?️
امریکہ کا لبنان میں حزبالله کے خلعِ اسلحہ ہونے پر زور
امریکی وفد کی قیادت کرتے ہوئے وائٹ ہاؤس کے خصوصی ایلچی توماس باراک نے بیروت میں صدر لبنان جوزف عون سے ملاقات کے بعد ایک بار پھر حزبالله کی خلعِ اسلحہ پر زور دیا اور اسے اسرائیل کے لبنان سے انخلا کی شرط قرار دیا۔
باراک کے ساتھ اس وفد میں ریپبلکن سینیٹر لِنڈسے گراہم، نائب ایلچی مورگن اورٹیگاس اور ڈیموکریٹ سینیٹر جین شاہین شامل تھے۔ امریکی وفد نے لبنان کے حکام سے اسرائیل کی جنوب لبنان میں کارروائیوں کو روکنے کے لیے حزبالله کے ہتھیار ضبط کرنے کے اقدامات پر تبادلۂ خیال کیا۔
باراک نے صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ اسرائیل کے فوجی انخلا کا دارومدار لبنان کی جانب سے حزبالله کی خلعِ اسلحہ کے عملی اقدامات پر ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ بیروت کو جلدی سے ایک منصوبہ پیش کرنا ہوگا تاکہ حزبالله کے ہتھیار ضبط کیے جا سکیں، اور اس کے بعد ہی اسرائیل اپنی فوجی پوزیشن کے بارے میں فیصلہ کرے گا۔
لِنڈسے گراہم نے بھی کہا کہ حزبالله کی خلعِ اسلحہ کا مطالبہ لبنان کے عوام کی طرف سے کیا گیا ہے اور لبنان کو اسرائیل کے انخلا سے پہلے یہ قدم اٹھانا ہوگا۔ گراہم نے مزید دعویٰ کیا کہ امریکہ حزبالله کے ہتھیار ضبط کرنے کی صورت میں لبنان کے ساتھ تعلقات میں مثبت رویہ اختیار کرے گا اور ہر سطح پر اس کی حمایت کرے گا۔
مورگن اورٹیگاس نے بھی زور دیا کہ لبنان کی فوج کو حزبالله کے ہتھیار ضبط کرنے میں معاونت فراہم کی جائے اور الزام لگایا کہ حزبالله لبنان کے عوام کے ساتھ وفادار نہیں ہے۔
دوسری جانب، حزبالله کے جنرل سیکریٹری شیخ نعیم قاسم نے واضح کیا کہ وہ اپنے دفاعی ہتھیاروں سے دستبردار نہیں ہوں گے اور اسرائیل کو لبنان میں آزادانہ حرکت کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔
توماس باراک نے پہلے بھی اسرائیل کے وزرائے اعلیٰ بشمول بنیامین نتانیہو سے ملاقاتیں کی ہیں اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ لبنان کے مخصوص علاقوں سے اپنی فوجیں واپس بلائیں تاکہ لبنان حزبالله کی خلعِ اسلحہ کی طرف راغب ہو۔ تاہم اسرائیل نے اس تجویز کی مخالفت کی اور مطالبہ کیا کہ سرحدی علاقوں میں ایک حفاظتی زون قائم کیا جائے، جس کے تحت بعض جنوبی لبنانی دیہات خالی کر دیے جائیں گے۔
اس سلسلے میں، لبنان کے حکام نے اسرائیل کی پیشکش کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل کو پہلے مکمل طور پر حملے روکنے ہوں گے۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ غزہ میں جاری جنگ کے پیشِ نظر، اسرائیل شمالی سرحدوں پر کشیدگی کم کرنے اور لبنان و شام کے ساتھ نئے معاہدے طے کرنے میں دلچسپی رکھتا ہے۔
توماس باراک نے جون 2023 کے بعد سے پانچ مرتبہ بیروت کا دورہ کیا ہے اور اس دوران انہوں نے بار بار حزبالله کی خلعِ اسلحہ اور لبنان میں حکومت کے کنٹرول میں ہتھیار رکھنے کی تجویز دی ہے، تاکہ اسرائیل کے فوجی انخلا اور متاثرہ علاقوں کی تعمیر و ترقی کے لیے مالی وسائل جاری کیے جا سکیں۔
Short Link
Copied


مشہور خبریں۔
اہلیان کراچی کے لیے بجلی سستی
?️ 29 ستمبر 2022 کراچی: (سچ خبریں) نیپرا نے کراچی کے صارفین کے لیے اگست
ستمبر
سپریم کورٹ نے عمران خان کے جسمانی ریمانڈ سے متعلق اپیلیں نمٹا دیں
?️ 23 اپریل 2025اسلام آباد: (سچ خبریں) سپریم کورٹ نے پاکستان تحریک انصاف کے بانی
اپریل
صیہونی حکام کی زبانی جنگ کا سلسلہ جاری
?️ 13 دسمبر 2022سچ خبریں:قابض حکومت کے عہدیداروں کے درمیان لفظی جنگ اور شدید اختلافات
دسمبر
اسرائیل کا مستقبل کیسا ہوگا؛صیہونی خفیہ ایجنسی کے سابق سربراہ کی زبانی
?️ 21 جولائی 2023سچ خبریں: صیہونی انٹیلی جنس اور داخلی سلامتی کے ادارے کے سابق
جولائی
انسٹاگرام پر دلچسپ ریل فیچر کی آزمائش
?️ 6 فروری 2025سچ خبریں: سوشل شیئرنگ ایپلی کیشن انسٹاگرام پر ’ریلز‘ کو ایک کلک
فروری
Police to deploy more than 5,800 personnel for IMF-World
?️ 9 اگست 2021 When we get out of the glass bottle of our ego
ریاض کے ایک سکیورٹی مرکزمیں دھماکہ اور سعودی حکام کا ردعمل
?️ 5 فروری 2022سچ خبریں:کچھ سوشل میڈیا آؤٹ لیٹس نے ریاض کے سکیورٹی زون میں
فروری
اردگان اسد سے ملاقات پر کیوں اصرار کرتے ہیں؟
?️ 28 دسمبر 2022سچ خبریں:شام کے صدر بشار الاسد نے ترک صدر رجب طیب اردگان
دسمبر