?️
سچ خبریں:ماہرین کے مطابق اگر آبنائے ہرمز اور باب المندب ایک ہی وقت میں بند ہو جائیں تو عالمی تجارت، تیل و گیس کی ترسیل، بحری نقل و حمل اور سپلائی کے عالمی سلسلے شدید بحران سے دوچار ہو سکتے ہیں۔
الجزیرہ کے مطابق باب المندب دنیا کی اہم ترین اقتصادی اور تزویراتی آبی گذرگاہوں میں شمار ہوتی ہے، جس کا اثر علاقائی اور بین الاقوامی تنازعات میں کسی فوجی طاقت سے کم نہیں۔
اس آبنائے کی چوڑائی اپنے تنگ ترین مقام پر تقریباً 30 کلومیٹر ہے اور یہ ایشیا میں یمن کو افریقہ میں جبوتی اور اریٹیریا سے ملاتی ہے۔ یہ اہم آبی راستہ بحیرہ احمر کو خلیج عدن اور بحیرہ عرب سے جوڑتے ہوئے بالآخر نہر سوئز اور بحیرہ روم تک رسائی فراہم کرتا ہے۔
روزانہ 7 سے 10 ملین بیرل تیل اس آبنائے سے گزرتا ہے۔ باب المندب یورپ، امریکہ اور ایشیائی منڈیوں کی جانب جانے والی عالمی تجارت کے تقریباً 12 سے 15 فیصد حصے کا بنیادی راستہ بھی ہے، جبکہ یورپ کی مائع قدرتی گیس کی ضرورت کا تقریباً 25 فیصد بھی اسی راستے سے پورا ہوتا ہے۔
اس آبنائے سے ہر سال تقریباً 21 ہزار بحری جہاز گزرتے ہیں، یعنی اوسطاً روزانہ 57 جہاز، جبکہ اس سے گزرنے والے سامان کی سالانہ مالیت تقریباً 700 ارب ڈالر تک پہنچتی ہے۔
الجزیرہ نے مزید بتایا کہ اگر اس آبنائے میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ پیدا ہو، خصوصاً اگر یہ آبنائے ہرمز میں آمدورفت کی بندش کے ساتھ بیک وقت ہو، تو عالمی بحری نقل و حمل شدید بحران کا شکار ہو سکتی ہے۔
اس صورت میں ایشیا سے یورپ تک بحری سفر کا دورانیہ 31 دن سے بڑھ کر 41 دن ہو جائے گا، جبکہ ایک اوسط مال بردار بحری جہاز کے سفر کی بنیادی لاگت اضافی اخراجات کے بغیر 10 لاکھ ڈالر سے بڑھ کر تقریباً 17 لاکھ ڈالر تک پہنچ سکتی ہے۔
باب المندب کی بندش کے نتائج
بین الاقوامی تیل اور توانائی کی منڈیوں کے ماہر عامر الشوبکی نے الجزیرہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ انصار اللہ یہ ثابت کر چکے ہیں کہ وہ اس آبنائے کو تجارتی اعتبار سے غیر محفوظ بنا سکتے ہیں، اور یہ صورت حال عملی طور پر مکمل بندش کے بہت قریب سمجھی جاتی ہے۔
گزشتہ چند برسوں کے دوران یمن کی مسلح افواج نے بحری جہازوں پر 100 سے زیادہ حملے کیے، جس کے باعث بڑی عالمی کمپنیوں کو اپنے بحری راستے تبدیل کرنا پڑے۔ اس کے نتیجے میں اس آبنائے سے گزرنے والے تیل کی مقدار 2023 میں تقریباً 9 ملین بیرل سے کم ہو کر 2024 میں 4 ملین بیرل رہ گئی۔
باب المندب کی اس صورت حال نے نہر سوئز کو بھی براہ راست متاثر کیا۔ نہر کی آمدنی 2023 میں 10.2 ارب ڈالر سے کم ہو کر 2024 میں تقریباً 4 ارب ڈالر رہ گئی۔
اسی طرح نہر سے گزرنے والے بحری جہازوں کی تعداد بھی 26 ہزار سے کم ہو کر تقریباً 13 ہزار رہ گئی، جس کے نتیجے میں مصر اپنی غیر ملکی آمدنی کے اہم ذرائع میں سے ایک سے محروم ہو گیا اور ملکی بجٹ اور مصری پاؤنڈ پر دباؤ میں اضافہ ہوا۔
بین الاقوامی تیل کی آبی گذرگاہوں کا گھیرا
ماہر تیل عامر الشوبکی کا کہنا ہے کہ سب سے بڑا خطرہ اس وقت پیدا ہوگا جب آبنائے ہرمز اور باب المندب دونوں بیک وقت متاثر ہوں۔ امریکہ اور صہیونی حکومت کی جانب سے ایران پر حملوں کے آغاز کے بعد آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت متاثر ہوئی تو سعودی عرب نے ملک کے مشرقی علاقوں سے مغربی ساحل پر واقع بندرگاہ ینبع تک تیل پہنچانے کے لیے مشرق۔مغرب پائپ لائن کا استعمال کیا تاکہ اپنے تیل کا ایک حصہ بین الاقوامی، خصوصاً ایشیائی منڈیوں تک پہنچا سکے۔
انہوں نے مزید کہا کہ حالیہ ہفتوں میں بحران کے دوران مشرق۔مغرب پائپ لائن کے ذریعے تقریباً 4.7 ملین بیرل تیل کی ترسیل ہو رہی تھی، جس کا تقریباً نصف حصہ چین جاتا تھا۔
بندرگاہ ینبع سے ایشیا جانے والے تیل کو باب المندب سے گزرنا پڑتا ہے، لہٰذا اگر یمنی قوتیں باب المندب بند کر دیں تو سعودی عرب کے لیے آبنائے ہرمز کا متبادل راستہ بھی خطرے میں پڑ جائے گا۔ اس طرح آبنائے ہرمز کی بندش کی صورت میں سعودی عرب، چین اور مصر سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ممالک ہوں گے۔
عامر الشوبکی کے مطابق اگر آبنائے ہرمز اور باب المندب ایک ساتھ بند ہو جائیں تو جنگ کا دائرہ مزید وسیع ہو جائے گا اور مصر، سعودی عرب، یورپ، چین، بھارت، جاپان اور جنوبی کوریا کے مفادات براہ راست اس بحران کی زد میں آ جائیں گے۔
آبنائے ہرمز اور باب المندب سے عالمی سپلائی کے سلسلے متاثر
اقوام متحدہ کی تجارت اور ترقی سے متعلق کانفرنس کی رپورٹ کے مطابق 2024 کے وسط تک باب المندب کے بجائے امید نیک کی بندرگاہ کے راستے بحری جہازوں کی تبدیلی سے عالمی سطح پر بحری جہازوں کی طلب میں 3 فیصد جبکہ مال بردار بحری جہازوں کی طلب میں 12 فیصد اضافہ ہوا۔ اس سے عالمی بندرگاہوں پر دباؤ بڑھا اور بحری نقل و حمل کی لاگت میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا۔
توانائی کے امور کی ماہر لوری ہیتایان نے کہا کہ اس آبنائے کی بندش کے اثرات صرف تیل اور گیس تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ عالمی سپلائی کے تمام سلسلوں کو متاثر کریں گے، کیونکہ باب المندب میں رکاوٹ پیدا ہونے سے ایشیا سے یورپ سامان پہنچنے میں اوسطاً 15 سے 20 دن کی تاخیر ہوگی، نقل و حمل کے اخراجات بڑھ جائیں گے اور پڑوسی ممالک کی معیشتوں پر بھی دباؤ میں اضافہ ہوگا۔
اسی تناظر میں خبر رساں ادارے رائٹرز نے خبردار کیا کہ باب المندب کی بندش کی مسلسل دھمکی ہی عالمی تجارت کو مفلوج کرنے کے لیے کافی ہے، کیونکہ بیمہ کی شرح میں اضافہ اور بحری کمپنیوں کی جانب سے خطرات کے نئے اندازوں کے باعث بحری جہاز طویل راستے اختیار کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ اس کے نتیجے میں کسی حقیقی حملے سے پہلے ہی قیمتوں میں اضافہ شروع ہو جاتا ہے اور بنیادی ضروریات سمیت مختلف اشیاء متاثر ہوتی ہیں۔
اس لیے باب المندب محض ایک جغرافیائی مقام نہیں بلکہ عالمی توانائی اور تجارت کی ایک اہم شہ رگ ہے، اور اس کی بندش یا بندش کی دھمکی عالمی معیشت کو براہ راست جھٹکا پہنچا سکتی ہے، جس کے اثرات صرف تیل تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ بحری نقل و حمل، رسد اور بین الاقوامی تجارت کے تمام شعبوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیں گے۔


مشہور خبریں۔
مشرق وسطیٰ پر امریکی تسلط کا دور ختم
?️ 27 جولائی 2022سچ خبریں:امریکی میگزین نے اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہ
جولائی
شامی عوام کے لیے قطر کی جانب سے 75 ملین ڈالر کی امداد
?️ 16 جون 2023سچ خبریں:قطر کے وزیر خارجہ سلطان بن سعد المریخی نے کہا کہ
جون
صیہونی حکومت کو آنے والے سال میں درپیش 6 بڑے خطرے
?️ 19 ستمبر 2023سچ خبریں: صہیونی کے ایک اعلیٰ عہدے دار نے چھ سنگین چیلنجوں
ستمبر
نئےقرض پروگرام پر مذاکرات کیلئے آئی ایم ایف کی تکینکی ٹیم پاکستان پہنچ گئی
?️ 10 مئی 2024اسلام آباد: (سچ خبریں) پاکستان کے ساتھ نئےقرض پروگرام پر مذاکرات کے
مئی
فلسطین کی عالمی برادری سے مسجد اقصیٰ میں کھدائی روکنے کی درخواست
?️ 4 جولائی 2022سچ خبریں: فلسطین کی وزارت خارجہ نے آج ایک بیان جاری کیا،
جولائی
بھارت میں کورونا وائرس کی شدت کے پیش نظر جو بائیڈن نے بھارت کے خلاف اہم قدم اٹھا لیا
?️ 30 اپریل 2021واشنگٹن (سچ خبریں) بھارت میں کورونا وائرس کی شدت کے پیش نظر امریکی
اپریل
پی آئی اے کا روزویلٹ ہوٹل کو مسمار کرنے کا منصوبہ
?️ 7 دسمبر 2023اسلام آباد: (سچ خبریں) پی آئی اے نیو یارک سٹی میں معروف
دسمبر
وزیراعظم، فیلڈ مارشل نے پاکستان کی عزت بڑھانے کیلئے تاریخی کام کیا۔ نواز شریف
?️ 21 اپریل 2026گلگت بلتستان (سچ خبریں) مسلم لیگ ن کے صدر و سابق وزیراعظم
اپریل