امریکی جاسوسی کے انکشافات پر مغربی ممالک کا ردعمل

جاسوسی

?️

سچ خبریں:امریکہ کی جانب سے اپنے اتحادی ممالک کی جاسوسی کیے جانے کے انکشاف پر متعدد مغربی ممالک نے رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے اس اقدام پر برہمی دکھائی ہے۔
امریکہ کی جانب سے اپنے اتحادی ممالک کی جاسوسی کیے جانے کی رپورٹ منظر عام پر آنے کے بعد جرمن حکومت نے اعلان کیا کہ امریکہ اور ڈنمارک کی جانب سے جرمن چانسلر کی جاسوسی کے بارے میں سامنے آنے والی میڈیا رپورٹس سے واقف ہے اور اس معاملے کی تصدیق کے لئے متعلقہ قومی اور بین الاقوامی ایجنسیوں سے رابطے میں ہے،جرمن حکومت کے ترجمان نے کہا کہ حکومت جرمن چانسلر انگیلا میرکل اور اس وقت کے وزیر خارجہ فرینک والٹر اسٹین میئر کی جاسوسی میں امریکہ کے ساتھ ڈنمارک کی مداخلت کی اطلاعات کی تحقیقات کر رہی ہے۔

یادرہے کہ فرانس نے پہلے بھی کہا تھا کہ اگر تصدیق ہو جاتی ہے کہ امریکہ اور ڈینش نے یورپی عہدیداروں کی جاسوسی کی ہے تو یہ بات انتہائی تشویشناک ہوگی،فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے ایک بیان میں کہا کہ اگر یہ انکشاف سچ ہے تو میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ اتحادیوں کے مابین یہ قابل قبول نہیں ہے، میں امریکیوں اور یورپیوں کے مابین اعتماد پر مبنی تعلقات میں دلچسپی لے رہا ہوں جو کہیں نہیں مل سکتا ہے اس میں شکوک و شبہات کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔

میکرون نے مزید کہا کہ ان کی حکومت نے ڈنمارک اور امریکہ سے جاسوسی سے متعلق تمام معلومات شیئر کرنے کو کہا ہےاور وہ اس کے جواب کا انتظار کر رہے ہیں،درایں اثنا ڈنمارک کے وزیر دفاع تھیری برہمسن نے بتایا کہ قریبی اتحادیوں کی منظم جاسوسی ناقابل قبول ہے،این ایس ای چینل نے اس رپورٹ پر تبصرہ کرنے سے انکار کردیا۔

واضح رہے کہ نیدرلینڈ میں یوروپی پارلیمنٹ کے ممبر بارٹ گروٹویس نے کہا کہ بین الاقوامی قانون کے تحت سیاسی جاسوسی کی ممانعت نہیں ہے ،یہ ایک حقیقت ہے، اگرچہ ناگوار ہے لیکن جب آپ بین الاقوامی قانون پر غور کرتے ہیں تو آپ کو ایسا کرنے میں کوئی حرج نظر نہیں آتاہے۔

قابل ذکر ہے کہ بین الاقوامی تعلقات کا نظام فطری طور پر معاندانہ ہے اور اتحادیوں میں بھی ایسا ہی ہے، برطانوی سیاستدان لارڈ پامرسٹن نے انیسویں صدی کہا تھا کہ ممالک کو اپنی جاسوسی ہونا پسند نہیں ہے اس لیے کہ ان کے بھی مفادات ہیں،واضح رہے کہ مغربی طاقتوں کے مابین کوئی مساوات یا باہمی احترام نہیں ہے، اپنے اتحادیوں کے خلاف امریکہ کی قیادت قانون کی پاسداری نہیں کرتی ہے بلکہ زبردستی اور جبر پر مبنی ہے،ریاستہائے متحدہ کے ساتھ اتحاد کرنا آسان نہیں ہے، کیونکہ یہ ملک نہ صرف یہ کہ اپنے اتحادی ملک کی خودمختاری کو متاثر کرتا ہے بلکہ اس کی ہر چیز کو بھی کنٹرول کرتا ہے، امریکہ اور یورپ کے مابین اتحاد کی بظاہر فریب دہ حقیقت ہے۔

واضح رہے کہ غیر ملکی اتحادیوں کی جاسوسی در حقیقت بین الاقوامی تعلقات کے معیارات کی خلاف ورزی نہیں ہے جبکہ بہت سے طریقوں سے یہ ان اصولوں کے مطابق ہے، امریکہ کے قریبی اتحادی ، یعنی جرمنی ، فرانس اور صیہونی حکومت ، دوسرے ممالک کی جاسوسی کے لئے مشہور ہیں، تاہم ، اعلی سطحی یوروپی عہدیدار ، میرکل کی باتیں سننا جاسوسی کی دنیا میں واضح طور پر حیرت انگیز طور پر بڑا اقدام ہے۔

اس جاسوسی کی آسان ترین وجہ یہ ہوسکتی ہے کہ امریکہ اور جرمنی متحد ہونے کے باوجود اب بھی انتہائی بنیادی امور پر مسابقت کر رہے ہیں، یہاں تک کہ میرکل کی جاسوسی سے امریکی مفادات کو مزید مدد مل سکتی ہے تاہم یہ تمام منفی تبصروں امریکہ کی جانب لے جائے گا۔

 

مشہور خبریں۔

حماس کا اسرائیل کے خطرناک منصوبوں پر انتباہ

?️ 22 دسمبر 2025سچ خبریں:حماس نے اسرائیل کے ایک 13 منزلہ عمارت مسمار کرنے کو

محمد بن سلمان انسانی حقوق کی خلاف ورزی کرنے والوں میں سر فہرست

?️ 27 نومبر 2021سچ خبریں:انسانی حقوق کے مطالعہ کے ایک ادارے نے سعودی ولی عہد

آیت اللہ سیستانی کی پوپ کے سامنے بے مثال شجاعت ؛فلسطینی قلمکار

?️ 8 مارچ 2021سچ خبریں:ایک فلسطینی قلمکار نے کیتھولک دنیا کے رہنما کے سامنے فلسطین

پبلک سیکٹر کے ناکارہ جنریشن پلانٹس کی نیلامی کا منصوبہ شدید مشکلات کا شکار

?️ 14 جولائی 2025اسلام آباد: (سچ خبریں) حکومت کا پبلک سیکٹر کے ناکارہ جنریشن پلانٹس

کریملن کا یوکرائنی اناج کی چوری کی ترکی کی مبینہ تحقیقات پر ردعمل

?️ 23 جون 2022سچ خبریں:     جیسا کہ روس کی جانب سے یوکرائنی اناج کی

وائٹ ہاؤس: حکومتی شٹ ڈاؤن مذاکرات ناکام ہونے کی صورت میں برطرفی شروع ہو جائے گی

?️ 7 اکتوبر 2025سچ خبریں: وائٹ ہاؤس نے اعلان کیا کہ اگر حکومتی شٹ ڈاؤن

شیرین ابو عاقلہ کے قتل کی نئی تفصیلات سامنے آئیں

?️ 20 مئی 2023سچ خبریں:ما خفی اعظم پروگرام میں صیہونی حکومت کی فوج کے ہاتھوں

فیض آباد دھرنا ملکی تاریخ کا ایک اور سیاہ ترین باب ہے، شاہد خاقان عباسی

?️ 1 اکتوبر 2023اسلام آباد:(سچ خبریں) سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے 2017 میں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے