?️
سچ خبریں: غزہ کی جنگ بندی کے لیے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پیش کردہ منصوبے پر فلسطینی مزاحمتی تحریک حماس کے سینئر رہنماؤں نے اپنا رسمی موقف واضح کر دیا ہے۔
قطر کے نیوز چینل الجزیرہ کے ساتھ ایک انٹرویو میں حماس کے رہنماؤں نے اس منصوبے کے حوالے سے تحریک کی ترجیحات اور شرائط کو تفصیل سے بیان کیا۔
جنگ بندی اور قتل و غارت کا خاتمہ اولین ترجیح
حماس کے سینئر رہنما موسیٰ ابومرزوق نے کہا کہ ہماری اولین ترجیح جنگ بندی اور قتل و غارت کا خاتمہ ہے۔ اسی تناظر میں ہم نے ٹرمپ کے پیش کردہ منصوبے کو مثبت نظر سے دیکھا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس منصوبے کے وہ نکات جو براہ راست حماس سے متعلق ہیں، ہماری جانب سے مثبت نقطہ نظر کے ساتھ زیر غور لائے جا رہے ہیں۔
ابومرزوق نے وضاحت کی کہ منصوبے کے نفاذ کے لیے مزید تفصیلات اور باہمی تفاهم کی ضرورت ہوگی اور یہ کہ یہ منصوبہ بغیر مذاکرات کے نافذ نہیں ہو سکتا۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ ہم تحریک اور اسلحے سے متعلق تمام معاملات پر مذاکرات کے لیے تیار ہیں۔
قیدیوں کے تبادلے کی 72 گھنٹے کی آخری تاریخ کو مسترد کر دیا گیا
ابومرزوق نے منصوبے کے ایک حصے کو غیر حقیقی قرار دیتے ہوئے کہا کہ موجودہ حالات میں 72 گھنٹے کے اندر قیدیوں اور لاشوں کی واپسی کا مطالبہ محض ایک نظریاتی اور غیر حقیقی خیال ہے۔ انہوں نے کہا کہ ریاستہائے متحدہ امریکا کو فلسطینی قوم کے مستقبل کو مثبت نظر سے دیکھنا چاہیے۔
غزہ کی انتظامیہ پر قومی اتفاق رائے
حماس کے اس عہدیدار نے غزہ کی مستقبل کی حکمرانی کے حوالے سے واضح کیا کہ ہم نے قومی سطح پر اس بات پر اتفاق کر لیا ہے کہ غزہ کی انتظامیہ غیر جانبدار اور آزاد تکنوکریٹس کے حوالے کی جائے گی جس کی نگرانی فلسطینی اتھارٹی کرے گی۔ ابومرزوق نے کہا کہ فلسطینی قوم کا مستقبل ایک قومی معاملہ ہے جس کا فیصلہ حماس اکیلے نہیں کر سکتی۔
انہوں نے کہا کہ ہم نے مصر کی جانب سے پیش کردہ علاقائی اور بین الاقوامی منصوبے کو قبول کر لیا ہے جس میں امن اور مستقبل کے حوالے سے کئی نکات شامل ہیں۔
دہشت گردی کی تعریف پر اعتراض
ٹرمپ کے منصوبے میں شامل دفعات کے بارے میں بات کرتے ہوئے ابومرزوق نے زور دے کر کہا کہ حماس ایک قومی آزادی کی تحریک ہے اور منصوبے میں دہشت گردی کی جو تعریف کی گئی ہے وہ اس تحریک پر لاگو نہیں ہو سکتی۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے اصولی طور پر منصوبے کے بنیادی نکات کو قبول کر لیا ہے لیکن اس کے نفاذ کے لیے مذاکرات کی ضرورت ہوگی۔
مزاحمتی اسلحے کا مستقبل
حماس کے اس عہدیدار نے فلسطینی مزاحمتی اسلحے کے مستقبل کے بارے میں بتایا کہ ہم اسلحہ فلسطین کی آئندہ حکومت کے حوالے کریں گے اور غزہ پر جو حکومت کرے گا، اس کے پاس اسلحہ ہوگا۔
حماس کے ایک اور سینئر رہنما اسامہ حمدان کا موقف
حماس کے ایک اور سینئر رہنما اسامہ حمدان نے العربیہ نیٹ ورک کے ساتھ بات چیت میں کہا کہ تحریک حماس قیدیوں کے تبادلے کے عمل کے بارے میں فوری طور پر بات چیت شروع کرنے کے لیے تیار ہے۔
انہوں نے زور دے کر کہا کہ حماس کسی بھی صورت حال میں یہ قبول نہیں کرے گی کہ فلسطین سے باہر کسی بھی فریق کو غزہ پٹی کے معاملات چلانے کی ذمہ داری سونپی جائے۔
حماس کے اس عہدیدار نے یہ بھی اشارہ کیا کہ آئندہ مذاکرات میں اسرائیلی قیدیوں (زندہ اور لاشوں) کی صورتحال اور زمینی حقائق کو لازمی طور پر مدنظر رکھا جانا چاہیے۔
حمدان نے کہا کہ قیدیوں کے تبادلے کے عمل میں 72 گھنٹے سے زیادہ کا وقت درکار ہوگا اور یہ معاملہ صرف فریقین کے درمیان مفاہمت پر پہنچنے سے ہی حل ہو سکتا ہے۔
انہوں نے ایک بار پھر زور دے کر کہا کہ غزہ میں کسی بھی قسم کی بیرونی انتظامیہ یا فورسز کی آمد ہرگز قبول نہیں ہے۔
حماس کے سیاسی دفتر کے میڈیا مشیر کا اعلان
حماس کے سیاسی دفتر کے سربراہ کے میڈیا مشیر طاہر النونو نے تحریک کی فوری مذاکرات میں شمولیت کے لیے مکمل تیاری پر زور دیا۔
النونو نے اعلان کیا کہ حماس فوری طور پر مذاکرات شروع کرنے کے لیے تیار ہے تاکہ قیدیوں کے تبادلے کا عمل، جنگ بندی اور اسرائیلی فوج کی غزہ پٹی سے واپسی کو حتمی شکل دی جا سکے۔
Short Link
Copied


مشہور خبریں۔
ترکی شام ، عراق اور افغانستان میں کیا چاہتا ہے؟
?️ 22 جولائی 2021سچ خبریں:گذشتہ روز ترکی کے وزیر داخلہ نے شام کے علاقے عفرین
جولائی
صیہونی حکومت کی بچوں کے خلاف منظم جنگ کا آغاز
?️ 28 دسمبر 2025سچ خبریں: صیہونی حکومت نے تجاوز کے پہلے گھنٹوں سے ہی فلسطینی
دسمبر
’حکومت سازی روکی جائے‘، انتخابات 2024 کے نتائج سپریم کورٹ میں چیلنج
?️ 23 فروری 2024اسلام آباد: (سچ خبریں) 8 فروری 2024 کو ہونے والے عام انتخابات
فروری
پارلیمانی تعطیلات کے دوران ٹرمپ کا دورہ برطانیہ؛ پارلیمنٹ میں خطاب سے گریز یا سیاسی تدبیر؟
?️ 12 جولائی 2025 سچ خبریں:ڈونلڈ ٹرمپ کا متوقع دورہ برطانیہ پارلیمان کی تعطیلات میں
جولائی
خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں سکیورٹی فورسز کی کارروائیاں، 34خوارج جہنم واصل
?️ 25 فروری 2026راولپنڈی (سچ خبریں) خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں
فروری
پاکستانی فوج کے کمانڈر کی کابل کو سخت وارننگ جاری
?️ 18 اکتوبر 2025سچ خبریں: پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل سید عاصم منیر نے افغانستان پر
اکتوبر
عمران خان کی نظر میں سب سے بڑا یو ٹرن
?️ 4 اگست 2024سچ خبریں: پی ٹی آئی کے بانی عمران خان نے کہا ہے
اگست
عراق سے تمام امریکی لڑاکا فوجیوں کا انخلاء یقینی
?️ 27 دسمبر 2021سچ خبریں: جیسے جیسے 31 دسمبر قریب آ رہا ہے، عراق سے
دسمبر