برطانیہ میں عوامی ٹرانسپورٹ غیر محفوظ، مسلمانوں کا توہین اور حملوں کے خوف سے سفر محدود

?️

برطانیہ میں عوامی ٹرانسپورٹ غیر محفوظ، مسلمانوں کا توہین اور حملوں کے خوف سے سفر محدود

لندن میں شائع ہونے والی ایک تازہ رپورٹ کے مطابق برطانیہ کی عوامی ٹرانسپورٹ، خاص طور پر بسوں اور ٹرینوں میں نسلی اور مذہبی نفرت پر مبنی جرائم میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، جس کے باعث مسافروں کا احساسِ تحفظ بری طرح متاثر ہو رہا ہے۔ اس صورتحال سے سب سے زیادہ مسلمان اور دیگر اقلیتی برادریاں متاثر ہو رہی ہیں، جو توہین، دھمکی یا حملے کے خوف سے اپنے روزمرہ سفر کو محدود کرنے پر مجبور ہیں۔

برطانوی اخبار دی گارڈین نے ٹرانسپورٹ پولیس کے اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ ریلوے نیٹ ورک اور اسٹیشنوں میں نسلی نفرت سے متعلق جرائم کی تعداد 2019-2020 میں 2,827 تھی جو بڑھ کر 2024-2025 میں 3,258 تک پہنچ گئی۔ اسی طرح مذہبی بنیادوں پر نفرت انگیز جرائم میں بھی اضافہ دیکھا گیا، اگرچہ حالیہ سال میں ان میں معمولی کمی آئی ہے۔

نسل پرستی کے خلاف کام کرنے والے سماجی کارکنوں کا کہنا ہے کہ یہ اعداد و شمار اصل صورتحال کی مکمل عکاسی نہیں کرتے، کیونکہ بہت سے متاثرہ افراد خوف، شکایت کے غیر مؤثر ہونے کے خدشے یا پولیس پر عدم اعتماد کے باعث واقعات رپورٹ ہی نہیں کرتے۔ ان حالات کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ لوگ مخصوص اوقات اور راستوں کا انتخاب کرنے لگے ہیں تاکہ ممکنہ خطرات سے بچ سکیں۔

رپورٹ میں اسکاٹ لینڈ کے شہر گلاسگو میں پیش آنے والے ایک واقعے کا ذکر بھی کیا گیا ہے، جہاں ایک نوجوان سیاہ فام مسافر کو ٹرین میں ایک خاتون کی جانب سے کھلے عام نسل پرستانہ جملوں کا سامنا کرنا پڑا۔ خاتون نے نہ صرف توہین آمیز الفاظ استعمال کیے بلکہ جراثیم کش اسپرے بھی واگن میں چھڑک دیا، جس پر متاثرہ نوجوان نے اپنی حفاظت کے لیے واقعے کی ویڈیو ریکارڈ کی۔ بعد میں دیگر مسافروں کی مداخلت سے صورتحال پر قابو پایا جا سکا۔

ماہرین کے مطابق عوامی ٹرانسپورٹ کی بند فضا، شراب نوشی کے اثرات اور اگلے اسٹیشن پر حملہ آور کے باآسانی فرار ہونے کا امکان، ایسے واقعات کو بڑھاوا دیتا ہے۔ اس ماحول میں متاثرہ شخص خود کو مزید تنہا اور غیر محفوظ محسوس کرتا ہے۔

برطانیہ کی مسلم کونسل کی نمائندہ آکیلا احمد نے کہا ہے کہ خاص طور پر حجاب پہننے والی خواتین اور مسلمان نوجوانوں کے لیے بس یا ٹرین کا سفر اکثر ذہنی دباؤ کا باعث بن جاتا ہے۔ ان کے مطابق کئی مسلمان ہر حرکت اور ردِعمل پر بار بار غور کرنے پر مجبور ہیں کہ کہیں اسے غلط انداز میں نہ دیکھا یا ریکارڈ کر لیا جائے۔

انہوں نے بچوں کو اسکول جاتے ہوئے نشانہ بنائے جانے پر بھی شدید تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ بسوں اور اسٹیشنوں میں سی سی ٹی وی کی کمی حملہ آوروں کو بے خوف بناتی ہے۔

نسلی برابری کے لیے کام کرنے والی اسکاٹش تنظیم کی نائب سربراہ کیرول ینگ کا کہنا ہے کہ عوامی ٹرانسپورٹ ہر شہری کے لیے یکساں طور پر محفوظ نہیں رہی، جس کے باعث بہت سے لوگ جان بوجھ کر اپنے سفر کے اوقات اور راستے تبدیل کر رہے ہیں۔

انسانی حقوق کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ جب عام سفر بھی خوف کی علامت بن جائے تو انسانی حقوق اور مساوات کے دعوے محض نعرے بن کر رہ جاتے ہیں، اور یہ صورتحال برطانیہ میں قول و فعل کے درمیان گہرے تضاد کو بے نقاب کرتی ہے۔

مشہور خبریں۔

امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان کشیدگی کہاں تک جانے والی ہے؟

?️ 14 مئی 2022سچ خبریں:امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان خاص طور پر تیل اور

گرین پاکستان منصوبہ: 2 نہریں سندھ، 2 پنجاب اور ایک بلوچستان میں بننی ہے، معین وٹو

?️ 21 اپریل 2025لاہور: (سچ خبریں) وفاقی وزیر آبی وسائل محمد معین وٹو نے کہا

غزہ کی عوام کو صیہونیوں کے ہاتھوں ہونے والا مالی نقصان

?️ 5 دسمبر 2023سچ خبریں: غزہ پر غاصب صیہونی حکومت کی وجہ سے ہونے والے

لبنانی حکومت اور پارلیمنٹ میں ہماری موجودگی ضروری ہے:سید حسن نصراللہ

?️ 16 مارچ 2022سچ خبریں:حزب اللہ کے سکریٹری جنرل سید حسن نصراللہ نے لبنان کے

 الاسکا میٹنگ کی دستاویزات کے ہوٹل میں رہنے کی خبروں پر وائٹ ہاوس کا رد عمل 

?️ 18 اگست 2025 الاسکا میٹنگ کی دستاویزات کے ہوٹل میں رہنے کی خبروں پر وائٹ

یمنی ڈورن حملوں کا مقابلہ کرنے کے لیے متحدہ عرب امارات،امریکہ،فرانس اور برطانیہ کی مشترکہ کانفرانس

?️ 22 فروری 2022سچ خبریں:متحدہ عرب امارات نے یہ کہتے ہوئے کہ یمنی حملوں کا

طلال چوہدری کا 27 یوٹیوب چینلز کیخلاف کریمنل کارروائی کا اعلان

?️ 9 جولائی 2025اسلام آباد (سچ خبریں) وفاقی وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے

ملک بھر  میں کورونا سے مزید 135 افراد کا انتقال

?️ 18 مئی 2021اسلام آباد(سچ خبریں) پاکستان میں کورونا وائرس کی ہلاکت خیزیوں میں تیزی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے