🗓️
(سچ خبریں) 20 سال افغانستان پر قابض رہنے والا امریکا افغانستان سے خاموشی سے کیسے نکل جائے گا اسی لیے وہ جاتے جاتے بھی بمباری اور راکٹ حملوں سے باز نہیں آیا جس کی طالبان نے سختی سے مذمت کی ہے، لیکن دنیا خاموش؟ امریکا اور ساری دنیا یہ بتائے کہ دنیا میں کہاں ایسا ہوتا ہے کہ فتح کے بعد غدار شہریوں اور دشمن کی افواج کو سکون سے ملک سے نکلنے دیا جاتا ہے لیکن 15 دنوں میں تقریباً ایک لاکھ نوے ہزار افراد افغانستان سے باہر جا چکے ہیں۔
طالبان نے 15اگست کو بغیر گولی چلائے کابل پر فتح حاصل کر لی تھی اور دو ہفتوں میں ہزاروں کی تعداد میں مغربی ممالک کے شہری اور اس کے ساتھ ساتھ ان کے لیے کام کرنے والے غدار افغان شہری اور ان کے خاندان والے بھی افغانستان چھوڑنے میں کامیاب ہو گئے جس کے بعد امریکا نے داعش کا نام لے کر پہلے کابل ائر پورٹ پر بم دھماکا اور بعد میں بمباری اور 29 اگست کو کابل ائر پورٹ پر راکٹ حملے کر دیے۔
امریکا پر پوری جنگ میں فضائی حملوں میں کئی شہریوں کو ہلاک کرنے کا الزام ہے، طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے پیر کو چین کے سرکاری ٹیلی ویژن سی جی ٹی این کو انٹرویو دیتے ہوئے کابل میں پہلے بغیر بتائے امریکی ڈرون حملے کی مذمت کی ہے۔ رائٹرز کے مطابق ترجمان کا کہنا تھا کہ امریکا کا اپنی مرضی سے دوسرے ممالک میں حملے کرنا غیر قانونی ہے۔
وائٹ ہاؤس کے بیان میں کہا گیا ہے کہ قومی سلامتی کے مشیر جیک سولیوان اور چیف آف اسٹاف رون کلین نے صدر بائیڈن کو کابل کے حامد کرزئی ائرپورٹ پر راکٹ حملے کے متعلق بریفنگ دی، اس سے قبل خبر رساں ادارے رائٹرز کو امریکی حکام نے بتایا تھا کہ اس حملے میں کم از کم پانچ راکٹ ائرپورٹ پر داغے گئے تھے لیکن ائرپورٹ کے خودکار میزائل دفاعی نظام نے اس حملے کو ناکام بنا دیا۔
یہ سب کچھ عالمی قوانین کے مطابق ہے؟ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سمیت امریکا کی سربراہی میں ہونے والے اجلاس میں افغانستان سے انخلا کی صورتحال زیر بحث ہے، برطانیہ عالمی سطح پر ایک اتفاق رائے حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے کہ طالبان پر زور دیا جائے کہ وہ ان غیر ملکی اور افغان شہریوں جو ملک چھوڑ کر جانا چاہتے ہیں کو محفوظ راستہ دینے کے وعدے کی پاسداری کریں۔
یہ سب کچھ امریکا اور ان کے اتحادی ان لوگوں کے لیے کہہ رہے ہیں جنہوں نے نومبر 2001 میں طالبان اور ان اہل خانہ کو بے دردی سے کابل کی سڑکوں پر ہلاک اور ان کی بیٹیوں کو امریکی افواج کے حوالے کیا تھا تاکہ امریکی درندے ان معصوموں کو بے آبروکریں۔
ہم نے اپنے 30 اگست 2021ء کو شائع ہونے والے کالم میں لکھا ہے کہ صنعتی ممالک جی 7- کے اجلاس میں بھی طالبان کی حکومت کو تسلیم کرنے کے لیے لمبی چوڑی شرائط کی لسٹ تیار کی جارہی ہے اس کے لیے امریکا، برطانیہ، فرانس اور یورپی ممالک تن من دھن سے طالبان کو حکومت سے بے دخل کرنے کی سازشوں میں مصروف ہیں لیکن اس مرتبہ طالبان بھی امریکا، فرانس اور برطانیہ کو دھوبی کا کتا بنا کر ہی دم لیں گے جو نہ گھرکے ہوں گے اور نہ ہی کسی گھاٹ تک پہنچ سکیں گے۔
ملک سے فرار ہو نے والے افغانیوں کو یہ بات بہت دیر میں سمجھ میں آئے گی کہ امریکا اور دیگر غیر مسلم ممالک ان کو ملک بدر کرنے لیے اب کیوں پریشان ہیں جو افغانستان میں 20 سال قیام کے بعد بھی آج ان کو دربدر کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور کر رہے ہیں اب بھی خدشہ ہے کہ آٹھ سو سے گیارہ سو کے قریب ایسے افغان شہری جنہوں نے برطانیہ کے ساتھ کام کیا اور ایک سو سے ڈیڑھ سو کے قریب برطانوی شہری انخلا کے دوران پروازیں حاصل نہیں کر سکے۔
برطانیہ کے دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ برطانیہ سمیت دیگر بہت سے ممالک کو طالبان کی طرف سے یہ یقین دہانی کروائی گئی تھی کہ ان غیر ملکی اور افغان شہریوں کو جن کے پاس مکمل دستاویزات ہوں گے، ملک چھوڑنے کی اجازت ہو گی، تاہم ان افراد کے لیے ایک غیر یقینی کی کیفیت موجود ہے کہ جو غیر ملکی سرحدوں پر پہنچ چکے ہیں امریکا نے ان افراد کے ملک میں داخلے کے لیے کوئی مراکز قائم نہیں کیے ہیں، ان ممالک کا مغربی ممالک کے مقابلے پر طالبان پر زیادہ اثر رسوخ ہے، جی سیون ممالک کے سربراہان اور ناٹو حکام بھی شریک ہوئے اور توقع ہے کہ برطانوی سیکرٹری خارجہ یہ بات بھی سامنے رکھیں گے کہ خطے میں استحکام کے ساتھ افغانستان کو دوبارہ سے دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہ بننے سے روکا جائے، اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے پانچ مستقل رکن ممالک امریکا، فرانس، چین، روس اور برطانیہ کا اجلاس بھی 30 اگست کو ختم ہو گیا۔
29 اگست کی شب کابل سے امریکا روانہ ہونے والے فوجی طیاروں میں ایک ہزار سے زیادہ شہریوں کی روانگی کے بعد افغانستان سے امریکی شہریوں کے انخلا کا عمل تقریباً مکمل ہو چکا ہے وہاں تعینات فوجی دستے اور سفارتی عملہ بھی ملک چھوڑ چکا ہے، اس طرح 31 اگست کو تقریباً دو دہائی تک جاری رہنے والی امریکا کی طویل ترین جنگ اپنے اختتام کو پہنچ جائے گی۔
امریکی محکمہ دفاع کے ترجمان کے مطابق صرف 28 اگست کو 32 امریکی فوجی طیاروں کی مدد سے چار ہزار افراد روانہ ہوئے جبکہ اتحادی ممالک کے 34 طیاروں میں 2800 افراد کابل سے پرواز کر گئے، ترجمان کے مطابق امریکا جانے والے 117000 افراد میں سے 5400 امریکی شہری جبکہ باقی تمام افغان شہری ہیں، برطانیہ نے اس عرصے میں 15 ہزار افرد کو ملک سے باہر نکالا ہے لیکن برطانوی افواج کے سربراہ جنرل نک کارٹر نے بی بی سی کو بتایا کہ کم از کم 1100 افغان ایسے ابھی بھی ہیں جنہیں وہ کابل سے نہیں نکال سکے اور انہیں اس کا بہت افسوس ہے، امریکا اور برطانیہ کے علاوہ افغانستان سے جن ممالک نے کم از کم ہزار سے زیادہ افراد کو وہاں سے نکالا ہے ان کی تعداد دس ہے۔
دوسری جانب امریکی فوجیوں کے انخلا کا آخری مرحلہ مکمل ہو چکاہے، صدر جو بائیڈن نے افغانستان سے تمام امریکی افواج کے انخلا کے لیے 31 اگست کی ڈیڈ لائن مقرر کررکھی تھی۔ یہ امریکا کی تاریخ کا طویل ترین فوجی تنازع ہے جو 11 ستمبر کے حملوں کے جواب میں شروع ہوا تھا۔
امریکا نے طالبان حکومت کو 2001ء میں ختم کر دیا تھا، انہوں نے 15 روز قبل اقتدار واپس لے لیا، جس کی وجہ سے امریکی قیادت میں انخلا کی پروازوں میں خوفزدہ لوگوں کی نقل مکانی شروع ہو گئی، وہ پروازیں جنہوں نے کابل ائرپورٹ سے ایک لاکھ 14 ہزار سے زائد افراد کو باہر نکالا، 31 اگست کو سرکاری طور پر اس وقت ختم ہوجائیں گی جب ہزاروں امریکی فوجی ملک سے بے آبرو ہو کر نکل گئے۔
دو دن قبل امریکی صدر جو بائیڈن نے خبردار کیا تھا کہ کابل ائرپورٹ پر مزید حملوں کا بہت زیادہ خدشہ ہے اور امریکا نے کہا ہے کہ اس نے اتوار کی رات کابل میں دھماکا خیز مواد سے بھری گاڑی پر فضائی حملہ کیا، طالبان کے ایک ترجمان نے اتوار کو ہونے والے امریکی حملے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ دھماکا خیز مواد سے لیس ایک کار کو تباہ کر دیا گیا تھا، جس کا ہدف ائرپورٹ تھا اور ممکنہ طور پر دوسرا حملہ قریبی مکان پر ہوا، امریکا کی افغانستان سے بے آبرو رخصتی کے بعد افغانستان کا امن دوبارہ بحال ہو جائے گا۔
مشہور خبریں۔
کئی سال سے موسیقی نہیں سنی، عاطف اسلم کا انکشاف
🗓️ 15 جنوری 2025کراچی: (سچ خبریں) معروف گلوکار و موسیقار عاطف اسلم نے انکشاف کیا
جنوری
اسرائیل اپنے وجود کے بحران سے دوچار
🗓️ 12 اگست 2022سچ خبریں:فلسطینی عوام مزاحمتی محاذ کا کہنا ہے کہ اس وقت صیہونی
اگست
الدہیشہ کیمپ پر صیہونیوں کا حملہ ؛ متعدد فلسطینی گرفتار
🗓️ 4 جنوری 2022سچ خبریں:صیہونی فوج نے مغربی کنارے میں رام اللہ میں واقع الدہیشہ
جنوری
بنگلہ دیش میں ایک عبوری حکومت قائم
🗓️ 6 اگست 2024سچ خبریں: بنگلہ دیشی فوج کے کمانڈر جنرل واکر اوز زمان نے میڈیا
اگست
صیہونی فوج کو کہاں سے زندہ واپس نہ آنے کا یقین ہے؟
🗓️ 16 اکتوبر 2023سچ خبریں: صیہونی حکومت کے ایک فوجی کمانڈر نے خبردار کیا ہے
اکتوبر
کیلیفورنیا میں ہنگامی حالات کا اعلان
🗓️ 16 جنوری 2023سچ خبریں:خبر رساں ادارے روئٹرز نے اتوار کو اعلان کیا کہ امریکی
جنوری
غزہ میں طبی تباہی کا امکان: اقوام متحدہ
🗓️ 28 دسمبر 2023سچ خبریں:اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل برائے امور انسانی اور اس تنظیم
دسمبر
صوبائی اسمبلیوں کی ممکنہ تحلیل کا معاملہ، شہباز شریف خصوصی طیارے پر لاہور پہنچ گئے
🗓️ 2 دسمبر 2022لاہور: (سچ خبریں) پنجاب اور خیبرپختونخوا اسمبلیوں کی ممکنہ تحلیل روکنے کے لیے حکومتی اتحاد
دسمبر