?️
سچ خبریں:ایران کے حوالے سے ڈونلڈ ٹرمپ کے متضاد بیانات کے پس پردہ امریکی حکمت عملی، قوت مدافعت کے بحران، واشنگٹن کی ساکھ اور حالیہ علاقائی کشیدگی کے اثرات پر مبنی تفصیلی تجزیہ۔
ایران کے حوالے سے ڈونلڈ ٹرمپ کے متضاد بیانات کو صرف ان کی شخصی خصوصیات سے جوڑ کر نہیں دیکھا جا سکتا۔ جو کچھ سامنے آ رہا ہے، وہ درحقیقت امریکی حکمت عملی میں موجود ایک گہرے بحران کی عکاسی کرتا ہے۔
امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے معاملے میں حقیقی معنوں میں شدید تذبذب کا شکار دکھائی دیتے ہیں۔ امریکہ کی جانب سے چودہ نکاتی مفاہمتی دستاویز کے اعلان کے بعد اب وہ ایک مرتبہ پھر اس مفاہمت کے خاتمے کی بات کر رہے ہیں۔ ایران کے خلاف چالیس روزہ جنگ کے آغاز سے ہی اس طرح کے متضاد بیانات بارہا سامنے آ چکے ہیں، جن کی بنیادی وجہ تہران کے مقابلے میں واشنگٹن کی مسلسل ناکامیاں قرار دی جا سکتی ہیں۔
اسی تناظر میں الجزیرہ نے زور دے کر کہا ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران امریکہ کی عالمی عسکری سپر طاقت کی حیثیت کو چیلنج کرنے میں کامیاب رہا ہے۔ خطے میں امریکی فوجی اڈوں پر ایران کے حملوں نے بھی یہ ظاہر کیا کہ واشنگٹن کی سب سے بڑی تشویش اپنی عالمی حیثیت اور برتر عسکری طاقت کے طور پر اپنی ساکھ کو برقرار رکھنا ہے۔
واشنگٹن کا عسکری بحران
حقیقت یہ ہے کہ آج واشنگٹن محض عسکری بحران سے نہیں بلکہ ساکھ کے بحران سے دوچار ہے۔ عسکری آپشن کی ناکامی اور زیادہ سے زیادہ دباؤ کی پالیسی کی کم ہوتی مؤثریت نے امریکہ کو متضاد مؤقف اختیار کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔
وائٹ ہاؤس کی اصل تشویش صرف ایران کا جواب نہیں بلکہ اس جواب کے نتیجے میں امریکہ کی عالمی حیثیت اور اس کی قوت مدافعت کی ساکھ پر پڑنے والے اثرات ہیں۔
ایسے حالات میں ٹرمپ کا مسلسل لہجہ تبدیل کرنا، کبھی دھمکی دینا، پھر معاہدے کی بات کرنا اور اس کے بعد دوبارہ دھمکی آمیز زبان اختیار کرنا، کسی منظم حکمت عملی کی علامت نہیں بلکہ ایران کے مقابلے میں واشنگٹن کی تزویراتی ناکامی کو چھپانے کی کوشش ہے۔
عظیم طاقتیں صرف اپنے بحری بیڑوں، بمبار طیاروں یا فوجی اڈوں کی تعداد سے نہیں بلکہ اپنی طاقت کی ساکھ کے ذریعے پہچانی جاتی ہیں۔ یہی ساکھ وہ سرمایہ ہوتی ہے جس کی وجہ سے بہت سے حریف براہ راست تصادم سے پہلے ہی پیچھے ہٹ جاتے ہیں۔
قوت مدافعت بھی اسی تصور پر قائم ہوتی ہے کہ فریق مخالف یہ یقین رکھے کہ امریکہ سے ٹکر لینے کی قیمت اس کے ممکنہ فائدے سے کہیں زیادہ ہوگی۔ اگر یہ یقین متزلزل ہو جائے تو امریکہ کی طاقت کا ایک بڑا حصہ بغیر کسی گولی چلائے ہی کمزور ہو جاتا ہے۔
جب امریکہ کے اندازے غلط نکلے
حالیہ جنگ کے دوران جو کچھ پیش آیا، وہ صرف ایک محدود عسکری تصادم نہیں تھا بلکہ امریکہ کی قوت مدافعت کی ساکھ کا امتحان بھی تھا۔
واشنگٹن اس خیال کے ساتھ میدان میں اترا تھا کہ طاقت کا مظاہرہ ایران کو پسپائی اختیار کرنے پر مجبور کر دے گا، لیکن نتیجہ اس کے برعکس نکلا۔
نہ صرف ایران اپنے مؤقف سے پیچھے نہیں ہٹا بلکہ اس نے براہ راست جواب دے کر یہ پیغام بھی دیا کہ اب تہران کے خلاف کسی بھی عسکری اقدام کی قیمت یک طرفہ نہیں رہے گی۔ اندازوں میں آنے والی یہی تبدیلی امریکہ کی قوت مدافعت کے لیے سب سے بڑا دھچکا ثابت ہوئی۔
اسی زاویے سے ٹرمپ کے متضاد بیانات کو بھی دیکھا جانا چاہیے۔ وہ ایک دن معاہدے کی بات کرتے ہیں، اگلے دن معاہدے کے خاتمے کا اعلان کرتے ہیں اور چند گھنٹوں بعد دوبارہ دھمکی آمیز زبان اختیار کر لیتے ہیں۔
یہ تیز رفتار تبدیلیاں کسی سوچی سمجھی حکمت عملی سے زیادہ اس مشکل فیصلہ سازی کی عکاسی کرتی ہیں جس میں موجود کوئی بھی راستہ مطلوبہ نتیجے کی ضمانت نہیں دیتا۔
کشیدگی میں اضافہ امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے لیے ناقابل پیش گوئی اخراجات کا باعث بن سکتا ہے، جبکہ واضح پسپائی شکست تسلیم کرنے کے مترادف ہوگی۔ ایسے تعطل میں حکمت عملی کی جگہ تضاد لے لیتا ہے۔
اس سے بھی زیادہ اہم بات یہ ہے کہ یہ بحران صرف تہران اور واشنگٹن کے تعلقات تک محدود نہیں۔ امریکہ کے اتحادی بھی واشنگٹن کی کارکردگی کو پوری توجہ سے دیکھ رہے ہیں۔
بہت سی حکومتوں کے ذہن میں یہ سوال پیدا ہو رہا ہے کہ اگر امریکہ ایران کے مقابلے میں اپنے اہداف حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکتا تو وہ دنیا کے دیگر علاقوں میں اپنے شراکت داروں کی سلامتی کی ضمانت کس حد تک دے سکے گا؟ اس لیے معاملہ صرف ایران کا نہیں بلکہ امریکہ کی سلامتی سے متعلق ضمانتوں کی ساکھ بھی جانچ کے عمل سے گزر رہی ہے۔
متضاد پیغامات کیوں دیے جا رہے ہیں؟
دوسری جانب امریکہ کے حریف بھی حالیہ صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔ جتنا زیادہ واشنگٹن کی ناقابل شکست ہونے کی شبیہ متاثر ہوگی، اتنا ہی زیادہ آزاد کردار امریکی دباؤ کے خلاف مزاحمت کرنے کا حوصلہ حاصل کریں گے۔
اسی لیے آج کی اصل جنگ عسکری میدان سے زیادہ ادراک اور تزویراتی اندازوں کے میدان میں لڑی جا رہی ہے، جہاں مختلف ریاستوں کی نظر میں امریکہ کی طاقت کا تصور خود اس کی حقیقی طاقت جتنا ہی اہم ہو چکا ہے۔
ایسے ماحول میں وائٹ ہاؤس متضاد پیغامات کے ایک سلسلے کے ذریعے اس کمزوری کو سنبھالنے کی کوشش کر رہا ہے۔ کبھی مذاکرات کی بات کی جاتی ہے تاکہ کشیدگی کو قابو میں رکھا جا سکے اور کبھی دوبارہ دھمکی آمیز زبان کو نمایاں کیا جاتا ہے تاکہ امریکہ کی طاقت کا تاثر برقرار رہے۔
تاہم دھمکی اور معاہدے کے درمیان اس مسلسل آمد و رفت کو خود اعتمادی کی علامت نہیں سمجھا جا سکتا بلکہ یہ کھوئی ہوئی ساکھ کو بحال کرنے کی دشواری کو ظاہر کرتا ہے۔ جو طاقت اپنے ذرائع کی مؤثریت پر یقین رکھتی ہو، اسے مسلسل اپنا بیانیہ تبدیل کرنے کی ضرورت پیش نہیں آتی۔
اسی وجہ سے آج امریکہ کا اصل مسئلہ صرف ایران کے ساتھ اختلاف نہیں بلکہ عالمی نظام میں اپنی حیثیت کو برقرار رکھنا بھی ہے۔ اگر قوت مدافعت، جو امریکی طاقت کی بنیادی بنیاد سمجھی جاتی ہے، کمزور پڑ جاتی ہے تو اس کے اثرات صرف ایک علاقائی معاملے تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ اتحادیوں، حریفوں اور واشنگٹن کے مطلوبہ سلامتی کے نظام کے رویوں پر بھی مرتب ہوں گے۔
اسی تناظر میں ٹرمپ کے متضاد طرز عمل کو صرف ان کی شخصی خصوصیات کا نتیجہ نہیں سمجھنا چاہیے۔ حقیقت میں یہ امریکی حکمت عملی میں موجود ایک گہرے بحران کی علامت ہے، جہاں دباؤ ڈالنے کے روایتی ذرائع، خواہ وہ پابندیاں ہوں، عسکری دھمکیاں ہوں یا طاقت کا مظاہرہ، اب ماضی کی طرح واشنگٹن کی مرضی مسلط کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔
جب طاقت کے ذرائع اپنا اثر کھونے لگتے ہیں تو اس کی پہلی جھلک سیاست دانوں کی زبان میں نظر آتی ہے؛ ایسی زبان جو ہر روز دھمکی، مذاکرات اور پسپائی کے درمیان جھولتی رہتی ہے اور سب سے بڑھ کر امریکہ کے قوت مدافعت کے بحران کو بے نقاب کرتی ہے۔


مشہور خبریں۔
حشد الشعبی و مرجعیت کے ہوتے ہوئے یہ تقسیم ممکن نہیں: عراقی نمائندہ
?️ 9 مئی 2022سچ خبریں: عراقی پارلیمنٹ میں قانون کی حکمرانی کے اتحاد کے رکن
مئی
لبنان میں صیہونی جارحیت؛ 200 سے زائد بچوں کی شہادت
?️ 12 نومبر 2024سچ خبریں:اقوام متحدہ کے ادارہ برائے اطفال (یونیسف) کی رپورٹ کے مطابق
نومبر
امریکہ میں سیاہ فام قید تنہائی کا سب سے زیادہ شکار
?️ 30 نومبر 2021سچ خبریں:امریکی جیلوں میں قید تنہائی کو سماجی گروپوں اور ماہرین کے
نومبر
وینزویلا پر امریکی فوجی حملے پر نیتن یاہو پرجوش
?️ 4 جنوری 2026 سچ خبریں: اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیٹن یاہو نے وینزویلا پر امریکی فوجی
بندرگاہ کے اثاثوں کی متحدہ عرب امارات منتقلی کا معاہدہ منظور کرنے کیلئے کابینہ کمیٹی کو سفارش
?️ 21 جون 2023اسلام آباد:(سچ خبریں) حکومت نے وفاقی کابینہ سے درخواست کی ہے کہ
جون
اسلام آباد میں ایرانی سفیر کی جانب سے افطار ڈنر
?️ 29 اپریل 2022اسلام آباد(سچ خبریں)یوم القدس کی مناسبت سے جمہوری اسلامی ایران کے سفیر
اپریل
وزیر خارجہ جی77 گروپ اجلاس کی صدارت کیلئے نیویارک پہنچ گئے
?️ 14 دسمبر 2022 اسلام آباد:(سچ خبریں) وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری 7 روزہ دورے پر
دسمبر
سعودی اتحاد کی جانب سے مغربی یمن میں فائرنگ کے 199 راؤنڈز کی خلاف ورزی
?️ 9 مارچ 2022سچ خبریں: المسیرہ نیوز نیٹ ورک نے منگل کی رات آفیسرز کے
مارچ