?️
اسرائیل غزہ کا ماڈل لبنان میں بھی دہرا سکتا ہے
لبنانی روزنامہ الاخبار خبردار کرتا ہے کہ لبنان کو علاقائی معادلات اور امریکہ کے سابق منصوبے میں نظر انداز کیے جانے کے بعد اسرائیل اس ملک کے خلاف عسکری اور سیاسی دباؤ بڑھا سکتا ہے اور غزہ میں بروئے کار لائے گئے ماڈل کو لبنان پر بھی آزمایا جا سکتا ہے۔
روزنامے کا کہنا ہے کہ لبنان کو شرم الشیخ اجلاس سے باہر رکھا جانا اور ڈونلڈ ٹرمپ کے بڑے امن منصوبے میں شامل نہ کیا جانا اس بات کا اشارہ ہے کہ بیروت اب علاقائی ترجیحات کی فہرست میں سرفہرست نہیں رہا۔ اسی پس منظر میں یہ بحث زور پکڑ گئی ہے کہ اگر حزب اللہ خود کو مسلح رکھنے سے انکار کرے تو لبنان کے ساتھ بھی وہی کارروائی ہو سکتی ہے جو غزہ میں عمل میں آئی۔
الاخبار نے امریکہ اور اسرائیل کے بیانات اور لبنان کے صدر کی حالیہ اپیلوں کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا ہے کہ تازہ حملہ سے خاص طور پر علاقے المصیلح” پر یہ خدشہ بڑھا گیا ہے کہ تل ابیب تنازعہ دوبارہ بھڑکا سکتا ہے۔ اس حملے کو بعض حلقوں نے پیغام کے طور پر لیا ہے کہ اسرائیل لبنان کے خلاف جنگ دوبارہ شروع کرنے کے لیے تیار ہے۔
میڈیا رپورٹوں کے مطابق امریکی حکام جنوب لبنان کے بعد کے منظرنامے پر غور کر رہے ہیں اور متعدد اختیارات زیرِ بحث ہیں، جن میں جنوبی علاقوں کو بین الاقوامی فورس کے حوالے کرنے کا امکان بھی شامل ہے خاص طور پر اگر اقوامِ متحدہ کی موجودہ یونِیفل افواج ختم ہو گئیں۔ اس سفارشی منظرنامے میں عارضی طور پر امریکی فوجی تعیناتی کا امکان بھی زیرِ غور ہے تاوقتِ حلِ تنازعات اور سرحدی نقاط کی حد بندی کے۔
یورپی ممالک کے اندر بھی یونِیفل کی مدتِ کار کے بعد فورس برقرار رکھنے یا نہ رکھنے کے حوالے سے اندرونی بحث جاری ہے۔ الاخبار نوٹ کرتا ہے کہ یورپی افواج کی تعیناتی اقوامِ متحدہ کے قرارداد کے ذریعے نہیں بلکہ لبنان اور یورپی یونین ممالک کے باہمی معاہدے کے تحت ہوگی، اور اسرائیل عام طور پر غیر امریکی افواج پر اعتماد نہیں کرتا۔
اس رپورٹ میں اسرائیلی اخبار یدیعوت احرونوت کے بیان کا بھی حوالہ دیا گیا ہے جس میں شمالی محاذ پر نظر رکھنے اور حزبِ اللہ کی سرگرمیوں کے خلاف فوجی آزادی مانگی گئی ہے اور اس اندازِ عمل کو غزہ کی جانب سے اپنائے گئے جیسی حکمتِ عملی کی مانند قرار دیا گیا ہے، جس کا مقصد جنوب کو مستقل طور پر کنٹرول کرنا بتایا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق اسرائیل روزانہ حملے کر کے نہ صرف لبنان کی خودمختاری اور جنگ بندی کی خلاف ورزی کر رہا ہے بلکہ امریکہ کی بھرپور حمایت بھی حاصل ہے؛ اس کے برعکس لبنانی سیاسی قیادت مزاحمتی قوتوں کے خلاف دباؤ ڈالنے میں مصروف ہے اور ان کے خلعِ سلاح پر توجہ مرکوز کر رہی ہے، بجائے اس کے کہ وہ اسرائیلی حملوں کا مقابلہ کریں۔
Short Link
Copied


مشہور خبریں۔
ہفتہ وار مہنگائی بدستور 35 فیصد سے زائد
?️ 21 اکتوبر 2023اسلام آباد: (سچ خبریں) قلیل مدتی مہنگائی 19 اکتوبر کو ختم ہونے
اکتوبر
برطانوی بادشاہ کی تاجپوشی پر عوام کے162 ملین پاؤنڈ خرچ:لندن کی سرکاری رپورٹ
?️ 21 مئی 2023سچ خبریں:برطانوی بادشاہ کی تاج پوشی پر 162 ملین پاؤنڈ خرچ ہوئے
مئی
حزب اللہ کے خودکش ڈرون کے صیہونیوں پر اسٹریٹجک اثرات
?️ 3 مئی 2026سچ خبریں:حزب اللہ کے ایف پی وی ڈرون صیہونی دشمن کی فوجی
مئی
بھارتی اداکارہ نے ایک اور اعزاز اپنے نام کر لیا
?️ 26 جنوری 2022ممبئی (سچ خبریں)بالی ووڈ کی معروف اداکارہ کترینہ کیف نے ایک اور
جنوری
صیہونی اعلیٰ فوجی انٹیلی جنس عہدیدار مستعفی،وجہ؟
?️ 4 اپریل 2024سچ خبریں: قابض اسرائیلی حکومت کی ملٹری انٹیلی جنس برانچ (امان) کے
اپریل
ٹرمپ قطر پر اسرائیلی دہشتگردانہ حملےمین ملوث تھے:حماس
?️ 11 ستمبر 2025ٹرمپ قطر پر اسرائیلی دہشتگردانہ حملےمین ملوث تھے:حماس فلسطینی مزاحمتی تحریک حماس
ستمبر
سی ٹی ڈی کی کارروائی، کالعدم تنظیموں کے 11 دہشت گرد گرفتار
?️ 7 مئی 2023لاہور: (سچ خبریں) سی ٹی ڈی پنجاب نے بہاول پور سمیت صوبے کے
مئی
اقوام متحدہ کا 15 مارچ کو اسلاموفوبیا کے خلاف جدوجہد کا دن مقرر کرنے کا اعلان
?️ 16 مارچ 2022سچ خبریں:اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں ایک بل پاس کیا گیا
مارچ