?️
اماراتی اہلکار کا سوڈان جنگ کو روکنے کا دعویٰ، خود امارات کے کردار پر سوال برقرار
ایسے وقت میں جب مختلف رپورٹیں امارات کی جانب سے سودانی شبه فوجی گروہ ریپڈ سپورٹ فورسز کی پشت پناہی کو جنگ کے طول پکڑنے کی ایک بڑی وجہ قرار دیتی ہیں، امارات کے صدر کے سفارتی مشیر انور قرقاش نے دعویٰ کیا ہے کہ ابوظبی جنگ کے فوری خاتمے، انسانیت سوز جرائم کے ذمہ داروں کی گرفتاری اور ایک آزاد شہری حکومت کے قیام کا خواہاں ہے۔
عرب ویب سائٹ صدی البلد کے مطابق قرقاش نے کہا کہ سودان کی خانہ جنگی فوراً رکنی چاہیے اور ان تمام افراد کو جوابدہ ٹھہرایا جانا چاہیے جو قتل و غارت اور دیگر سنگین جرائم میں ملوث ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ سودان کی قومی یکجہتی کو لاحق خطرات اور اخوان المسلمون کے بڑھتے ہوئے اثرات تشویش ناک ہیں، اس لیے فوری انسانی امداد اور ایک خودمختار سول حکومت کی تشکیل ضروری ہے۔
دوسری جانب سودان کی انسانی صورتحال بدستور بگڑ رہی ہے۔ سودانی ڈاکٹرز نیٹ ورک نے بتایا کہ گزشتہ ایک ماہ کے دوران الدلنج اور کادوقلی شہروں میں 23 بچے شدید غذائی قلت کے باعث دم توڑ چکے ہیں۔
ادھر سوڈانی عبوری خودمختار کونسل کے سربراہ عبدالفتاح البرہان نے ریاست النیل الابیض میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ فوج باغی ریپڈ سپورٹ فورسز کے خلاف کارروائیاں جاری رکھے گی اور واپسی کا کوئی راستہ نہیں۔
مغربی سودان کے کئی علاقے، خصوصاً کردفان، ان دنوں شدید لڑائی کی لپیٹ میں ہیں۔ اطلاعات کے مطابق شمالی کردفان میں فوج نے متعدد محاذوں پر پیش قدمی کی ہے اور جھڑپیں اپنے سخت ترین مرحلے میں داخل ہو چکی ہیں۔
ریپڈ سپورٹ فورسز نے گزشتہ ماہ فاشر شہر اور اس کے نواحی علاقوں میں گیارہ روز تک بڑے پیمانے پر شہریوں کے خلاف جرائم کے بعد ایک عبوری جنگ بندی کی تجویز قبول کی تھی، لیکن لڑائی میں کمی نہیں آئی۔ حکومت کا اصرار ہے کہ باغیوں کو شہری علاقوں سے نکلنا ہوگا اور اغوا کیے گئے افراد کو فوری رہا کرنا ہوگا۔
فاشر پر ان کا قبضہ یکم ہفتہ قبل اس وقت مضبوط ہوا جب انہوں نے ایک سالہ محاصرے کے بعد شہر میں داخل ہو کر بڑی تعداد میں شہریوں کو نشانہ بنایا۔ مقامی ذرائع کے مطابق بے گناہ افراد کے خلاف سنگین جرائم کے شواہد مل رہے ہیں۔
اسی دوران مڈل ایسٹ آئی نے سفارتی ذرائع کے حوالے سے انکشاف کیا ہے کہ واشنگٹن میں ہونے والی جنگ بندی بات چیت کے دوران اماراتی نمائندے نے فاشر کی صورتحال پر کسی بھی بحث کو مسترد کر دیا تھا۔ رپورٹ کے مطابق اس رویے نے مذاکرات کی ناکامی میں اہم کردار ادا کیا اور اس کے بعد ریپڈ سپورٹ فورسز کو کارروائیوں میں تیزی لانے کا غیر رسمی اشارہ بھی مل گیا، جس نے خطے میں انسانی بحران کو مزید سنگین بنا دیا۔
اس تمام پس منظر کے باوجود امارات یہ دعویٰ کر رہا ہے کہ وہ سودان میں امن، سیاسی استحکام اور خانہ جنگی کے خاتمے کا خواہاں ہے۔


مشہور خبریں۔
روسی افواج شام میں موجود رہیں گی: لاوروف
?️ 27 مئی 2022سچ خبریں: روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے کہا کہ دمشق کی
مئی
موبائل فون کے استعمال سے کسی طرح کا کینسر نہیں ہوتا، تحقیق
?️ 7 ستمبر 2024سچ خبریں: عالمی ادارہ صحت کے کمیشن کی جانب سے کی جانے
ستمبر
صیہونی جوہری ہتھیار
?️ 2 اگست 2022سچ خبریں:صیہونی عبوری حکومت کے وزیراعظم نے غیر واضح طور پر اس
اگست
تھائی لینڈ کی پارلیمنٹ کو تحلیل کرنا اور 2026 کے اوائل میں قبل از وقت انتخابات کا انعقاد
?️ 12 دسمبر 2025سچ خبریں: اے پی نیوز ایجنسی کے مطابق، تھائی لینڈ کے عبوری
دسمبر
ترکی اور امریکہ کا شام کے مستقبل میں کردار ادا کرنے پر تبادلہ خیال
?️ 14 دسمبر 2024سچ خبریں:ترکی اور امریکہ کے وزرائے خارجہ نے شام کے مستقبل میں
دسمبر
اسرائیل کی امریکہ سے انصاراللہ کے حملوں کی روک تھام کے لیے شرم الشیخ معاہدے میں شمولیت کی درخواست
?️ 21 اکتوبر 2025اسرائیل کی امریکہ سے انصاراللہ کے حملوں کی روک تھام کے لیے
اکتوبر
پی ڈی ایم کی چیف جسٹس کے خلاف ’سازش‘ کچل دی گئی، پی ٹی آئی
?️ 14 اپریل 2023اسلام آباد:(سچ خبریں) پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے کہا ہے
اپریل
غزہ میں اے ایف پی کے دفتر پر بمباری
?️ 3 نومبر 2023سچ خبریں:غزہ پر صیہونی حکومت کے حملوں میں اب تک 41 صحافی
نومبر