?️
سچ خبریں:صیہونی حکومت صرف محورِ مزاحمت کے خلاف اپنی قوت مدافعت کو دوبارہ زندہ کرنے کی کوشش نہیں کر رہی، بلکہ اس کا مقصد مشرقی عربی علاقے میں طاقت کے توازن کو تبدیل کرنا اور مغربی ایشیا کے سیکورٹی نظام کو نئے سرے سے تشکیل دینا ہے۔
حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی کے چند گھنٹوں بعد، شام میں موجود دہشت گرد گروہ، جن کی قیادت تحریر الشام (جسے سابقہ النصرہ فرنٹ بھی کہا جاتا ہے) کر رہا ہے، نے فتح المبین کے نام سے ائتلاف تشکیل دے کر ادلب سے حلب کی جانب پیش قدمی شروع کر دی۔
یہ بھی پڑھیں: اسرائیل شام پر حملہ کرنے کے لیے دہشت گرد گروہوں کے ساتھ تعاون کر رہا ہے: شام
اس گروہ کی تیز رفتار پیش قدمی شمالی اور شمال مغربی حلب کی جانب اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ لبنان میں جاری جنگ کی وجہ سے حزب اللہ کی فوجی توجہ ادلب کے جنوبی علاقے سے ہٹ کر کمزور پڑ گئی ہے۔
اس کے علاوہ، روسی فوج نے یوکرین کی جنگ کی وجہ سے اپنے کئی فوجی وسائل کو حمیمیم کے جنوب مشرقی لاذقیہ سے نکال کر ادلب-حلب کے قریبی فوجی علاقوں سے بھی پیچھے ہٹایا ہے، جسے مغربی ممالک نے بغض کے ساتھ نوٹ کیا ہے۔
لبنانی محاذ پر جاری جنگی صورتحال نے اسرائیل کو دمشق پر دباؤ ڈالنے کے لیے سبز روشنی دکھائی تاکہ وہ محورِ مزاحمت سے باہر نکلے اور حزب اللہ تک ہتھیاروں کی ترسیل کو روک سکے۔
اس دباؤ کے نتیجے میں اسرائیل نے ترکی اور شامی معارضان کو ادلب پر حملے کی اجازت دی، اس میں سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ آیا شامی معارضین اور دہشت گرد گروہ اس موقع سے فائدہ اٹھا کر شام میں داخلی جنگ کو دوبارہ بھڑکانے کی کوشش کریں گے، یا پھر عالمی طاقتیں صرف دمشق سے سیاسی فائدہ اٹھانے کے لیے ان گروپوں کا استعمال کر رہی ہیں؟
حلب میں کیا ہو رہا ہے؟
حلب، عمومی طور پر، شام کی جنگ میں مسلح معارضان کے خلاف شامی فوج کی جیت کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ 2 ملین کی آبادی کے ساتھ یہ اقتصادی مرکز نہ صرف صنعتی کمپلیکسز کا میزبان ہے بلکہ مشرقی عربی علاقوں کو بحرِ متوسط سے جوڑنے کے لئے ایک اسٹرٹیجک راستہ بھی فراہم کرتا ہے۔
مسلح معارضان کا ٹِی-5 شاہراہ پر قبضہ، حلب اور دمشق کے درمیان رابطہ منقطع کرنے کی کوششوں کی عکاسی کرتا ہے، اس وقت، مسلح افراد دعویٰ کر رہے ہیں کہ انہوں نے حلب کے 20 محلے، النبل، الزہرا اور ابوظهور فوجی ہوائی اڈے جیسے اہم مقامات پر قبضہ کر لیا ہے۔
المیادین چینل کے مطابق، دہشت گردوں کے زیر قبضہ علاقے حلب کے 60 فیصد علاقے پر پھیلے ہوئے ہیں۔
شامی فوج کی کاروائیاں
اس دوران، شامی فوج نے اپنی فضائی مدد کے ساتھ دہشت گردوں کے خلاف اہم جوابی حملے کیے ہیں، جس کے نتیجے میں کچھ مقامات دوبارہ شامی فوج کے قبضے میں آ چکے ہیں، شامی فوج کے مطابق، اب تک 500 سے زائد دہشت گرد مارے جا چکے ہیں اور کئی دہشت گرد گرفتار ہو چکے ہیں۔
تحریر الشام کی پیش قدمی
اگرچہ تحریر الشام کے دہشت گرد حلب کے مرکزی علاقوں کی طرف پیش قدمی کر رہے ہیں لیکن ایسا لگتا ہے کہ یہ پیش قدمی حالیہ دنوں میں سست ہو گئی ہے اور انہیں اپنے اہداف تک پہنچنے میں مشکلات پیش آ رہی ہیں۔
پیش گوئی کی جا رہی ہے کہ جب تک دہشت گردوں کو مطلوبہ اسلحہ اور سپورٹ فراہم نہیں کی جاتی، ان کی پیش قدمی مزید جاری رہ سکتی ہے۔
تاہم، سوال یہ ہے کہ آیا مسلح معارضان اسرائیل کی فوجی اور انٹیلیجنس سپورٹ کے بغیر ان مقامات کو اپنے قبضے میں رکھ سکیں گے؟ 2018 میں مسلح معارضان کی شکست کے بعد، یہ گروہ ادلب جیسے علاقوں میں محدود ہو گئے تھے، لیکن آج انہیں اسرائیل اور اس کے اتحادیوں کی مدد حاصل ہے جس سے وہ شام میں دوبارہ جنگ کا آغاز کر رہے ہیں۔
علاقائی کھلاڑیوں کا اسرائیل کے ساتھ اتحاد
کچھ علاقائی کھلاڑی، جو مسلح معارضان کے مالی اور فوجی حامی ہیں، حلب کی جنگ میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ بعض ہمسایہ ممالک نے عملی طور پر ایک آپریشن روم قائم کیا ہے تاکہ وہ اس جنگ کی قیادت کر سکیں۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ترکی نے اپنی سرحدوں کو کھلا چھوڑ کر ازبک اور ترکستانی جنگجوؤں کو میدانِ جنگ میں داخل ہونے کی اجازت دی ہے، جس سے شام میں جنگ کے دوبارہ بھڑکنے کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔
اگرچہ معارضان کا ابتدائی مقصد حلب، حما اور ادلب پر قبضہ تھا، لیکن اصل مقصد اسرائیل کی طرف سے اس مسلح حملے کا یہ ہو سکتا ہے کہ وہ محورِ مزاحمت کو شام سے باہر نکالے اور حزب اللہ کے ساتھ اس کے روابط کو منقطع کرے۔
خلاصہ
اسرائیلی حکومت صرف اپنی قوت مدافعت کو دوبارہ زندہ کرنے کی کوشش نہیں کر رہی، بلکہ اس کا مقصد مشرقی عربی علاقے میں طاقت کے توازن کو بدلنا اور مغربی ایشیا کے سیکورٹی نظام کی نئی تعریف کرنا ہے۔
مزید پڑھیں: روس اور شام کا دہشت گردوں کے ٹھکانوں پر حملہ ؛محمد الجولانی کی ہلاکت کا امکان
موجودہ حالات میں غزہ، لبنان، شام، عراق، یمن، شمالی بحرِ ہند اور مشرقی بحرِ متوسط کے حالات کا تجزیہ کئے بغیر اسرائیل کی منصوبہ بندی کو سمجھنا ممکن نہیں ہے۔


مشہور خبریں۔
ٹرمپ ایران کے ساتھ جنگ کے خاتمے کا اعلان کرنے کی تیاری میں: وال اسٹریٹ جرنل
?️ 3 ستمبر 2026سچ خبریں:وال اسٹریٹ جرنل اور روئٹرز کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ اور ان
ستمبر
حماس کی خفیہ معلومات کے ذخیرہ اور طوفان الاقصی کے ماسٹر مائینڈ یحیی سنوار کی زندگی
?️ 18 اکتوبر 2025حماس کی خفیہ معلومات کے ذخیرہ اور طوفان الاقصی کے ماسٹر مائینڈ
اکتوبر
ایک ملک کیخلاف جارحیت دونوں پر حملہ تصور ہوگا، پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان تاریخی دفاعی معاہدہ
?️ 18 ستمبر 2025اسلام آباد: (سچ خبریں) وزیراعظم شہباز شریف کے دورہ سعودی عرب میں
ستمبر
باکو اور ماسکو کا اسٹریٹجک اتحاد کو مضبوط کرنے اور راہداریوں کی ترقی کے لیے ایک بڑا قدم
?️ 20 جون 2026سچ خبریں: ماسکو اور باکو کے درمیان تعلقات نیک ہمسایگی، دوستی اور باہمی
جون
امریکی جنگی پالیسی نے ایران کی طاقت کو مزید مستحکم کر دیا؛ امریکی اخبار کا اعتراف
?️ 22 جون 2026سچ خبریں:ایک امریکی اخبار نے ایران کے خلاف اس ملک کی جنگی
جون
وزیر اعظم کو چوہدری پرویز الہی کا مشورہ
?️ 6 مارچ 2022اسلام آباد (سچ خبریں)حکومت کی اتحادی جماعت مسلم لیگ (ق) کے رہنما
مارچ
اسلام آباد میں طیارہ بڑے حادثے سے بچ گیا
?️ 2 نومبر 2021اسلام آباد (سچ خبریں) ایئر ٹریفک کنٹرولر کی مبینہ غفلت و لاپرواہی
نومبر
داعش کو بنانے میں کون کون ممالک براست شامل تھے؟ ترکی کے میگزین کا انکشاف
?️ 18 فروری 2024سچ خبریں: ترک میگزین یتکنز نے اپنی ایک رپورٹ میں لکھا ہے
فروری