حماس نے کسی بھی مرحلے پر ہتھیار ڈالنے پر رضامندی ظاہر نہیں کی

حماس

?️

حماس نے کسی بھی مرحلے پر ہتھیار ڈالنے پر رضامندی ظاہر نہیں کی
اسلامی مزاحمتی تحریک حماس نے ایک بار پھر اس بات کی سختی سے تردید کی ہے کہ اس نے کسی بھی مرحلے پر مزاحمت کو غیر مسلح کرنے یا ہتھیار ڈالنے پر رضامندی ظاہر کی ہو۔ حماس کے ایک اعلیٰ رہنما نے واضح کیا ہے کہ اس حوالے سے گردش کرنے والی خبریں بے بنیاد ہیں۔
حماس کے سینئر رہنما موسیٰ ابو مرزوق نے الجزیرہ ٹی وی کو دیے گئے انٹرویو میں کہا کہ حماس نے نہ ماضی میں اور نہ ہی حال میں کسی بھی شکل میں مزاحمت کو خلعِ سلاح کرنے یا تسلیم ہونے پر اتفاق کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ غزہ کی پٹی سے متعلق کسی بھی انتظام یا مستقبل کے لائحہ عمل کے لیے حماس کی رضامندی اور شراکت لازمی ہے۔
ابو مرزوق نے بتایا کہ حماس نے نام نہاد ٹرمپ منصوبے کے تحت صرف جنگ بندی کے عمومی فریم ورک پر اتفاق کیا تھا، تاہم اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ مزاحمت کے بنیادی اصولوں سے دستبرداری اختیار کی گئی ہو۔
انہوں نے انکشاف کیا کہ غزہ کے انتظام کے لیے مجوزہ فلسطینی کمیٹی کے حوالے سے مصر کے ذریعے صرف دو ناموں پر تحفظات کا اظہار کیا گیا تھا، جن میں سے ایک نام بعد میں فہرست سے نکال دیا گیا۔
حماس کے رہنما نے یہ بھی بتایا کہ تقریباً ایک ماہ قبل آخری صہیونی قیدی ران گویلی کی لاش کے مقام سے متعلق معلومات ثالثوں کو فراہم کی جا چکی تھیں۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ زندہ صہیونی قیدیوں اور اسرائیلی شہریوں کی حوالگی ایک واضح معاہدے کے تحت کی گئی تھی اور اسرائیلی وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو کو اس معاملے کو سیاسی فائدے یا فخر کے طور پر پیش کرنے کا کوئی حق حاصل نہیں۔
ابو مرزوق کے مطابق، تمام قیدیوں کی رہائی مزاحمت کی شرائط اور طے شدہ معاہدے کے مطابق عمل میں آئی۔
واضح رہے کہ صہیونی رژیم نے 7 اکتوبر 2023 کو غزہ کے خلاف جنگ کا آغاز دو بنیادی اہداف کے ساتھ کیا تھا: حماس کا خاتمہ اور صہیونی قیدیوں کی بازیابی، تاہم وہ ان دونوں اہداف میں ناکام رہی اور بالآخر قیدیوں کے تبادلے کے لیے حماس سے معاہدہ کرنے پر مجبور ہوئی۔
حماس نے 17 اکتوبر 2024 کو باضابطہ طور پر غزہ میں جنگ کے خاتمے اور قیدیوں کے تبادلے کے معاہدے کا اعلان کیا، جبکہ صہیونی فوج نے ایک روز بعد جنگ بندی کے نفاذ کی تصدیق کی، اگرچہ اس کے باوجود اسرائیل کی جانب سے معاہدے میں رکاوٹیں ڈالنے کا سلسلہ جاری ہے۔
اس جنگ کے نتیجے میں، امریکی حمایت سے جاری اسرائیلی حملوں نے فلسطینی عوام کی نسل کشی کے ساتھ ساتھ غزہ کی تقریباً 90 فیصد بنیادی تنصیبات کو تباہ کر دیا ہے۔ اقوامِ متحدہ کے مطابق غزہ کی تعمیرِ نو کے لیے تقریباً 70 ارب ڈالر درکار ہوں گے۔

مشہور خبریں۔

انگلش چینل ؛موت اور ہجرت کا سنگم

?️ 23 دسمبر 2021سچ خبریں:انگلش چینل کو عبور کرنے والے تارکین وطن کی بڑی تعداد

وکی کوشل کو شادی سے قبل دھمکی

?️ 2 دسمبر 2021ممبئی (سچ خبریں)وکی کوشل اور کترینہ کیف رواں ماہ میں رشتہ ازدواج

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کو چین کا نیا خط اور جاپان کی حقیقت کو مسخ کرنے پر تنقید

?️ 2 دسمبر 2025سچ خبریں: اقوام متحدہ میں چین کے مستقل نمائندے نے اقوام متحدہ

تمام تر دباؤ اور ہتھکنڈوں کے استعمال کے باوجود تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کرنے والوں کا تانتا بندھا ہوا ہے

?️ 1 ستمبر 2022اسلام آباد: (سچ خبریں) پی ٹی آئی  کے رہنما فواد چوہدری کا کہنا ہے

اسرائیل کی صورتحال پر امریکہ کا رد عمل

?️ 14 مئی 2021سچ خبریں:امریکی حکام نے صیہونی جارحیت کی حمایت کرتے ہوئے اعلان کیا

چیف جسٹس کے ریمارکس پر تنقید، وضاحت کیلئے اٹارنی جنرل کا وفاقی وزیر قانون کو خط

?️ 13 فروری 2023اسلام آباد: (سچ خبریں) سپریم کورٹ میں نیب قانون میں ترامیم کے

کے پی کے حکومت کا صحت کارڈ 10 لاکھ سے بڑھا کر 20 لاکھ روپے کرنے کا اعلان

?️ 4 جون 2024پشاور: (سچ خبریں) خیبرپختونخواہ حکومت صحت کارڈ پر مفت علاج کی سہولت

صیہونی وزیر جنگ کی فلسطینی اتھارٹی کے سربراہ کے ساتھ ملاقات

?️ 30 اگست 2021سچ خبریں:صیہونی وزیر جنگ نے فلسطینی اتھارٹی کے سربراہ سے رام اللہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے