این پی ٹی کے رکن کی حیثیت سے ایران کو یورینیم افزودگی کا حق حاصل ہے:گروسی

گروسی

?️

 این پی ٹی کے رکن کی حیثیت سے ایران کو یورینیم افزودگی کا حق حاصل ہے:گروسی
بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) کے ڈائریکٹر جنرل رافیل گروسی نے کہا ہے کہ ایران، جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے (این پی ٹی) کے رکن کی حیثیت سے، یورینیم افزودگی کا حق رکھتا ہے، تاہم اس کے بدلے ایجنسی کو مکمل نگرانی اور معائنہ کی اجازت دینا ضروری ہے۔
برطانوی اخبار کو دیے گئے انٹرویو میں گروسی نے کہا کہ این پی ٹی کی پاسداری کا مطلب یہ ہے کہ متعلقہ ملک ایجنسی کو مکمل رسائی فراہم کرے تاکہ وہ جوہری مواد کی آخری حد تک نگرانی کر سکے اور یہ یقینی بنایا جا سکے کہ اسے کسی اور مقصد کے لیے استعمال نہیں کیا جا رہا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران افزودگی کر سکتا ہے، لیکن شفافیت اور مکمل تعاون اس کا لازمی تقاضا ہے۔
یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا ایران سے مکمل طور پر افزودگی روکنے کا مطالبہ کرتا رہا ہے۔ ایران کا مؤقف ہے کہ وہ این پی ٹی کا رکن ہے اور پرامن جوہری سرگرمیوں بشمول یورینیم افزودگی کا حق رکھتا ہے، اور اس حق سے دستبردار نہیں ہوگا۔
رپورٹ کے مطابق حالیہ کشیدگی کے دوران ایران کے تین جوہری مراکز، جو آئی اے ای اے کی نگرانی میں تھے، حملوں کا نشانہ بنے۔ گروسی نے ان حملوں کی مذمت نہیں کی، تاہم انہوں نے متاثرہ تنصیبات تک معائنہ کاروں کو رسائی دینے پر زور دیا ہے۔ ایران کا کہنا ہے کہ جب تک ایجنسی ان حملوں سے متعلق اپنا واضح مؤقف اختیار نہیں کرتی اور بمباری شدہ تنصیبات کے معائنے کا فریم ورک طے نہیں کیا جاتا، اس وقت تک متاثرہ مقامات تک رسائی ممکن نہیں ہوگی۔
گروسی نے مزید کہا کہ ایجنسی کو یقین ہے کہ اعلیٰ درجے کی افزودہ یورینیم کی موجودہ ذخائر اب بھی متاثرہ تنصیبات میں موجود ہیں، اگرچہ وہ سو فیصد یقین کا دعویٰ نہیں کر سکتے۔ ان کے بقول، اس حوالے سے مختلف ذرائع سے حاصل شدہ معلومات ایک جیسی ہیں۔
انہوں نے یہ بھی بتایا کہ جنگ سے قبل ایران نے اصفہان میں ایک نئی زیرزمین تنصیب کے بارے میں آگاہ کیا تھا اور ایجنسی کو اس کا معائنہ کرنے کی اجازت بھی دی گئی تھی، تاہم طے شدہ تاریخ پر حملے شروع ہو گئے جس کے باعث معائنہ نہ ہو سکا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس مقام کی نوعیت اور وہاں موجود آلات کے بارے میں حتمی معلومات دستیاب نہیں ہیں۔
ایران کی وزارت خارجہ کے مطابق تہران بدستور این پی ٹی اور حفاظتی معاہدوں کا پابند ہے اور ملکی قانون کے مطابق سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کی نگرانی میں آئی اے ای اے سے تعاون جاری رکھے گا۔
ادھر برطانوی اخبار کی رپورٹ میں نشاندہی کی گئی کہ اسرائیل این پی ٹی کا رکن نہیں ہے اور اس کے جوہری پروگرام کے حوالے سے طویل عرصے سے ابہام پایا جاتا ہے۔ بعض بین الاقوامی اندازوں کے مطابق اسرائیل کے پاس درجنوں جوہری ہتھیار موجود ہو سکتے ہیں، تاہم اس نے اپنی تنصیبات کو بین الاقوامی معائنے کے لیے نہیں کھولا۔

مشہور خبریں۔

محمد الضیف کے دست راست اور فلسطینی مزاحمتی تحریک کے معمار مروان عیسی کون تھے؟

?️ 6 فروری 2025سچ خبریں:مروان عیسی، جو فلسطینی مزاحمتی تحریک کے معمار اور سائے میں

عوفر جیل میں فلسطینی قیدیوں نے اپنا کھانا واپس کردیا

?️ 27 مارچ 2022سچ خبریں:  عوفر جیل میں فلسطینی قیدیوں نے کمبل، کپڑے اور دیگر

نیٹو توسیع پسندی کے جنون میں مبتلا

?️ 8 جنوری 2022سچ خبریں:روسی وزارت خارجہ کی ترجمان نے نیٹو کی جانب سے اپنے

پاکستان سمیت 8 ملکوں کا صدر ٹرمپ کی غزہ بورڈ آف پیس میں شمولیت کی دعوت کا خیر مقدم

?️ 21 جنوری 2026اسلام آباد (سچ خبریں) پاکستان سمیت 8 اسلامی ملکوں کا غزہ بورڈ

وزیر خارجہ کی سعودی ہم منصب سے ملاقات،مختلف شعبہ جات میں دوطرفہ تعاون پر تبادلۂ خیال

?️ 8 مئی 2021ریاض (سچ خبریں) وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی اور سعودی وزیر خارجہ

ارشد ندیم کی تاریخی کامیابی پر یو اے ای کے سفیر کی پاکستانی عوام کو مبارکباد

?️ 10 اگست 2024سچ خبریں: پاکستان میں متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کے سفیر

جنوبی شام میں اسرائیلی جارحیت جاری/ صہیونیوں نے درعا میں ایک نوجوان شامی کو اغوا کر لیا

?️ 11 دسمبر 2025سچ خبریں : جولانی حکومت کی خاموشی اور بے عملی کے درمیان

پاکستان کا یورپی پارلیمنٹ توہین مذہب قرار داد پر مایوسی کا اظہار کیا

?️ 1 مئی 2021اسلام آباد(سچ خبریں) پاکستان نے یورپی پارلیمنٹ میں توہین مذہب کے حوالے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے