?️
سچ خبریں:امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مصنوعی ذہانت کے ذریعے ڈیپ فیک ویڈیوز جاری کر کے تنازع کھڑا کر دیا، ڈیموکریٹس نے ان وڈیوز کو نسل پرستانہ اور گمراہ کن قرار دیا جبکہ ماہرین نے خبردار کیا کہ یہ اقدام امریکہ میں اطلاعاتی جنگ کو شدید کر سکتا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایک بار پھر تنازع میں گھر گئے ہیں، انہوں نے حال ہی میں دو جعلی ڈیپ فیک ویڈیوز جاری کیں جنہوں نے ملک میں اخلاقی و سیاسی بحث کو تیز کر دیا ہے۔
ٹرمپ نے پہلی ویڈیو وفاقی حکومت کی مجوزہ بندش سے چند گھنٹے قبل شائع کی جس میں مصنوعی ذہانت کی مدد سے امریکی کانگریس میں اقلیتی رہنما حکیم جفریس کو جعلی بیانات دیتے ہوئے دکھایا گیا۔
یہ بھی پڑھیں:عراق اور امریکہ کے مذاکرات کے موقع پر سعودی چینل کی ایران کے خلاف جھوٹی خبریں
واضح رہے کہ ڈیپ فیک ایک جدید تکنیک ہے جو مصنوعی ذہانت اور مشین لرننگ پر مبنی ہے، اس کے ذریعے اصل وڈیوز اور تصاویر میں رد و بدل کر کے کسی دوسرے شخص کا چہرہ یا آواز شامل کر دی جاتی ہے تاکہ جھوٹے اور غیر حقیقی مناظر پیش کیے جا سکیں، یہ ٹیکنالوجی خبری جعل سازی، فحش مواد کی تخلیق، سیاسی پروپیگنڈا اور مالی فراڈ سمیت کئی خطرناک مقاصد کے لیے استعمال ہو سکتی ہے۔
ٹرمپ نے دوسریڈیپ فیک ویڈیو بھی جاری کی جس میں جفریس کو سینیٹ میں اقلیتی رہنما چاک شومر کے ساتھ دکھایا گیا، ویڈیو میں جفریس کو مکزیکی لباس، یعنی سمبرو ہیٹ اور سبیل کے ساتھ دکھایا کیا گیا جبکہ پس منظر میں مکزیکی روایتی موسیقی ماریاچی بج رہی تھی، مبصرین کے مطابق ٹرمپ نے اس منظر کو ایسے ڈیزائن کیا تاکہ یہ تاثر دیا جا سکے کہ ڈیموکریٹس غیر قانونی تارکین وطن کو وفاقی فوائد دلانے کے حامی ہیں۔
یہ الزام ریپبلکنز کی جانب سے اس وقت لگایا گیا جب بجٹ بل کی منظوری پر مذاکرات ناکام ہو گئے تھے، تاہم ڈیموکریٹس نے اسے مسترد کر دیا،حکیم جفریس نے اس پر شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ ویڈیوز نسل پرستانہ اور جعلی ہیں، انہوں نے ٹرمپ کو براہ راست چیلنج کیا کہ اگر کچھ کہنا ہے تو کھلے عام اور آمنے سامنے کہیں، نہ کہ مصنوعی ذہانت سے تیار شدہ جھوٹی وڈیوز کے ذریعے۔
جفریس نے کانگریس کی سیڑھیوں پر میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ مسٹر صدر، اگلی بار جب میرے بارے میں کچھ کہنا چاہیں تو جعلی اور نژاد پرستانہ ویڈیوز کا سہارا نہ لیں، بلکہ سامنے آ کر بات کریں، ٹرمپ کی نسلی اقلیتوں پر حملے اور معاشرتی تناؤ بڑھانے کی تاریخ پرانی ہے، جو ان کے سیاسی ایجنڈے اور انتخابی مہم ’’امریکہ کو دوبارہ عظیم بنائیں‘‘ جیسے نعرے کا حصہ رہی ہے،جفریس بطور پہلے سیاہ فام ڈیموکریٹ رہنما طویل عرصے سے ٹرمپ کی پالیسیوں کے سخت ناقد ہیں، یہ واقعہ دونوں رہنماؤں کے درمیان جاری کشیدگی کی تازہ ترین کڑی ہے۔
واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے تازہ ترین اقدامات نے جعلی خبروں اور گمراہ کن اطلاعات کے حوالے سے نئی بحث چھیڑ دی ہے، ماہرین کا کہنا ہے کہ جب ایک شخصیت جس عہدے پر بیٹھا ہے وہ خود ریاستی سطح پر جعلی وڈیوز کو فروغ دے، تو اس کے اثرات تباہ کن ہو سکتے ہیں۔
امریکی صحافی نیکول والاس (MSNBC) نے ٹرمپ کی حرکت کو بچگانہ ، مبہم اور غیر اخلاقی قرار دیتے ہوئے کہا کہ صدر نے ٹیکنالوجی کو اپنے سیاسی مخالفین کے خلاف استعمال کیا، لیکن اصل خطرہ یہ ہے کہ خود صدر امریکہ جعلی اور گمراہ کن اطلاعات کو عام کر رہا ہے۔
ٹرمپ اور سازشی میڈیکل نظریات
یاد رہے کہ ٹرمپ نے 27 ستمبر کو اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر ایک ویڈیو شیئر کی جس میں وہ "مدبِد” (Medbed) نامی ایک سازشی نظریہ کو فروغ دیتے نظر آئے، اس ویڈیو میں ایک جعلی منظر بنایا گیا تھا جس میں ٹرمپ کا مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ ورژن کہتا ہےکہ ہر امریکی کو جلد ہی اپنا مدبِد کارڈ ملے گا۔
یہ ویڈیو کچھ دیر بعد حذف کر دی گئی، اس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ ایک ایسی میڈیکل ٹیکنالوجی موجود ہے جو تمام بیماریوں کا علاج کر سکتی ہے، بڑھاپے کو پلٹ سکتی ہے اور حتیٰ انسانی اعضا کو دوبارہ تخلیق کر سکتی ہے، ماہرین نے ان دعوؤں کو مکمل طور پر بے بنیاد اور غیر سائنسی قرار دیا ہے۔
مصنوعی ذہانت اور گمراہ کن وڈیوز
ٹرمپ کے اس عمل نے یہ خطرہ مزید اجاگر کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت کی مدد سے کوئی بھی ویڈیو اس طرح تخلیق کی جا سکتی ہے جیسے وہ حقیقت ہے چاہے وہ سرے سے جھوٹی ہو ، یہ ایک نئی معلوماتی جنگ ہے جو خاص طور پر ایسے افراد کے ہاتھ میں خطرناک ہے جن کا ریکارڈ خود جعلی خبریں پھیلانے سے بھرا ہوا ہے۔
مزید پڑھیں:مصنوعی ذہانت، شامی دہشت گردوں کی طرف سے جعلی خبریں تیار کرنے کا ایک آلہ
ماضی میں بھی اس قسم کے تجربات سامنے آئے ہیں، مئی میں ایک بلجین سیاسی جماعت (sp.a) نے ٹرمپ کی جعلی ویڈیو جاری کی جس میں وہ بلجین عوام کو پیرس معاہدے سے نکلنے کا مشورہ دے رہے ہیں، اس ویڈیو نے سخت عوامی غصہ بھڑکایا اور بعد میں ان کی جماعت نے اقرار کیا کہ ٹرمپ نے ایسا کچھ نہیں کہا تھا۔
یہ واقعہ اس حقیقت کی نشاندہی کرتا ہے کہ مصنوعی ذہانت کس طرح پہلے سے ہی ہمارے کمزور معلوماتی اکوسسٹم کو مزید نقصان پہنچا سکتی ہے اور عوامی اعتماد کو کمزور کر سکتی ہے۔


مشہور خبریں۔
پوپ نے مشرق وسطیٰ کی جنگ کو انسانیت کی ’ذلت‘ قرار دیا
?️ 22 مارچ 2026سچ خبریں: کیتھولک دنیا کے سربراہ پوپ لیو ۱۴ نے مشرق وسطیٰ
مارچ
سیکیورٹی فورسز نے پاک-افغان سرحد پر فتنۃ الخوارج کی دراندازی کی کوشش ناکام بنادی، 30 خوارج ہلاک
?️ 4 جولائی 2025شمالی وزیرستان: (سچ خبریں) سیکیورٹی فورسز نے پاک – افغان سرحد پر
جولائی
پاکستان تحریک انصاف کے 123 اراکین کے استعفے منظور
?️ 14 اپریل 2022اسلام آباد(سچ خبریں)قومی اسمبلی کے ڈپٹی اسپیکر قاسم سوری نے کہا ہے
اپریل
طالبان پاکستان تعلقات کو معمول پر لانے کے لیے چین کی کوششوں میں تیزی
?️ 6 دسمبر 2024سچ خبریں: چین کے خصوصی نمائندے Yu Xiaoyong افغانستان اور پاکستان کے درمیان
دسمبر
غزہ میں قتل عام فوری بند کیا جائے: سعودی وزیرخارجہ
?️ 14 فروری 2026 سچ خبریں:سعودی عرب کے وزیرخارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے غزہ
فروری
شہداء کا خون ہماری قومی قوت کی بنیاد ہے۔ فیلڈ مارشل عاصم منیر
?️ 25 جون 2025راولپنڈی (سچ خبریں) جنوبی وزیرستان میں خوارج دہشتگردوں سے لڑتے ہوئے شہید
جون
کولمبیا کے صدر قاتلانہ حملے میں بال بال بچے
?️ 11 فروری 2026 سچ خبریں: کولمبیا کے صدر گستاو پیٹرو نے انکشاف کیا ہے کہ
فروری
صیہونی ٹیلی ویژن کے نقطہ نظر سے سید حسن نصر اللہ کا اہم ترین جملہ
?️ 2 اگست 2024سچ خبریں: صیہونی حکومت کے ٹیلی ویژن کے چینل 12 نے آج
اگست