?️
اماراتی عہدیداروں کی سعودی عرب پر شدید تنقید،یمن کے معاملے پر اختلافات کھل کر سامنے آ گئے
متحدہ عرب امارات کے متعدد اعلیٰ عہدیداروں نے یمن سے متعلق حالیہ سعودی اقدامات پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ابوظبی اپنے اتحادیوں کو تنہا نہیں چھوڑے گا، جبکہ سعودی عرب کے اقدامات پر نہ خدا راضی ہے اور نہ ہی بندگانِ خدا۔
عربی ویب سائٹ عربی 21 کے مطابق، اماراتی صدر کے سابق مشیر عبدالخالق عبداللہ نے مکلا بندرگاہ پر عسکری کارروائی کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ یہ کوئی بہادری کا اقدام نہیں۔ انہوں نے یمن کی صدارتی کونسل کے سربراہ رشاد العلیمی کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ وہ اپنی قانونی حیثیت کھو چکے ہیں اور ان کے بیانات کی کوئی وقعت نہیں۔
عبدالخالق عبداللہ نے زور دیتے ہوئے کہا کہ امارات اپنے اتحادیوں کو کبھی بھی راستے میں بے یار و مددگار نہیں چھوڑے گا۔ ان کے بقول، ابوظبی سیاسی اور عسکری سطح پر اپنے شراکت داروں کی عزت و وقار کے ساتھ حمایت جاری رکھے گا اور اپنی قومی و انسانی ذمہ داریوں سے پیچھے نہیں ہٹے گا۔
دوسری جانب، ابو ظہبی پولیس کے نائب سربراہ ضاحی خلفان نے بھی سعودی عرب پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ جو کچھ سعودی عرب نے کیا ہے، اس پر نہ اللہ راضی ہے اور نہ ہی لوگ۔ انہوں نے کہا کہ سعودی حملے اور اس کے بعد وزارتِ خارجہ کے بیان نے یمن کے شمال اور جنوب دونوں کو بحران سے دوچار کر دیا ہے۔ ان کے مطابق، اگر قانونی حیثیت صرف شمال کے لیے سمجھی جائے اور جنوب کو نظر انداز کیا جائے تو یہ وحدت کے تمام دعوؤں کے خلاف ہے۔
یہ بیانات اس وقت سامنے آئے ہیں جب سعودی عرب کی قیادت میں یمن کی صدارتی کونسل کے حامی اتحاد نے غیر معینہ مدت تک مکلا بندرگاہ کو خالی کرنے کا حکم دیا۔ اتحاد کا کہنا ہے کہ یہ اقدام ایک فوجی کارروائی کے تناظر میں شہریوں کے تحفظ کے لیے کیا گیا ہے۔ اسی دوران ذرائع ابلاغ نے مکلا بندرگاہ پر دو اماراتی جہازوں پر سعودی فضائی حملوں کی بھی اطلاع دی ہے۔
اس سے قبل سعودی اتحاد کے ترجمان ترکی المالکی نے کہا تھا کہ رشاد العلیمی کی درخواست پر حضرموت میں ایسے تمام فوجی اقدامات کا براہِ راست مقابلہ کیا جائے گا جو سعودی عرب اور امارات کی مشترکہ کشیدگی کم کرنے کی کوششوں کے منافی ہوں۔ ان کا کہنا تھا کہ مقصد جنوبی عبوری کونسل کی افواج کا انخلا، فوجی چھاؤنیوں کی حوالگی اور شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنانا ہے۔
ادھر سعودی وزارتِ خارجہ نے ایک بیان میں امارات سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ 24 گھنٹوں کے اندر اندر یمن سے اپنی تمام افواج واپس بلائے اور کسی بھی فریق کو فوجی یا مالی امداد فراہم کرنا بند کرے۔ سعودی عرب نے ساتھ ہی خلیجی تعاون کونسل کے ممالک کے درمیان برادرانہ تعلقات اور حسنِ ہمسائیگی کو برقرار رکھنے پر بھی زور دیا۔
حالیہ دنوں میں جنوبی عبوری کونسل کی افواج نے یمن کے جنوبی صوبوں میں نمایاں پیش رفت کی ہے۔ اطلاعات کے مطابق، انہوں نے حضرموت میں شہر سیئون اور سعودی سرحد سے ملحقہ بعض تیل کے میدانوں پر کنٹرول حاصل کر لیا ہے، جبکہ المہرہ میں بھی متعدد مقامی رہنماؤں نے اس کونسل سے وفاداری کا اعلان کیا ہے۔
ان پیش رفتوں کے بعد سعودی حمایت یافتہ افواج بعض علاقوں سے پسپا ہو کر مأرب کی جانب منتقل ہو گئی ہیں۔ ان حالات نے جنوبی عبوری کونسل اور سعودی حامی دیگر گروہوں کے درمیان نئے تصادم کے خدشات کو بڑھا دیا ہے، جبکہ یمن کی ممکنہ تقسیم اور 1990 سے پہلے کے “جنوبی یمن” کی بحالی سے متعلق قیاس آرائیاں بھی ایک بار پھر زور پکڑتی جا رہی ہیں۔


مشہور خبریں۔
لداخ ”کے ڈی اے، ایل اے بی“کا مطالبات تسلیم نہ کیے جانے کی صورت میں احتجاجی تحریک کی دھمکی
?️ 19 اپریل 2025کارگل: (سچ خبریں) بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں وکشمیر میں
اپریل
غزہ کے خلاف تل ابیب کے منصوبے میں تعاون کے لیے چھ ممالک کے نام
?️ 19 اگست 2025سچ خبریں: وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ کے مطابق، صہیونی ریجیم نے
اگست
کورونا ویکسین بنانے والے غریب ممالک کی مدد نہیں کرتے: ایمنسٹی انٹرنیشنل کی رپورٹ
?️ 23 ستمبر 2021سچ خبریں:ایمنسٹی انٹرنیشنل کا کہنا ہے کہ کورونا ویکسین تیار کرنے والی
ستمبر
آرمی چیف سے ترک بری فوج کے چیف آف جنرل اسٹاف کی ملاقات
?️ 27 دسمبر 2021راولپنڈی(سچ خبریں)آرمی چیف جنرل قمرجاوید باجوہ سے ترکی کی بری فوج کےچیف
دسمبر
ایف بی آر نے گزشتہ سال کے مقابلے میں 700 ارب روپے سے زائد اکٹھے کر لیے
?️ 1 جولائی 2021اسلام آباد (سچ خبریں) ایف بی آر حکام کی جانب سے بتایا
جولائی
عراق میں صیہونی حکومت کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لانا قانونی طور پر جرم
?️ 26 مئی 2022سچ خبریں: عراقی پارلیمنٹ نے آج جمعرات 26 مئی کو صیہونی حکومت
مئی
تحریک انصاف کے جلسوں میں انٹرنیٹ بندش، آئی ٹی حکام کو پارلیمنٹ طلب کرنے کا فیصلہ
?️ 27 جنوری 2024اسلام آباد: (سچ خبریں) سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ نے تحریک
جنوری
پوٹن حملہ کرے یا نہ کرے اسے قیمت چکانی ہوگی: پیلوسی
?️ 20 فروری 2022سچ خبریں: امریکی ایوان نمائندگان کی اسپیکر نینسی پیلوسی نے جرمنی میں
فروری