمضان میں مسجد اقصیٰ میں نمازیوں کیخلاف اسرائیلی فورسز کے حملوں کا مشاہدہ کرتے ہیں،عمران خان

?️ 29 اپریل 2022اسلام آباد(سچ خبریں)چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے یوم  القدس پرفلسطینی  عوام

پارلیمانی انتخابات کے بعد صہیونی حکام کے اجتماعی استعفے

?️ 9 نومبر 2022سچ خبریں:صیہونی داخلی سلامتی کے مشیر کے بعد اس حکومت کی وزارت

کیا شامی دہشت گردوں کا سرغنہ ہلاک ہو گیا ہے؟

?️ 1 دسمبر 2024سچ خبریں:شام میں سرگرم دہشت گردوں کے سرغنہ ابو محمد الجولانی کی

دس سال سے بند کویت کے لیے پاکستان کے ویزے جلد کھل جائیں گے: شیخ رشید

?️ 17 مارچ 2021اسلام آباد (سچ خبریں) وزیر داخلہ شیخ رشید نے دس سال سے

صہیونی فلسطینی قوم کے خلاف مذہبی جنگ لڑ رہے ہیں:حماس

?️ 1 اپریل 2023سچ خبریں:بیت المقدس پر قابض فوج کی گولی سے ایک فلسطینی نوجوان

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے