رفح میں حماس موجودگی کے بارے میں امریکہ سے مذاکرات کریں گے:صہیونی حکومت

نیتن یاہو

?️

 رفح میں حماس موجودگی کے بارے میں امریکہ سے مذاکرات کریں گے:صہیونی حکومت
 صہیونی حکومت کے دفترِ وزیراعظم کے تعلقات عامہ کے ترجمان نے کہا ہے کہ وزیراعظم بینیامین نیتن یاہو اور امریکی صدر کے مشیر کے درمیان ملاقات کے بعد رفح کے تونلز میں پھنسے ہوئے حماس کے جنگجوؤں کے بارے میں جو بھی قدم اٹھایا جائے گا وہ امریکہ کے ساتھ مشاورت اور اشتراکِ رائے کے ساتھ ہوگا۔
صہیونی ٹی وی چینل ۱۳ اور دیگر ذرائع کے مطابق، جیرڈ کوشنر جو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے داماد اور سابق معاون رہ چکے ہیں  کی اسرائیلی دورے کی اطلاعات کے ساتھ واشنگٹن اس بات کی کوشش کر رہا ہے کہ غزّہ میں طے شدہ جنگ بندی برقرار رہے۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق امریکہ نے اسرائیل پر زور دیا ہے کہ رفح کے تونلز کے خلاف کوئی ایسا جارحانہ آپریشن نہ کیا جائے جو طے شدہ جنگ بندی کو خطرے میں ڈال دے۔
اطلاعات میں کہا گیا ہے کہ امریکہ کی ثالثی میں ایک ایسا معاہدہ طے پایا ہے جس کے تحت ۲۰۱۴ میں غزّہ میں قید ہونے والے اسرائیلی سپاہی ہدار گولڈن کی رہائی کے بدلے تقریباً ۲۰۰ حماس قیدیوں کو رہا کیا جا سکتا ہے، اور ان قیدیوں کے خلاف گرفتاری یا بازجُوئی کی اجازت نہیں ہوگی۔ یہ قیدی رپورٹس کے مطابق رفح کے تونلز میں ہیں، اور اگرچہ اسرائیلی فوج نے عرصہ دراز سے رفح کا کنٹرول سنبھال رکھا ہے، مگر ابھی تک ان تونلز کی مکمل شناخت اور اُن میں موجود مزاحمتی جنگجوؤں کو گرفتار کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکی۔
اسرائیلی سیاسی حلقوں میں اختلاف رائے بھی سامنے آیا ہے۔ ایک داخلی سیاسی ماخذ نے دعویٰ کیا کہ نیتن یاہو حماس کے جنگجوؤں کو محفوظ عبور کی اجازت نہیں دیں گے، مگر امریکی دباؤ نے ممکنہ طور پر وزیراعظم کی پالیسی میں نرم رویہ پیدا کیا ہے۔ کابینہ کی حالیہ اجلاس میں نیتن یاہو نے آرمی چیف ایال زمیر کے اس تجویز کو مسترد کیا کہ گولڈن کی لاش کی واپسی کے بدلے حماس کو عبورِ راستہ دیا جائے؛ نیتن یاہو نے کہا کہ "ہم ان دہشت گردوں کو ختم کریں گے — وہ زندہ نہیں نکلیں گے ماسوائے اس کے کہ وہ خود تسلیم کر لیں”۔
اس کے برعکس دائیں بازو کی سخت گیر وزیر آبادکاری اور بستیوں کی منتظم، اوریت اسٹروک نے کوشنر کے ساتھ ملاقات کے بعد مطالبہ کیا کہ نیتن یاہو حماس کو محفوظ راستے کی اجازت نہ دے، اور خبردار کیا کہ اس سے بعد کی مرحلوں میں حماس کی خلعِ سِلاح کے عمل میں رکاوٹ پیدا ہو سکتی ہے۔
علاوہ ازیں، بعض ذرائع نے کہا ہے کہ اسرائیل اور حماس کے درمیان امریکہ کی ثالثی میں مذاکرات طے پا چکے ہیں، اور واشنگٹن چاہتا ہے کہ جنگ بندی برقرار رہے تاکہ قیدیوں کے تبادلے اور تعلقات کو نقصان نہ پہنچے۔ مگر سیاسی حلقوں میں اختلاف اور فوجی حکمتِ عملی پر مختلف آراء اس عمل کو پیچیدہ بنا رہی ہیں۔

مشہور خبریں۔

ڈیرہ اسماعیل خان: شادی کی تقریب سے واپسی پر چیئرمین سینیٹ کی گاڑی کو حادثہ

?️ 31 اکتوبر 2022خیبرپختونخوا:(سچ خبریں) خیبرپختونخوا کے ضلع ڈیرہ اسمٰعیل خان میں چیئرمین سینیٹ صادق

پاکستان میں مذہبی آزادی کے حوالے سے امریکی رپورٹ مسترد

?️ 4 جولائی 2024سچ خبریں: دفتر خارجہ کی ترجمان ممتاز زہرہ بلوچ نے کہا ہے

سعودی عرب اور یمن پر جارحیت کے نتائج سے فرار

?️ 22 مارچ 2022سچ خبریں:  جحاف نے الحدث پروگرام میں العالم کو بتایا کہ یمن

Uber’s Turbulent Week: Kalanick Out, New Twist In Google Lawsuit

?️ 31 جولائی 2021Dropcap the popularization of the “ideal measure” has led to advice such

طاقتور بیٹری اور بہترین کیمرا کا حامل ریڈمی کا بجٹ فون متعارف

?️ 24 اکتوبر 2025سچ خبریں: اسمارٹ فونز بنانے والی چینی کمپنی ریڈمی نے طاقتور بیٹری

غزہ میں کنڈرگارٹن پر صیہونی بمباری

?️ 4 فروری 2024سچ خبریں: غزہ کی پٹی پر اپنے وحشیانہ حملوں میں صیہونی فوج

ویکسین نہ لگوانے والے شہریوں پر سخت پابندیاں لگائی جائیں گی

?️ 15 ستمبر 2021اسلام آباد (سچ خبریں) تفصیلات کے مطابق وفاقی حکومت نے کورونا ویکسین

غزہ کی تازی ترین صورتحال

?️ 19 نومبر 2023سچ خبریں:امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ کے مطابق کہ اس حکومت کے اکثر

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے