?️
بن سلمان کے وائٹ ہاؤس کے شاندار استقبال نے اسرائیل کو دفاعی موڈ میں ڈال دیا
گارڈین نے اپنی رپورٹ میں لکھا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کا ایسا غیرمعمولی اور پروٹوکول سے بھرپور استقبال کیا جس سے واضح ہوا کہ ٹرمپ حکومت کی خارجہ پالیسی میں سعودی عرب کو انتہائی اہم مقام حاصل ہوچکا ہے۔ اگرچہ یہ دورہ باضابطہ طور پر ایک عام ورکنگ وزٹ تھا، لیکن وائٹ ہاؤس نے اسے گارڈ آف آنر، فلائی پاسٹ اور بھرپور میڈیا کوریج کے ساتھ ایک شاندار تقریب کی شکل دے دی۔ دفترِ اوول میں بھی ٹرمپ بن سلمان سے بہت متاثر نظر آئے اور بار بار ان سے اپنی دوستی پر فخر کا اظہار کیا۔ خاشقجی قتل کے سوال پر ٹرمپ نے سخت لہجہ اختیار کرتے ہوئے ولی عہد کو بےگناہ قرار دیا، حالانکہ امریکی انٹیلیجنس رپورٹس اس کے برعکس ہیں۔
رپورٹ کے مطابق سب سے زیادہ تشویش اسرائیل کو اس وقت ہوئی جب ٹرمپ نے اعلان کیا کہ امریکہ سعودی عرب کو ایف پینتیس جنگی طیارے اسرائیل کی طرح ہی جدید خصوصیات کے ساتھ فراہم کرے گا۔ یہ فیصلہ خطے میں اسرائیل کی معیاری فوجی برتری کے اصول سے براہ راست متصادم ہے۔ اسی دوران امریکہ نے سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے لئے جدید مصنوعی ذہانت کے چپس کی پابندیاں بھی ختم کردیں، جس سے سعودی عرب کی ٹیکنالوجی کے مرکز بننے کی کوششوں کو تقویت ملی۔
گارڈین کا کہنا ہے کہ امریکہ کی مشرقِ وسطیٰ پالیسی میں اس جھکاؤ کے ساتھ کئی اور اقدامات بھی ایسے ہوئے جنہوں نے اسرائیل کو دفاعی پوزیشن پر دھکیل دیا۔ ان میں فلسطینی ریاست کے امکان کا ذکر رکھنے والی اقوام متحدہ کی قرارداد کا مسودہ، شام پر چند پابندیوں میں نرمی اور ٹرمپ کا عرب ممالک کا دورہ شامل ہے جس میں انہوں نے اسرائیل جانا ضروری نہیں سمجھا۔ ایران کے خلاف مشترکہ کارروائی کے بعد اسرائیل نے قطر میں ایک حد سے بڑھی کارروائی کی تھی، جس پر ٹرمپ نے نتن یاہو کو دفترِ اوول میں ہی قطری قیادت سے معافی منگوانے پر مجبور کیا۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ٹرمپ، جو اپنے آپ کو سودے بازی کا ماہر سمجھتے ہیں، ایسے حکمرانوں کو ترجیح دیتے ہیں جو بھاری سرمایہ کاری یا قیمتی تحائف کے ذریعے تعلقات مضبوط کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ سعودی عرب کا ایک کھرب ڈالر سرمایہ کاری کا وعدہ اور قطر کا چار سو ملین ڈالر کا لگژری طیارہ اسی رجحان کی مثالیں ہیں۔ تاہم گارڈین کے مطابق بہت سے معاملات ابھی واضح نہیں ہیں۔ نہ ایف پینتیس طیاروں کی تعداد کا اعلان ہوا ہے اور نہ ہی سرمایہ کاری کے اس بڑے وعدے کا کوئی ٹائم فریم دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ جوہری توانائی یا دفاعی نوعیت کے بڑے معاہدے ممکن ہے کانگریس روک دے۔ سعودی عرب کے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کا عمل بھی فلسطینی ریاست کے لیے واضح پیش رفت سے مشروط ہے۔
آخر میں ماہرین کا کہنا ہے کہ بظاہر نمایاں تبدیلیوں کے باوجود امریکہ کی مشرقِ وسطیٰ پالیسی بنیادی طور پر وہی ہے، جسے ایسے لوگ چلا رہے ہیں جو علاقے کو محدود نظر سے دیکھتے ہیں اور اپنی ترجیحات اسرائیل اور چند عرب حکمرانوں کے موقف سے اخذ کرتے ہیں۔


مشہور خبریں۔
ملک بھر میں کورونا سے مرنے والوں کی تعداد میں اضافہ
?️ 17 اگست 2021اسلام آباد(سچ خبریں) کورونا سے متعلق سرکاری ویب سائٹ کے مطابق پچھلے
اگست
سعودی عرب کے پاس اتنے میزائل نہیں ہیں کہ انصار اللہ کا مقابلہ کر سکے:امریکی اخبار
?️ 8 دسمبر 2021سچ خبریں:امریکی حکام نے انکشاف کیا ہے کہ انصار اللہ کے حملوں
دسمبر
افغانستان کی موجودہ صورتحال میں امریکہ کا شیطانی کردار
?️ 17 اگست 2021سچ خبریں:گزشتہ دو ہفتوں میں طالبان کی پیش قدمی اپنے دوسرے مرحلے
اگست
فلسطینیوں کی غزہ سے جبری نقل مکانی ہماری سرخ لکیر ہے: مصری انٹیلیجنس چیف
?️ 8 دسمبر 2025سچ خبریں:مصری انٹیلیجنس کے سربراہ حسن رشاد نے واضح کیا ہے کہ
دسمبر
ٹرمپ کے مشیروں نے نیویارک میں موجود غیر ملکی حکام سے ملاقات کی
?️ 25 ستمبر 2024سچ خبریں: ڈونلڈ ٹرمپ کے کچھ مشیر نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل
ستمبر
دہشتگردوں کو پناہ دینے اور ڈھال بنانے کی اجازت نہیں دیں گے، شہباز شریف
?️ 22 مارچ 2023اسلام آباد:(سچ خبریں) وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ آئین
مارچ
سپریم کورٹ نے کل چیف الیکشن کمشنر کو طلب کر لیا
?️ 15 فروری 2021اسلام آباد (سچ خبریں) سپریم کورٹ نے سینیٹ الیکشن اوپن بیلٹ کے
فروری
غزہ کے بارے میں اردن کے بادشاہ کا تازہ ترین موقف کیا ہے؟
?️ 27 مئی 2024سچ خبریں: اردن کے شاہ عبداللہ دوم نے غزہ کے بارے میں ایک
مئی