جنرل شہید قاسم سلیمانی خطے میں پائیدار سلامتی کے معمار تھے

شہید جنرل قاسم سلیمانی

?️

جنرل شہید قاسم سلیمانی خطے میں پائیدار سلامتی کے معمار تھے

 شہید سپہ سالار حاج قاسم سلیمانی، سابق کمانڈر قدس فورس، کو عالمِ اسلام کی معاصر تاریخ کی مؤثر ترین شخصیات میں شمار کیا جاتا ہے۔ وہ نہ صرف ایک بہادر عسکری کمانڈر اور ممتاز اسٹریٹجسٹ تھے بلکہ فعال مزاحمت، پائیدار امن اور علاقائی سلامتی کی علامت بھی بن کر ابھرے۔

حاج قاسم سلیمانی نے عالمی استکباری منصوبوں، تکفیری دہشت گردی اور صہیونی قبضے کے خطرات کو گہرائی سے سمجھتے ہوئے اپنی تمام تر صلاحیتیں خطے کے مظلوم عوام کے دفاع کے لیے وقف کر دیں۔ ان کا ماننا تھا کہ ایران اور مغربی ایشیا کی سلامتی صرف فعال مزاحمت، اسلامی وحدت اور اقوام کی خود مختار طاقت سازی کے ذریعے ہی ممکن ہے۔

شہید سلیمانی سلامتی کو محض قومی نہیں بلکہ ایک علاقائی تصور سمجھتے تھے۔ ان کے نزدیک ایران کا استحکام ہمسایہ ممالک کے امن سے جڑا ہوا تھا۔ اسی سوچ کے تحت انہوں نے عراق، شام، لبنان، یمن اور افغانستان میں دہشت گرد گروہوں خصوصاً داعش کے خلاف ایک وسیع عوامی محاذ تشکیل دیا، جس کے نتیجے میں لاکھوں بے گناہ جانیں بچیں اور خطہ مکمل تباہی سے محفوظ رہا۔

یمن کی مسلح افواج کے نائب ترجمان کرنل عزیز راشد کے مطابق، شہید سلیمانی نے محورِ مزاحمت کے درمیان مشترکہ سکیورٹی تعاون کو فروغ دیا، امریکا اور صہیونی اثر و رسوخ کو کم کیا اور خطے کے لیے ایک طویل المدتی حکمتِ عملی کی بنیاد رکھی۔

2006 کی 33 روزہ جنگِ لبنان میں حاج قاسم سلیمانی کا کردار نمایاں تھا۔ انہوں نے اس جنگ کو غزوۂ خندق سے تشبیہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ اگر مزاحمت جاری رہی تو صہیونی رژیم کو اسٹریٹجک شکست کا سامنا کرنا پڑے گا۔ حزب اللہ کی کامیابی نے اسرائیل کی جارحانہ حکمتِ عملی کو دفاعی پوزیشن میں بدل دیا اور مزاحمت کو ایک مؤثر ماڈل کے طور پر دنیا کے سامنے پیش کیا۔

سردار سلیمانی سلامتی کے طلبگار نہیں بلکہ اس کے خالق تھے۔ انہوں نے عوامی قوتوں کے درمیان اتحاد، سرحدی قبائل سے براہِ راست رابطے اور مزاحمتی گروہوں کو منظم کر کے خطے میں ایک پائیدار سکیورٹی توازن قائم کیا۔ ان کی شہادت کے بعد بھی امریکی قابض افواج کا بعض علاقوں سے انخلا، ان کی حکمتِ عملیوں کی گہرائی کو ظاہر کرتا ہے۔

فلسطین کا مسئلہ حاج قاسم سلیمانی کے لیے محض سیاسی نہیں بلکہ دینی اور انسانی فریضہ تھا۔ وہ القدس کو مسلمانوں کا پہلا سیاسی قبلہ قرار دیتے تھے اور اس کی آزادی کو پوری امت کی مشترکہ ذمہ داری سمجھتے تھے۔ انہوں نے فلسطینی مزاحمتی گروہوں کو عسکری اور تربیتی سطح پر مضبوط کیا اور اس یقین کا اظہار کیا کہ آزادی صرف داخلی طاقت اور مسلح مزاحمت سے حاصل ہو سکتی ہے، نہ کہ بے نتیجہ مذاکرات سے۔

2021 کی “سیف القدس” جیسی کارروائیوں میں مزاحمتی محاذوں کی یکجہتی، انہی حکمتِ عملیوں کا تسلسل تھی جو سلیمانی نے برسوں پہلے وضع کی تھیں۔

شہید سلیمانی کی فکری میراث کا ایک اہم ستون اسلامی وحدت ہے۔ وہ شیعہ سنی اختلافات کو دشمن کی سب سے بڑی سازش قرار دیتے تھے اور عملی طور پر عراق، شام اور دیگر ممالک میں مختلف مسالک کے درمیان اتحاد کو فروغ دیا۔ ان کی کوششوں سے ایک متحد محاذ وجود میں آیا جو آج “محورِ مزاحمت” کے نام سے جانا جاتا ہے۔

لبنانی ماہرِ امور بریگیڈیئر منیر شحادہ کے مطابق، “مکتبِ سلیمانی کسی ایک فرد تک محدود نہیں بلکہ ایک ایسا طریقۂ کار ہے جو ایمان، سیاسی حقیقت پسندی اور طویل المدتی اجتماعی جدوجہد پر مبنی ہے، اور آج بھی مزاحمتی تحریکوں میں زندہ ہے۔

حاج قاسم سلیمانی نے عسکری جرات، سیاسی بصیرت اور گہرے دینی عزم کو یکجا کر کے عالمِ اسلام کے لیے ایک دائمی مثال قائم کی۔ خطے میں سلامتی، فلسطین کی آزادی اور امتِ مسلمہ کی وحدت، مکتبِ سلیمانی کے تین بنیادی ستون ہیں۔

ان کی شہادت کے باوجود ان کا راستہ اور فکر آج بھی زندہ ہے اور یہ پیغام دیتی ہے کہ حقیقی امن صرف عزت، مزاحمت اور اتحاد کے سائے میں ہی حاصل کیا جا سکتا ہے۔

مشہور خبریں۔

غزہ میں امدادی اداروں کے خلاف اسرائیلی اقدام کے تباہ کن نتائج پر عالمی انتباہ

?️ 3 فروری 2026سچ خبریں:اقوام متحدہ، یورپی یونین، ڈاکٹروں کی بین الاقوامی تنظیم ، آنروا

لبنان کو ایک بار پھر خانہ جنگی میں ڈھکیلنے کی صیہونی سازش:سید حسن نصراللہ

?️ 19 اکتوبر 2021سچ خبریں:لبنان کی مزاحمتی تنظیم حزب اللہ کے سکریٹری جنرل سید حسن

کس لیڈر کو عمران خان سے ملنے کی اجازت نہیں ملی

?️ 20 جون 2024سچ خبریں: راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں بانی پی ٹی آئی سے

وزیراعظم کا فلسطین کے حوالے سے عالمی براردی سے مطالبہ

?️ 23 جولائی 2024سچ خبریں: وزیر اعظم شہباز شریف نے مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں اسرائیلی

افغانستان کے فاریاب صوبے کے ایک علاقہ پر طالبان کا قبضہ

?️ 8 جون 2021سچ خبریں:افغانستان کےایک مقامی عہدیدار نے اطلاع دی ہے کہ طالبان نے

جنرل برہان کی ٹرمپ کے مشیر سے بات چیت کی تفصیلات

?️ 18 اگست 2025سچ خبریں: مغربی سفارت کاروں نے سوڈانی خود مختاری کونسل کے سربراہ

کیا دمشق اور آنکارا کے درمیان برف پگھل گئی ہے؟

?️ 3 جولائی 2024سچ خبریں: پچھلے 4 سالوں میں، خطے کی بیشتر حکومتوں کے درمیان

سعودی عرب نے ایک بار پھر شام کی عرب لیگ میں واپسی کا خیرمقدم کیا

?️ 18 مئی 2023سچ خبریں:سعودی عرب کے وزیر خارجہ فیصل بن فرحان نے جدہ میں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے