بل کلنٹن کے ترجمان کا الزام، وائٹ ہاؤس نے سابق صدر کو قربانی بنا دیا

بل کلنٹن

?️

بل کلنٹن کے ترجمان کا الزام، وائٹ ہاؤس نے سابق صدر کو قربانی بنا دیا
امریکہ کے سابق صدر بل کلنٹن کے ترجمان نے جیفری ایپسٹین کے جنسی جرائم سے متعلق کیس میں تصاویر جاری کیے جانے پر شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ وائٹ ہاؤس نے بل کلنٹن کو اپنی ناکامیوں سے توجہ ہٹانے کے لیے قربانی کا بکرا بنایا ہے۔
برطانوی اخبار گارڈین کے مطابق بل کلنٹن کے ترجمان اینجل اورینا نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ بل کلنٹن نے سن 2005 میں ہی جیفری ایپسٹین سے تمام تعلقات ختم کر دیے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ وائٹ ہاؤس نے یہ فائلیں مہینوں تک چھپا کر رکھا اور پھر اچانک انہیں جاری کیا تاکہ آئندہ ممکنہ سیاسی دباؤ سے خود کو محفوظ رکھا جا سکے۔
اورینا نے واضح کیا کہ بیس سال پرانی اور غیر معیاری تصاویر کو بار بار شائع کرنے کا بل کلنٹن سے کوئی تعلق نہیں اور نہ ہی کبھی رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہاں تک کہ وائٹ ہاؤس کی چیف آف اسٹاف سوزی وائلز نے بھی تسلیم کیا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کے دعوے کے برعکس بل کلنٹن کبھی ایپسٹین کے جزیرے پر موجود نہیں تھے۔
بل کلنٹن طویل عرصے سے یہ موقف اختیار کرتے آئے ہیں کہ انہوں نے ایپسٹین سے تعلقات اس وقت ختم کر دیے تھے جب اس کے جرائم منظر عام پر بھی نہیں آئے تھے۔ ترجمان کے مطابق اس معاملے میں دو طرح کے افراد ہیں ایک وہ جنہیں ایپسٹین کے جرائم کا علم نہیں تھا اور انہوں نے بروقت تعلق ختم کر لیا، اور دوسرے وہ جنہوں نے جرائم سامنے آنے کے بعد بھی روابط جاری رکھے۔ بل کلنٹن کا شمار پہلے گروہ میں ہوتا ہے۔
بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ کسی اور کی کوتاہیوں کو چھپانے کے لیے بل کلنٹن کو نشانہ بنانا ناانصافی ہے اور خاص طور پر “میک امریکا گریٹ اگین” تحریک سے وابستہ افراد کو چاہیے کہ وہ الزام تراشی کے بجائے جوابدہی قبول کریں۔
دستاویزات کے مطابق ایپسٹین نے کلنٹن کے دورِ صدارت کے ابتدائی برسوں میں کم از کم سترہ بار وائٹ ہاؤس کا دورہ کیا تھا جبکہ 2001 میں صدارت چھوڑنے کے بعد کلنٹن نے ایپسٹین کے نجی طیارے پر ایشیا اور افریقہ کے دورے بھی کیے تھے۔ سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ بارہا کلنٹن اور ایپسٹین کے تعلقات کو سیاسی ہتھیار کے طور پر استعمال کرتے رہے ہیں اور حال ہی میں انہوں نے محکمہ انصاف اور ایف بی آئی سے اس حوالے سے تحقیقات کا مطالبہ بھی کیا تھا۔
ایپسٹین کیس گزشتہ دو دہائیوں سے امریکی سیاست اور عدالتی نظام میں تنازع کا باعث بنا ہوا ہے۔ 2019 میں بچوں کی اسمگلنگ اور جنسی جرائم کے الزامات کے بعد ایپسٹین نیویارک کی جیل میں ہلاک ہو گیا تھا جسے سرکاری طور پر خودکشی قرار دیا گیا، تاہم اس کی موت آج بھی شکوک و شبہات میں گھری ہوئی ہے۔

مشہور خبریں۔

پاکستان اور طالبان افغانستان کے درمیان مذاکرات قطر میں ہوں گے

?️ 18 اکتوبر 2025پاکستان اور طالبان افغانستان کے درمیان مذاکرات قطر میں ہوں گے پاکستان

اوباما بھی کورونا سے نہیں بچ سکے

?️ 14 مارچ 2022سچ خبریں:  اوباما نے ٹویٹر پر عربی 21 کے حوالے سے لکھا

مقبوضہ کشمیر میں مذہبی مقامات کی بے حرمتی، حریت کانفرنس نے عالمی اداروں سے اہم اپیل کردی

?️ 12 اپریل 2021سرینگر (سچ خبریں)  بھارتی انتہاپسند حکومت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر میں

خاتون جج دھمکی کیس: عمران خان کے قابل ضمانت وارنٹ جاری

?️ 18 اپریل 2023اسلام آباد:(سچ خبریں) ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ اسلام آباد نے خاتون جج

صیہونی حکومت پر طوفان الاقصیٰ کے خاموش اثرات  

?️ 9 اپریل 2025 سچ خبریں:طوفان الاقصیٰ کے بعد صیہونی حکومت کو ایک خاموش بحران

غزہ میں جنگ بندی کا اعلان متوقع:صیہونی میڈیا

?️ 13 جنوری 2025سچ خبریں:صیہونی ذرائع ابلاغ کے مطابق، امکان ہے کہ غزہ میں جنگ

جو سیکشن لگائے گئے، سزا سنائی گئی اس سے شاہ محمود قریشی کا تعلق ہی نہیں، عدالت

?️ 4 اپریل 2024اسلام آباد: (سچ خبریں) اسلام آباد ہائیکورٹ میں بانی پاکستان تحریک انصاف

"میڈلین” جہاز پر سویڈش کارکن: ہمیں اسرائیل نے بین الاقوامی پانیوں میں اغوا کیا تھا

?️ 10 جون 2025سچ خبریں: معروف سویڈش کارکن گریٹا تھنبرگ نے صحافیوں کے سامنے انکشاف

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے