صہیونیوں کی ایرانی قیادت کو نشانہ بنانے کی کوششیں اور عالمی خاموشی

 صہیونیوں کی ایرانی قیادت کو نشانہ بنانے کی کوششیں اور عالمی خاموشی

?️

سچ خبریں:نیتن یاہو کابینہ نے اعلیٰ ایرانی حکام کے قتل کی کوشش کر کے ملک میں خانہ جنگی بھڑکانے کا منصوبہ بنایا، مگر حملہ ناکام رہا؛ عالمی برادری تاحال خاموش ہے۔

صیہونی حکومت کی جانب سے اسلامی جمہوریہ ایران کی اعلیٰ قیادت کو قتل کرنے کی ناکام کوشش، نیتن یاہو حکومت کے اس عزم کی عکاس ہے کہ ایران میں سیاسی استحکام کو تہہ و بالا کر کے خانہ جنگی کی راہ ہموار کی جائے۔
ایران اور صہیونی ریاست کے مابین حالیہ 12 روزہ جنگ کے کئی پہلو تاحال پردۂ راز میں ہیں، صیہونی جارحیت کے تازہ ترین مناظر تجریش اسکوائر پر حملہ اور بیسیوں عام شہریوں کی شہادت نے ظاہر کر دیا کہ صہیونی ہدف صرف ایرانی تنصیبات نہیں بلکہ عام لوگ بھی ہیں۔ حملے میں 700 شہری جان سے گئے، جن میں خواتین اور بچے بھی شامل تھے۔
صہیونی فوج نے تمام اخلاقی و قانونی حدود توڑ کر شورائے عالیٰ امنیت ملی کی نشست کو بھی نشانہ بنایا۔ مقصد یہ تھا کہ ایک ہی وار میں ایرانی سیاسی ’دماغ کو مفلوج کر دیا جائے۔ خوش قسمتی سے حفاظتی تدابیر بروقت کام آئیں اور قیادت محفوظ رہی۔
حملے سے قبل سبھی کی نظریں ایران–امریکا غیرمستقیم مذاکرات کے چھٹے دور پر تھیں، لیکن تل ابیب نے اچانک جنگ چھیڑ دی۔ دعویٰ تھا کہ مقصد ایران کا ایٹمی و میزائلی پروگرام ختم کرنا ہے، مگر جلد ہی واضح ہوا کہ اصل ارادہ اندرونی شورش اور نظام کی تبدیلی ہے۔
سپاہ پاسداران کے میزائل اسرائیلی دفاعی نظام کو چیرتے ہوئے تل نوف ایئربیس، موساد ہیڈکوارٹر اور حيفا ریفائنری سمیت کئی تزویراتی ٹھکانوں تک پہنچے نتیجتاً اسرائیل نے جنگ روکنے کے لیے امریکہ، ڈونلڈ ٹرمپ اور خلیجی اتحادیوں کا سہارا لیا۔
نیتن یاہو کابینہ نے حزب اللہ کے خلاف ستمبر 2024 کی طرح اب بھی ’پریemptive منطق اپنائی، مگر شورائے عالیٰ امنیت ملی پر حملہ ناکام رہا۔ سوال یہ ہے کہ ایران کب اور کیسے جواب دے گا؟
اگر اقوامِ متحدہ واقعی عالمی ارادے کی ترجمان ہوتی تو غزہ، لبنان، شام، یمن اور اب ایران پر اسرائیلی جارحیت روکنے کے لیے فوری اقدام کرتی، تہران عندیہ دے چکا ہے کہ صہیونی قیادت کو استثنا حاصل نہیں رہے گا۔
قتل و غارت صہیونی ڈی این اے کا حصہ ہے۔ موساد، آمان اور شاباک نے اس کو منظم ہتھیار بنا دیا ہے، اعلیٰ ایرانی حکام کی ٹارگٹ کلنگ کی ناکام کوشش نہ صرف جنگی جرم ہے بلکہ علاقائی امن و سلامتی کے لیے خطرناک مثال بھی۔ مستقبل قریب کے واقعات طے کریں گے کہ اسرائیل کو اس اقدام کی کتنی بھاری قیمت چکانا پڑے گی۔

مشہور خبریں۔

پاکستان میں اومی کرون کا ابھی کوئی کیس رپورٹ نہیں ہوا: فیصل سلطان

?️ 30 نومبر 2021اسلام آباد(سچ خبریں) وزیرِ اعظم عمران خان کے معاونِ خصوصی برائے صحت

غزہ کی پٹی میں آباد کاری کے لیے انتہا پسند صہیونیوں کا نیا تصور

?️ 2 فروری 2024سچ خبریں:غزہ کی پٹی میں اسرائیلی حکومت اور مزاحمتی گروپوں کے درمیان

فلسطینی خواتین پر صیہونی مظالم کی المناک داستان

?️ 8 مارچ 2021سچ خبریں:فلسطین لبریشن آرگنائزیشن نے عالمی یوم خواتین کے موقع پر انسانی

شہباز شریف کا قطر اور متحدہ عرب امارات کی قیادت کو ٹیلی فون

?️ 9 جولائی 2022اسلام آباد:(سچ خبریں)وزیر اعظم شہباز شریف نے متحدہ عرب امارات اور قطر

حکومت چین کے ساتھ تجارتی معاہدوں پر دوبارہ بات چیت کرے، پاکستان بزنس کونسل

?️ 1 فروری 2025 اسلام آباد: (سچ خبریں) پاکستان بزنس کونسل (پی بی سی) نے

کیا اسرائیلی حکومت میں احتجاج اور اندرونی تنازعات نیتن یاہو کی کابینہ کو گرا دیں گے؟

?️ 25 مئی 2025سچ خبریں: روسی سپوتنک نیوز ایجنسی نے اپنی ایک رپورٹ میں صیہونی

علی امین گنڈاپور نے بجلی کے خالص منافع کی مد میں بقایاجات کیلئے وزیراعظم کو مراسلہ ارسال کر دیا

?️ 2 اپریل 2025 پشاور: (سچ خبریں) وزیراعلیٰ خیبرپختونخواہ علی امین گنڈا پور نے خیبر

صیہونی اپنی فوجی ہلاکتوں کی صحیح تعداد کیوں نہیں بتاتے؟

?️ 11 دسمبر 2023سچ خبریں: اسرائیلی صحافی نے کہا ہے کہ فوج کی ہلاکتیں سرکاری

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے