بی بی سی میں بڑھتا بحران، نیوزنائٹ پر بھی ٹرمپ کی تقریر کو تروڑ مروڑ کر پیش کرنے کا الزام

بی بی سی

?️

بی بی سی میں بڑھتا بحران، نیوزنائٹ پر بھی ٹرمپ کی تقریر کو تروڑ مروڑ کر پیش کرنے کا الزام

 بی بی سی کے اندرونی بحران میں اس وقت شدت آ گئی ہے جب برطانوی اخبار ڈیلی ٹیلیگراف نے انکشاف کیا ہے کہ نیوزنائٹ پروگرام نے بھی دو سال قبل ڈونالڈ ٹرمپ کی تقریر کو گمراہ کن انداز میں پیش کیا تھا۔ یہ وہی طریقۂ کار ہے جس نے حال ہی میں بی بی سی کے پانوراما دستاویزی پروگرام کو شدید تنقید کی زد میں لا کر ادارے کو بڑے بحران سے دوچار کیا۔

رپورٹ کے مطابق جون 2022 میں نیوزنائٹ نے ٹرمپ کی ایک تقریر کا ایڈیٹ شدہ کلپ نشر کیا، جس سے یہ تاثر ملا کہ وہ اپنے حامیوں کو تشدد پر اکسا رہے ہیں۔ الزام ہے کہ پروگرام میں ایک گھنٹے کے فرق سے کہی گئی دو مختلف جملوں کو جوڑ کر ایک واحد بیان کے طور پر پیش کیا گیا۔ یہی حربہ پانوراما کے معاملے میں بھی سامنے آیا تھا۔

ٹیلیگراف کا کہنا ہے کہ اس تقطیع پر اسی وقت اعتراض اٹھایا گیا تھا۔ امریکا میں ٹرمپ کے سابق قائم مقام اسٹاف چیف مِک مولوانی نے لائیو پروگرام میں ہی مجریہ کرسٹی وارک کو بتایا تھا کہ کلپ غلط طریقے سے جوڑا گیا ہے، تاہم مجریہ نے بحث کو فوراً بدل دیا۔ اگلے روز بھی ادارتی میٹنگ میں اس معاملے کو جلدی سے نظرانداز کر دیا گیا اور کوئی تحقیقات نہ ہو سکی۔

یہ انکشاف ایسے وق سامنے آیا ہے جب ٹرمپ کے وکیل الہاندرو بریٹو نے پانوراما دستاویز پر بی بی سی کو ایک ارب ڈالر ہرجانے کی دھمکی دیتے ہوئے جمعے کی شام تک کی مہلت دے رکھی ہے۔ بی بی سی نے صرف اتنا کہا کہ وہ خط موصول ہونے کی توثیق کرتا ہے اور مناسب وقت پر جواب دے گا۔

ادھر بی بی سی پر دباؤ پہلے ہی بڑھ چکا ہے۔ غزہ جنگ کی کوریج پر عوامی احتجاج، ناظرین کی کمی، لائسنس فیس میں نمایاں کمی اور ادارے کے اندر سے آنے والی شکایات نے صورتحال کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔ نیوزنائٹ کا نیا انکشاف اس تاثر کو تقویت دیتا ہے کہ بی بی سی کا مسئلہ صرف چند غلطیوں کا نہیں بلکہ ایک وسیع تر ادارہ جاتی بحران کا حصہ ہے۔

چند روز قبل بی بی سی کے چیئرمین سمیر شاہ نے پارلیمنٹ کو لکھے گئے خط میں تسلیم کیا تھا کہ پانوراما میں ٹرمپ کی تقریر کی تدوین میں ’’غلط فیصلہ‘‘ ہوا، جس سے ان کے اصل لہجے کی غلط تصویر پیش کی گئی۔ ادارے نے اسے غیرارادی غلطی قرار دیا اور کہا کہ ایڈیٹوریل نظام کا مکمل جائزہ لیا جا رہا ہے۔

اسی تناظر میں کو بی بی سی کے ڈائریکٹر جنرل ٹِم ڈیوی اور ہیڈ آف نیوز ڈیبورا ٹرنز اپنے عہدوں سے مستعفی ہو گئے۔ افشا شدہ اندرونی رپورٹ میں بی بی سی کی اہم سیاسی معاملات میں جانب داری اور پیشہ ورانہ خامیوں کی نشاندہی کی گئی تھی۔ ٹرمپ نے ان استعفاؤں کا خیرمقدم کرتے ہوئے سابق عہدیداروں کو بے حد بےایمان قرار دیا۔

اگرچہ ٹِم ڈیوی نے بی بی سی کو دنیا کا ’سنہری معیار قرار دیا، انہوں نے اعتراف کیا کہ غلطیاں ہوئی ہیں اور ان کی ذمہ داری ادارے کو لینی چاہیے۔ ماہرین کے مطابق یہ بحران بی بی سی کے اندر گہرے اور دیرینہ مسائل کی نشاندہی کرتا ہے، جو اب شدت کے ساتھ سامنے آ رہے ہیں۔

مشہور خبریں۔

صیہونیوں کے لیے ایران کے ساتھ جنگ کے ابتدائی نتائج، شہریوں کی زبانی 

?️ 5 جولائی 2025سچ خبریں: اسرائیلی اخبار "یدیعوت احرونوت” نے ہفتہ کے شمارے میں ایک

صدرِ مملکت کی تاجکستان کے ہم منصب سے دوحہ میں ملاقات، باہمی امور پر تبادلہ خیال

?️ 4 نومبر 2025اسلام آباد (سچ خبریں) صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے تاجکستان کے

کمانڈروں کے قتل سے میزائلی حملے نہیں رکیں گے: اسلامی جہاد

?️ 11 مئی 2023سچ خبریں:فلسطین کی اسلامی جہاد تحریک کے رکن اور اس تحریک کے

اپوزیشن کے عدم اعتبار کا غبارہ پھٹ چکا ہے:شاہ محمود قریشی

?️ 2 مارچ 2022سکرنڈ (سچ خبریں ) وفاقی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نےصحافیوں کے

لندن اسرائیلی جنگی جرائم کی حمایت کر رہا ہے: برطانوی رکن پارلیمنٹ

?️ 21 دسمبر 2024سچ خبریں:ایک برطانوی رکن پارلیمنٹ نے اپنی حکومت پر الزام لگایا ہے

کشمیر کے سینر علیحدگی پسند رہنما سید علی شاہ گیلانی کا انتقال،کشمیر میں کرفیو،پاکستان میں سوگ

?️ 2 ستمبر 2021سچ خبریں:ہندوستان کے زیر انتظام کشمیر میں حریت کانفرانس کے سابق صدر

یورپ اردوغان سے بدلہ لینے کے درپے

?️ 9 اگست 2022سچ خبریں:    انگریزی اخبار فنانشل ٹائمز  نے اپنی ایک رپورٹ میں

سعودی شہزادوں کی مخالفت بن سلمان کے لیے مصیبت

?️ 20 جنوری 2022سچ خبریں: سعودی حکومت کے معروف مخالف لندن میں رہنے والے مضاوی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے