ٹام باراک؛ شام کے خطے میں ٹرمپ کی علاقائی پالیسی کا پراسرار معمار

ٹام باراک

?️

سچ خبریں:ٹام باراک ٹرمپ انتظامیہ کے ایک اہم اور بااثر کردار کے طور پر شام، لبنان اور عراق میں نئی امریکی حکمت عملی کو آگے بڑھا رہے ہیں۔ رپورٹ میں ان کے علاقائی کردار، ایران کے اثر و رسوخ کے مقابلے کی پالیسی اور شام کے خطے میں نئے سیاسی و سلامتی نظام کی تشکیل کا جائزہ لیا گیا ہے۔

ٹام باراک ایک پراسرار شخصیت سمجھے جاتے ہیں جنہوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی دوسری حکومت کے آغاز کے بعد شام کے خطے میں امریکی پالیسی میں بتدریج ایک مرکزی کردار حاصل کر لیا ہے۔

باراک نے شام کی عبوری حکومت کے سربراہ احمد الشرع کے ساتھ پس پردہ مذاکرات کو آگے بڑھانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ ان مذاکرات کے نتیجے میں صہیونی حکومت کے ساتھ کئی خفیہ مذاکراتی ادوار منعقد ہوئے اور شام کو دہشت گردی کے خلاف نام نہاد جنگ کے معاملے میں امریکہ کا علاقائی شراکت دار بنا دیا گیا۔

اس کے علاوہ باراک نے قسد ملیشیا کو نئی شامی فوج میں ضم کرنے کے منصوبے میں بھی اہم کامیابی حاصل کی۔ لبنان میں بھی ان کے تجویز کردہ اسلحہ کے خاتمے کے منصوبے کو لبنانی کابینہ کی منظوری حاصل ہوئی، جبکہ نواف السلام کی حکومت نے واشنگٹن بیان پر دستخط کرکے اس منصوبے کو ایک نئے مرحلے میں داخل کر دیا ہے۔

باراک اس سے قبل شام کے لیے ٹرمپ کے خصوصی نمائندے اور ترکی میں امریکی سفیر کے طور پر خدمات انجام دے چکے ہیں، جبکہ اب انہیں عراق کے لیے ٹرمپ کا خصوصی نمائندہ مقرر کیا گیا ہے۔

باراک کی سرگرمیوں کے مختلف شعبوں کے درمیان ایک واضح ربط اور تسلسل پایا جاتا ہے۔ کئی ماہ سے وہ شام کے خطے میں باہم مربوط علاقائی رابطوں اور مذاکرات کی قیادت کر رہے ہیں۔ ان کوششوں کی نمایاں خصوصیت لبنان، شام اور عراق کے معاملات کو ایک مشترکہ حکمت عملی کے تحت جوڑنا ہے، جو شام کے خطے میں بحرانوں کے بارے میں امریکی نقطۂ نظر میں ایک نئی تبدیلی کو ظاہر کرتی ہے۔

اس نئی امریکی حکمت عملی کا بنیادی تصور یہ ہے کہ لبنان، شام اور عراق میں ایران کے اثر و رسوخ کا مقابلہ الگ الگ نہیں کیا جا سکتا۔ اس کے بجائے ایک ایسا نیا علاقائی نظام تشکیل دیا جانا چاہیے جس میں قومی حکومتیں اپنی سیاسی اور سلامتی ذمہ داریاں دوبارہ سنبھالیں جبکہ غیر سرکاری مسلح گروہوں کا کردار محدود ہو جائے۔

لبنان اس منصوبے کی سب سے پیچیدہ کڑی تصور کیا جا رہا ہے کیونکہ وہاں حزب اللہ کی نمایاں موجودگی اور اس سے وابستہ علاقائی تنازعات پائے جاتے ہیں۔

حال ہی میں باراک نے شامی حکام کو بتایا کہ واشنگٹن اب ملیشیا اور علاقائی محاذوں کی منطق سے آگے بڑھ کر ریاستوں اور اداروں کی منطق کی طرف جانا چاہتا ہے، اور حزب اللہ کے معاملے کے باعث لبنان اس راستے کی سب سے پیچیدہ کڑی ہے۔

اس دوران شام بھی مستقبل کے سیاسی اور سلامتی انتظامات کا ایک بنیادی ستون ہے۔ لبنان کا معاملہ، امریکہ اور شام کے تعلقات، صہیونی حکومت کے ساتھ سلامتی مفاہمتیں اور شام میں غیر ملکی فوجی موجودگی کا مستقبل، ان موضوعات میں شامل ہیں جن پر باراک اور احمد الشرع کے درمیان حالیہ ہفتوں میں مسلسل بات چیت ہوتی رہی ہے۔

عراق اس مجوزہ نظام کی تیسری، تکمیلی اور آخری کڑی ہے۔ باراک کی شامی اور عرب حکام کے ساتھ ملاقاتیں اب صرف سرحدی مسائل، سلامتی اور تعلقات کی معمول سازی تک محدود نہیں رہیں بلکہ وہ نئے علاقائی توازن کی تشکیل پر مرکوز ہیں۔

چنانچہ ٹام باراک دراصل ایک ایسے نئے علاقائی فریم ورک کے قیام کی کوشش کر رہے ہیں جو عرب ممالک، ترکیہ اور صہیونی حکومت کے درمیان امریکی سرپرستی میں ہونے والی مفاہمتوں کے جال پر مبنی ہو۔ یہ فریم ورک امریکہ کے مطلوبہ علاقائی نظام کی ازسرنو تشکیل کی راہ ہموار کر سکتا ہے۔

ریاض، ابوظہبی، انقرہ اور بغداد میں اپنی ملاقاتوں کے دوران باراک نے شام کے خطے میں ایران کے مستقبل کے اثر و رسوخ اور ایسے سیاسی و سلامتی ماحول کے امکانات پر تبادلہ خیال کیا ہے جس کے تحت لبنان، شام اور عراق میں ریاستی اداروں کا کردار مضبوط ہو جبکہ تہران کے قریب سمجھی جانے والی قوتوں کا اثر بتدریج کم کیا جا سکے۔

اسی بنا پر ٹام باراک کو شام کے خطے میں ٹرمپ کی علاقائی پالیسی کا "بلیک باکس” قرار دیا جا سکتا ہے۔ ایک ایسے کردار کے طور پر جو شام اور ترکیہ میں امریکی علاقائی منصوبوں کو آگے بڑھانے کے بعد اب عراق کے معاملات میں سرگرم ہو چکا ہے تاکہ کرد مسائل کے حل کے لیے حالات سازگار بنائے جا سکیں، مزاحمتی گروہوں کے اسلحے کے خاتمے، ایران کے ساتھ ان کے روابط محدود کرنے اور عراق و ایران تعلقات کی نئی سمت متعین کرنے کے ساتھ ساتھ عراق کو شام کے خطے کے مجوزہ نئے نظام میں ضم کیا جا سکے۔

مشہور خبریں۔

امریکا کی حمایت حاصل کرنے کیلئے حکومت اور پی ٹی آئی کی کوششوں میں تیزی

?️ 23 مارچ 2023اسلام آباد:(سچ خبریں) موجودہ سیاسی بحران کے دوران بھی پاکستان اور امریکا

گوگل کا ایک اور سرویس بند کرنے کا اعلان

?️ 7 اکتوبر 2023سچ خبریں: ٹیکنالوجی کمپنی گوگل نےچند روز قبل پوڈکاسٹ فیچر ختم کرنے

صیہونی تاریخ کا سب سے بڑا سائبر حملہ

?️ 16 نومبر 2024سچ خبریں:آپریشن حنظلہ کے ہیکنگ گروپ نے اسرائیل کی تاریخ کے سب

پی ڈی ایم کا سپریم کورٹ کے سامنے دھرنا، مظاہرین ریڈ زون میں داخل ہوگئے

?️ 15 مئی 2023اسلام آباد: (سچ خبریں) پی ڈی ایم اور جے یو آئی (ف)

سائنسدانوں نے سورج سے 500 ٹریلین گنا زیادہ روشن ’بلیک ہول‘ دریافت کرلیا

?️ 22 فروری 2024سچ خبریں: امریکی سائنسدانوں نے سورج سے 500 ٹریلین گنا زیادہ روشن

یمنی جنگ بندی نازک اور عارضی ہے: اقوام متحدہ کے ایلچی

?️ 15 اپریل 2022سچ خبریں:  یمن کے لیے اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی ہانس گرنڈ

نواز شریف کی زیرِقیادت مسلم لیگ (ن) کا اتحادیوں کو راضی کرنے کا فیصلہ

?️ 23 اکتوبر 2023لاہور: (سچ خبریں) مسلم لیگ (ن) نے سیاسی درجہ حرارت کو کم

فلم انڈسٹری کسی ایک شخص کی وجہ سے تباہ نہیں ہوئی، بابر علی

?️ 17 فروری 2025 لاہور: (سچ خبریں) ماضی کے مقبول فلمی ہیرو بابر علی کا

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے