امریکہ، برطانیہ اور اسرائیل کی جانب سے یمن جنگ میں سعودی عرب اور امارات کی حمایت کا اختتام

امریکہ، برطانیہ اور اسرائیل کی جانب سے یمن جنگ میں سعودی عرب اور امارات کی حمایت کا اختتام

?️

امریکہ، برطانیہ اور اسرائیل کی جانب سے یمن جنگ میں سعودی عرب اور امارات کی حمایت کا اختتام
 یمنی سیاسی و اسٹریٹیجک تجزیہ کار ڈاکٹر ابراہیم طٰہ الحوثی نے اپنے تجزیاتی مضمون میں مغرب کی یمن پالیسی میں آنے والی نئی تبدیلیوں پر روشنی ڈالی ہے۔ ان کے مطابق ایک دہائی کی طویل جنگ اور یمن میں مسلسل ناکامیوں کے بعد مغربی طاقتیں اس نتیجے پر پہنچی ہیں کہ اب وہ اپنے عرب اتحادیوں کی غیر مشروط حمایت جاری رکھنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔
انصاراللہ (حوثی) کی عسکری پیش رفت نے خطے میں طاقت کا توازن بدل دیا ہے اور امریکہ و اسرائیل کے سیاسی منصوبے شدید چیلنجز سے دوچار ہو چکے ہیں۔ واشنگٹن، لندن اور تل ابیب سے موصول ہونے والی خفیہ رپورٹس مغرب کی علاقائی حکمتِ عملی میں اس واضح تبدیلی کی نشاندہی کرتی ہیں، جس کے نتیجے میں سعودی عرب، امارات اور قطر اب بیرونی حمایت پر انحصار ختم کرنے پر مجبور ہوں گے۔
ڈاکٹر الحوثی کے مطابق، امریکہ، برطانیہ اور اسرائیل نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ اب سعودی عرب، امارات اور قطر کو یمن میں انصاراللہ اور یمنی مسلح افواج کے خلاف کسی بھی قسم کی فوجی، سیاسی یا معاشی مدد فراہم نہیں کریں گے، کیونکہ ماضی میں وہ خود اس محاذ پر ناکام رہے ہیں۔
ان رپورٹس میں یہ سفارش بھی کی گئی ہے کہ سعودی عرب کو بغیر کسی تاخیر کے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے چاہئیں۔ مزید برآں، امریکہ، برطانیہ اور اسرائیل نے محمد بن سلمان کو مشورہ دیا ہے کہ وہ اپنی بادشاہت کی خواہش ترک کر دیں اور آلِ سعود خاندان میں کسی نئے حکمران کا تقرر کیا جائے۔ یہی سفارشات امارات کے محمد بن زاید اور قطر کے امیر تمیم بن حمد کے بارے میں بھی دی گئی ہیں۔
ڈاکٹر الحوثی کا کہنا ہے کہ مغربی انٹیلیجنس ایجنسیاں "محمد بن سلمان” کو باقاعدہ طور پر بادشاہ تسلیم کرنے کی حامی نہیں ہیں، حتیٰ کہ ان کے والد "شاہ سلمان” کی وفات کو بھی ایک سال سے زائد عرصہ گزر چکا ہے، لیکن محمد بن سلمان بغاوت کے خوف سے اس خبر کو سرکاری طور پر ظاہر کرنے سے گریزاں ہیں۔
ان رپورٹس میں تجویز دی گئی ہے کہ محمد بن سلمان کو اپنے والد کی موت کا اعلان کر کے اسرائیل کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لانا چاہیے، کیونکہ امریکہ اور اسرائیل اب کسی فوجی یا سیاسی مدد کے قابل نہیں رہے۔
ڈاکٹر الحوثی نے خبردار کیا ہے کہ اگر سعودی عرب، امارات یا قطر نے یمن کے خلاف دوبارہ کوئی فوجی مہم جوئی کی تو اس کا نتیجہ ان حکومتوں کے خاتمے کی صورت میں نکلے گا۔ انصاراللہ اور یمنی مسلح افواج کے پاس وہ صلاحیت موجود ہے کہ وہ چند دنوں یا حتیٰ کہ چند گھنٹوں میں ریاض اور ابوظہبی تک پہنچ جائیں اور تیل کی تنصیبات، آرامکو، ہوائی اڈوں اور بندرگاہوں پر قبضہ کر لیں۔
ان کے بقول، سعودی عرب کے وہ گروہ جن پر وہ یمن میں انحصار کر رہا ہے، جیسے کہ سیاسی قیادت کونسل، طارق عفاش، العرادہ اور الاصلاح پارٹی، دراصل بدعنوان گروہ ہیں جو صرف سعودی پیسہ لوٹ رہے ہیں۔ امریکہ، برطانیہ اور اسرائیل کی افواج بھی اب صنعاء کے ساتھ کسی نئی جنگ میں شریک ہونے کے لیے تیار نہیں، کیونکہ انصاراللہ نے اپنی میزائل اور بحری صلاحیتوں میں نمایاں ترقی کر لی ہے۔
ڈاکٹر الحوثی کے مطابق، حتیٰ کہ اگر ڈونلڈ ٹرمپ دوبارہ اقتدار میں آجائیں، تب بھی امریکہ یمن کے خلاف کسی نئی جنگ میں حصہ نہیں لے گا، کیونکہ امریکی فوج اب خطے کے ڈکٹیٹر اور مطلق العنان حکمرانوں کے لیے لڑنے کی خواہشمند نہیں رہی۔

مشہور خبریں۔

صیہونی سیاستدان کا نیتن یاہو کی کابینہ کے خاتمے کا مطالبہ 

?️ 18 فروری 2025 سچ خبریں:صہیونی اپوزیشن کے ایک اہم رہنما نے نیتن یاہو کی

فلسطینی مجاہد بیٹی ایک بار پھر صیہونیوں کے ہاتھوں گرفتار

?️ 6 نومبر 2023سچ خبریں: صہیونی فوج نے پیر کی صبح رام اللہ کے مغرب

ناسا کی مریخ پر آکسیجن تیار کرنے میں اہم کامیابی

?️ 23 اپریل 2021واشنگٹن(سچ خبریں) امریکی خلائی تحقیقاتی ادارے ناسا نے مریخ پر آکسیجن تیار

صیہونیوں کو اسلحہ کی ترسیل کے خلاف احتجاج میں مراکشی بندرگاہ کے ملازمین کے اجتماعی استعفے

?️ 25 اپریل 2025سچ خبریں:اسرائیل کو اسلحہ کی ترسیل پر احتجاج کرتے ہوئے مراکش کی

امریکہ روس پر دہشت گرد حملوں کے لیے داعشی فورسز کو بھرتی کرنے کی کوشش میں

?️ 14 فروری 2023سچ خبریں:روسی فیڈریشن کی فارن انٹیلی جنس نے آج اطلاع دی کہ

نیتن یاہو کی کابینہ کے خلاف تل ابیب میں 10 ہزار افراد کا مظاہرہ

?️ 10 جنوری 2023سچ خبریں:ماہرین کے مطابق بچوں کو قتل کرنے والی حکومت کے عدالتی

ٹرمپ کا غزہ منصوبہ ایک تباہی ہے:برطانوی اخبار

?️ 2 اکتوبر 2025ٹرمپ کا غزہ منصوبہ ایک تباہی ہے:برطانوی اخبار برطانوی ویب سائٹ مڈل

بن سلمان کے کیوب پروجیکٹ کو درپیش چیلنجز

?️ 25 فروری 2023سچ خبریں:امریکی نیوز چینل سی ان ان نے اپنی ایک رپورٹ میں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے