اسرائیل کی جنگی جارحیت،لیزر دفاعی نظام آئرن بیم کی رونمائی سے خطے میں کشیدگی میں اضافہ

اسرائیل

?️

اسرائیل کی جنگی جارحیت،لیزر دفاعی نظام آئرن بیم کی رونمائی سے خطے میں کشیدگی میں اضافہ

 ایسے وقت میں جب صہیونی حکومت کی دھمکیوں کے باعث خطہ پہلے ہی بڑھتی ہوئی کشیدگی کا شکار ہے، اسرائیل نے لیزر پر مبنی نیا دفاعی نظام آئرن بیم  متعارف کرا کے نہ صرف اسلحہ جاتی دوڑ کو تیز کر دیا ہے بلکہ مزاحمتی قوتوں کے خلاف ایک واضح دھمکی آمیز پیغام بھی دیا ہے۔

اسرائیلی اخبار یدیعوت آحارانوت کی رپورٹ کے مطابق، صہیونی حکومت نے ایک سرکاری تقریب میں، جس میں اعلیٰ عسکری اور سکیورٹی حکام شریک تھے،اور ایتان نامی لیزر سسٹم کو باقاعدہ طور پر فوج کے حوالے کر دیا۔ تل ابیب اس نظام کو فضائی دفاع میں انقلابی پیش رفت قرار دے رہا ہے، تاہم ناقدین کے مطابق یہ اقدام خطے میں جنگی اشتعال انگیزی اور طاقت کے مظاہرے کا حصہ ہے۔

یہ تقریب رافائل جنگی صنعت کے مراکز میں منعقد ہوئی، جس میں وزیر جنگ اسرائیل کاتس، وزارتِ جنگ کے ڈائریکٹر جنرل امیر برعم، فضائیہ کے کمانڈر تومر بار اور دیگر اعلیٰ حکام موجود تھے۔ اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ یہ دنیا کا پہلا عملی لیزر دفاعی نظام ہے جو راکٹ، مارٹر شیل اور ڈرونز کو مار گرانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

اسرائیلی وزارتِ جنگ کے مطابق،آئرن بیم جدید لیزر ٹیکنالوجی اور الیکٹرو آپٹیکل ٹارگٹنگ سسٹم سے لیس ہے اور ہر ہدف کو نہایت کم لاگت پر تباہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ تل ابیب اس کم خرچ خصوصیت کو اپنی بڑی کامیابی قرار دے رہا ہے، کیونکہ آئرن ڈوم جیسے روایتی دفاعی نظاموں سے ایک راکٹ روکنے پر دسیوں ہزار ڈالر خرچ ہوتے ہیں۔

اس نظام کا نام ایک صہیونی فوجی ایتان اوسٹر کے نام پر رکھا گیا ہے جو جنوبی لبنان میں ہلاک ہوا تھا۔ تقریب میں اس کے والد کی موجودگی کو بھی نمایاں کیا گیا۔

وزیر جنگ اسرائیل نے کھلے الفاظ میں کہا کہ یہ نظام خطرے کے توازن کو بدل دے گا اور اس کا پیغام تہران، صنعا اور بیروت تک پہنچے گا۔ یہ بیان صہیونی حکومت کی جارحانہ سوچ اور خطے میں طاقت کے ذریعے دباؤ ڈالنے کی پالیسی کو واضح کرتا ہے۔

رافائل کے سربراہ نے دعویٰ کیا کہ اس نظام کو لبنان میں حزب اللہ کے ساتھ حالیہ جھڑپوں کے دوران عملی جنگی حالات میں آزمایا جا چکا ہے اور اس نے نمایاں کارکردگی دکھائی ہے۔ تاہم صہیونی تجزیہ کاروں نے خبردار کیا ہے کہ دفاعی ٹیکنالوجی پر حد سے زیادہ انحصار وہی غلطی دہرا سکتا ہے جو ماضی میں آئرن ڈوم کے ساتھ کی گئی، جس کے نتیجے میں اسرائیل کو شدید نقصانات اٹھانا پڑے۔

ماہرین کے مطابق، اگرچہ یہ لیزر نظام تکنیکی اعتبار سے اہم ہے، تاہم اس کی کئی بنیادی کمزوریاں بھی ہیں۔ یہ نظام موسم کی خرابی، دھند، بارش، گردوغبار اور دھوئیں سے شدید متاثر ہوتا ہے۔ اس کی مؤثر رینج صرف 7 سے 10 کلومیٹر ہے اور یہ ایک وقت میں صرف ایک ہدف کو نشانہ بنا سکتا ہے، جو اجتماعی حملوں کی صورت میں ایک بڑا نقص ہے۔

اس کے علاوہ یہ نظام سائبر اور الیکٹرانک وارفیئر کے حملوں کا بھی آسان ہدف بن سکتا ہے، توانائی کی زیادہ ضرورت، حرارت کے جمع ہونے کا مسئلہ، آگ لگنے کے خدشات اور بحری جہازوں پر نصب ہونے کی صورت میں خطرات بھی اس کے بڑے مسائل میں شامل ہیں۔

تجزیہ کاروں کے مطابق، آئرن بیم کی رونمائی اسرائیل کی دفاعی طاقت سے زیادہ اس کی عدم تحفظ کے احساس اور مزاحمتی قوتوں کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کی عکاسی کرتی ہے، اور یہ اقدام خطے میں امن کے بجائے کشیدگی اور اسلحہ جاتی مقابلے کو مزید ہوا دے گا۔

مشہور خبریں۔

امریکہ کے سیاہ اور شرمناک دن

?️ 27 جولائی 2024سچ خبریں: امریکی کانگریس میں نیتن یاہو کی تقریر کے ساتھ ہی

صہیونی ٹیم کی یمن میں موجودگی کی وجہ کیا ہے ؟

?️ 13 ستمبر 2025سچ خبریں: یروشلم پوسٹ اخبار نے اعلان کیا ہے کہ اس اخبار سے

صیہونی حکومت نے کیے غزہ کے جنوب اور شمال میں فضائی حملے

?️ 2 جنوری 2022سچ خبریں:  آج صبح اسرائیلی لڑاکا طیاروں نے جنوبی غزہ کی پٹی

صیہونی فوج میں ہائی الرٹ

?️ 6 اپریل 2022سچ خبریں:صیہونی فوج کو غزہ کے خلاف کاروائی کرنے کے لیے تیار

کولمبیا یونیورسٹی نے غزہ کی حمایت کرنے پر 70 طلباء کو دی سزا 

?️ 24 جولائی 2025سچ خبریں: فاکس نیوز کی رپورٹ کے مطابق، کولمبیا یونیورسٹی نے فلسطین

پاکستان کا ایران اور اسرائیل کے د رمیان جنگ بندی کا خیر مقدم

?️ 24 جون 2025اسلام آباد (سچ خبریں) پاکستان نے ایران اور اسرائیل کے درمیان جنگ

دشمن میڈیا اور مزاحمتی محاذ کے خلاف نفسیاتی جنگ؛ طریقے اور نتائج  

?️ 5 اپریل 2025 سچ خبریں:عراقی سیاسی تجزیہ نگار نجاح محمد علی نے دشمن میڈیا

پرانے زمانے کی بات ہے سیالکوت آتا تو کاروباری حضرات کرکٹ بیٹ تحفے میں دیتے،خواجہ آصف

?️ 23 اکتوبر 2022لاہور: (سچ خبریں) وزیر دفاع خواجہ آصف نے چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کو کڑی تنقید

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے