?️
امریکیوں کا غزہ میں دہشتگرد گروہوں سے رابطہ،ٹرمپ کے امن منصوبے کا مستقبل غیر یقینی
اسرائیلی ذرائع کے مطابق،امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے داماد اور مشیر خصوصی جَیرڈ کُوشنر کے حالیہ دورۂ اسرائیل کے دوران امریکی حکام نے غزہ میں سرگرم مسلح گروہوں سے رابطے قائم کیے ہیں۔ یہ پیشرفت ایسے وقت میں ہوئی ہے جب اسرائیل نے غزہ میں بین الاقوامی امن فوج کی تعیناتی کی مخالفت کی ہے، اور اب خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ امریکہ ان گروہوں کو متبادل سلامتی فورس کے طور پر استعمال کرنا چاہتا ہے۔
عبرانی روزنامہ اسرائیل ہیوم کی رپورٹ کے مطابق، کوشنر نے اسرائیلی حکام کی ثالثی میں غزہ کے دو مسلح گروہوں کے سربراہان، یاسر ابوشباب (در رفح) اور حسام الاسطل (در خان یونس) کے ساتھ ملاقات کی۔ ذرائع کے مطابق، یہ ملاقات امریکی قیادت میں قائم بین الاقوامی کمانڈ سینٹر کریات گات میں ہوئی، جہاں غزہ کے اندر "سلامتی کے انتظامات” پر بات چیت کی گئی۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ امریکی حکام ان گروہوں کے ساتھ ایسا فریم ورک تشکیل دینا چاہتے ہیں جس کے تحت یہ گروہ غزہ کے مخصوص علاقوں میں نظم و نسق اور سیکیورٹی برقرار رکھیں۔ اس کے بدلے، ابوشباب اور الاسطل نے مطالبہ کیا ہے کہ امریکہ ان کی سلامتی کی ضمانت دے اور انہیں حماس کے خلاف کارروائیوں میں حمایت فراہم کرے۔
اسرائیلی میڈیا کے مطابق، اسرائیل چاہتا ہے کہ ان گروہوں کو غزہ کے جنوبی اور شمالی حصوں میں قائم ہونے والے "انسانی امدادی مراکز” میں بھی استعمال کیا جائے تاکہ وہاں نظم و نسق قائم رکھا جا سکے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات اس لیے کیے جا رہے ہیں کیونکہ امریکہ اور اسرائیل، غزہ میں بین الاقوامی امن فوج کے قیام کے معاملے پر کسی نتیجے تک نہیں پہنچ سکے۔ اسرائیل نے ترکی سمیت بعض ممالک کی شمولیت پر بھی اعتراض کیا ہے۔
اسی دوران، سعودی چینل الحدث نے رپورٹ دی کہ یاسر ابوشباب نے کوشنر سے علیحدہ ملاقات بھی کی ہے، جس میں انہیں کہا گیا کہ وہ حماس کے جنگجوؤں کو رفح کے زیرزمین سرنگوں کے ذریعے ان کے زیرِکنٹرول علاقوں میں محفوظ راستہ فراہم کریں۔
دوسری جانب، اسرائیلی ٹی وی چینل 11 کان نے تصدیق کی کہ بعض مسلح گروہوں کے نمائندوں نے امریکی افسران سے ملاقاتیں کی ہیں، تاہم مقام کی تصدیق نہیں کی گئی۔
مبصرین کے مطابق، غزہ میں امریکی سرگرمیوں کا مقصد "مقامی سیکیورٹی فورس” تشکیل دینا ہے جو انسانی امداد کی تقسیم، نظم و نسق اور بعض علاقوں کے انتظامات کو سنبھال سکے۔
رپورٹوں کے مطابق، ابوشباب کا گروہ پہلے سے ہی اسرائیلی خفیہ ایجنسی شاباک اور اسرائیلی فوج کے ساتھ تعاون کر رہا ہے اور رفح میں تخریب و تعمیر کے منصوبوں کی نگرانی کر رہا ہے۔
ادھر، امریکی جریدے پولیٹیکو نے اپنی ایک خصوصی رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ امریکی وزارت دفاع پینٹاگون اور ٹرمپ انتظامیہ کے درمیان گردش کرنے والی خفیہ دستاویزات میں امن منصوبے پر گہری تشویش ظاہر کی گئی ہے۔ ان دستاویزات کے مطابق، غزہ میں دیرپا امن قائم کرنے کے لیے واشنگٹن کو نہ صرف وسیع اقتصادی و سیکیورٹی کردار ادا کرنا ہوگا بلکہ اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان بداعتمادی بھی ایک بڑی رکاوٹ ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مرحلہ دوئم کے آغاز پر کئی سوالیہ نشان موجود ہیں، اور فی الحال اس منصوبے کے کامیاب ہونے کے امکانات کم دکھائی دیتے ہیں۔
اس تمام صورتحال کے باوجود، امریکی محکمۂ خارجہ کے ترجمان نے اعلان کیا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ اپنے 20 نکاتی امن منصوبے پر عملدرآمد جاری رکھے گی اور جنگ بندی کے عمل کو آگے بڑھانے کے لیے پرعزم ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق، امریکیوں کے ان خفیہ روابط نے غزہ کی صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے، اور ٹرمپ کا امن منصوبہ جس کا مقصد استحکام تھا اب خود خطے میں نئے تصادم کے امکانات کو بڑھا رہا ہے۔


مشہور خبریں۔
لبنان میں امریکہ کی نئی سازش
?️ 17 اکتوبر 2024سچ خبریں: لبنان کی عبوری حکومت کے وزیر اعظم نجیب میقاتی کی
اکتوبر
ڈسکوز ستمبر کی فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ کی مد میں صارفین کو 8.5 ارب روپے لوٹانے کی خواہاں
?️ 23 اکتوبر 2024اسلام آباد: (سچ خبریں) گزشتہ سال ایندھن کی لاگت کی مد میں
اکتوبر
شاہ محمود قریشی کے خلاف انسداد دہشت گردی عدالت میں چالان جمع
?️ 6 جولائی 2024سچ خبریں: پاکستان تحریک انصاف کے وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی کے
جولائی
سیاسی، فوجی اور معاشی دباؤ کے ذریعے مزاحمت کو غیرمسلح کرنے کی کوشش
?️ 5 جولائی 2025سچ خبریں: امریکہ، خطے کے اتحادیوں کے ساتھ مل کر، لبنان میں
جولائی
پاک بحریہ نےقومی کرکٹ ٹیم کو تاریخی فتح پر خراجِ تحسین پیش کیا
?️ 25 اکتوبر 2021اسلام آباد (سچ خبریں) پاک بحریہ نے بھی بھارت کے خلاف ٹی
اکتوبر
وزیراعظم شہبازشریف کی اپیل پر سیلاب زدگان کے لیے متحدہ عرب امارات سے امدادی سامان کی پہلی کھیپ آج پہنچے گی
?️ 28 اگست 2022اسلام آباد: (سچ خبریں) کراچی میں ترکی کے قونصل جنرل پیر کے روز ہوائی اڈے
اگست
طوفان الاقصی اور عرب صیہونی سمجھوتے کے مذاکرات کی خاک آلود میز
?️ 15 نومبر 2023سچ خبریں: غزہ میں صیہونیوں کے جرائم بشمول ہزاروں بچوں کا قتل
نومبر
2023 کی سب سے بااثر شخصیت
?️ 8 جنوری 2024سچ خبریں: ایک عرب نیوز ایجنسی نے ایک سروے کر کے 2023
جنوری