امریکہ کے مقابلے میں ایران کی برتری کی بنیادی وجوہات

برتری

?️

سچ خبریں:حالیہ ایران امریکہ کشمکش میں ایران نے پانچ بنیادی وجوہات کی بنیاد پر تزویراتی برتری حاصل کی ہے، جن میں ریاستی بقا، دفاعی طاقت، علاقائی اثر و رسوخ اور مخالف قوتوں کی ناکامی شامل ہیں۔

ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ کے خاتمے اور جوہری مذاکرات کی بحالی سے متعلق ابتدائی یادداشت تفاہم کے اعلان کے بعد اس مرحلے کے نتائج پر مختلف تشریحات سامنے آئی ہیں۔

 ایک حقیقت پسندانہ اور زمینی شواہد پر مبنی تجزیے کے مطابق اس منازعے میں اسلامی جمہوریہ ایران نے اہم تزویراتی کامیابیاں حاصل کی ہیں، جس نے اسے اس دور کے تقابل میں فاتح کی پوزیشن میں رکھا ہے۔

یہ کامیابیاں پانچ بنیادی محوروں میں بیان کی جا سکتی ہیں:

1۔ جامع حکومت کے خاتمے کی حکمت عملی کی ناکامی

دشمن فریق کا بنیادی اعلان شدہ مقصد اسلامی جمہوریہ ایران کے نظام کو تبدیل کرنا اور مکمل طور پر اسے ختم کرنا تھا۔ اس مقصد کا حاصل نہ ہونا اور ایران کے سیاسی نظام کا مستحکم رہنا سب سے بڑی کامیابی شمار ہوتی ہے۔

 دیگر ممالک میں پیش آنے والے اسی نوعیت کے منصوبوں کے برعکس، ایران کا سیاسی ڈھانچہ نہ صرف برقرار رہا بلکہ اس نے دشمن کے سامنے جھکنے کے بجائے اپنی بقا کو ثابت کیا، جو اس نوعیت کے تیز رفتار انہدامی منصوبوں کی مکمل ناکامی کی علامت ہے۔

2۔ علاقائی اور نسلی عدم استحکام کے منصوبے کی ناکامی

امریکہ کی جانب سے ایران کے سرحدی علاقوں میں مختلف مخالف گروہوں کو مسلح کرنے کی کوششیں، خصوصاً عراق کے اربیل میں بعض کرد گروہوں کی حمایت، ایک پراکسی جنگی حکمت عملی کا حصہ تھیں جس کا مقصد ایران میں علیحدگی پسندی اور عدم استحکام پیدا کرنا تھا۔ تاہم اسلامی انقلابی گارڈز کی کارروائیوں اور سرحدی علاقوں کی عوامی بیداری نے اس منصوبے کو ناکام بنا دیا۔ اس طرح ایران نے اپنی جغرافیائی سالمیت کو پہلے سے زیادہ مضبوطی کے ساتھ برقرار رکھا۔

3۔ اپوزیشن اور بیرونی مخالفین کی ناکامی کا آشکار ہونا

سیاسی میدان میں سب سے اہم نتیجہ یہ سامنے آیا کہ بیرونی اپوزیشن اور مخالف گروہوں کی عوامی حمایت محدود اور کمزور ثابت ہوئی۔ امریکی اور صہیونی حکمت عملی یہ تھی کہ فوجی دباؤ اور فضائی حملوں کے ذریعے اندرونی بغاوت اور عوامی احتجاج کو جنم دیا جائے، لیکن اس کے برعکس عوامی سطح پر ریاستی نظام کے حق میں ردعمل سامنے آیا۔ اس سے مغربی اداروں کی اس مفروضہ سوچ کو بھی چیلنج ملا کہ بیرون ملک مقیم اپوزیشن تبدیلی کا مؤثر ذریعہ بن سکتی ہے۔

4۔ غیر جوہری دفاعی طاقت کے ذریعے قوت مدافعت کا استحکام

ایران نے اپنے میزائل اور ڈرون نظام کی بنیاد پر، جو غیر جوہری صلاحیت ہے، دو جوہری طاقتوں کے مقابلے میں اپنی دفاعی اور حملہ آور صلاحیت کو برقرار رکھا۔

 یہ صورتحال عالمی عسکری تاریخ میں ایک غیر معمولی مثال ہے، جہاں ایک غیر جوہری ریاست نے جوہری طاقت رکھنے والے مخالفین کے سامنے مؤثر قوت مدافعت قائم رکھی۔

جنگ کے اختتام تک میزائل حملوں کا تسلسل اس بات کی علامت تھا کہ مخالف فریق کا دفاعی نظام دباؤ میں تھا اور ایران کی جوابی حکمت عملی مؤثر ثابت ہو رہی تھی۔

 اس کے ساتھ ساتھ سیاسی سطح پر ایران کے مطالبات کو تسلیم کرنے کی کوششیں بھی اس کی قوت مدافعت کی علامت ہیں۔

5۔ مغربی ایشیا میں ایران کی جغرافیائی سیاسی حیثیت کا استحکام

اس تنازعے نے یہ ثابت کر دیا کہ خطے میں کوئی بھی سیکیورٹی ڈھانچہ ایران کو نظر انداز کر کے قائم نہیں کیا جا سکتا۔ عرب ممالک، جو پہلے امریکی ضمانتوں اور اسرائیلی اتحاد پر انحصار کرتے تھے، اب ایران کے ساتھ تعلقات کی ازسرنو ترتیب کی طرف بڑھ رہے ہیں۔

نتیجتاً متعدد عرب ممالک اپنی خارجہ پالیسی میں کشیدگی کم کرنے یا غیر تصادمی حکمت عملی اختیار کرنے پر مجبور ہوئے ہیں، جو ایران کے لیے ایک طویل المدتی جغرافیائی سیاسی کامیابی ہے۔

 اس تناظر میں بعض ممالک جیسے امارات اور قطر نے بھی خطے میں نئی سفارتی حقیقتوں کو تسلیم کرتے ہوئے اپنے رویے میں تبدیلی ظاہر کی ہے۔

مندرجہ بالا پانچ وجوہات اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ ایک بڑے سیاسی اور فوجی دباؤ کے باوجود ایران نہ صرف اپنے بنیادی اہداف کا دفاع کرنے میں کامیاب رہا بلکہ اس نے اپنی دفاعی صلاحیت، علاقائی اثر و رسوخ اور سیاسی استحکام کو مزید مضبوط کیا۔ اس کے برعکس مخالف فریق اپنے بنیادی اہداف حاصل کرنے میں ناکام رہا۔

لہٰذا موجودہ توازن کے مطابق اس مرحلے میں برتری ایران کے حق میں جاتی ہے، اور اگر دوبارہ عسکری تصادم کی صورتحال پیدا ہوتی ہے تو ایران کی دفاعی و تزویراتی برتری مزید مضبوط ہو سکتی ہے۔

مشہور خبریں۔

ڈیرہ اسماعیل خان ، سیکورٹی فورسز کی کارروائی میں 8 دہشتگرد ہلاک

?️ 6 اپریل 2024ڈیرہ اسماعیل خان: (سچ خبریں) ڈیرہ اسماعیل خان میں سیکورٹی فورسز نے

2 صہیونی وزراء کی نیتن یاہو کو جنگی کابینہ تحلیل کرنے کی دھمکی 

?️ 17 فروری 2024سچ خبریں:سیاسی حکام نے قابض حکومت کے وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کو

آرمینیا میں روس نواز میئر کی گرفتاری؛ "کرپشن سکینڈل” یا "سیاسی تصفیہ”؟

?️ 21 اکتوبر 2025سچ خبریں:  گیومری  کے میئر "ورتن گھوکاسیان” کو "رشوت وصول کرنے” کے معاملے

اسرائیلی خفیہ افسران کی شناخت کا غیر معمولی انکشاف

?️ 17 نومبر 2025سچ خبریں:ایک ٹیلیگرام اور ٹوئٹر اکاؤنٹ "Israelinreal” نے دعویٰ کیا ہے کہ

وائٹ ہاؤس کے سابق ترجمان نے ایک نوجوان خاتون کو ٹرمپ سے بچایا

?️ 30 ستمبر 2021سچ خبریں:وائٹ ہاؤس کے ایک سابق عہدیدار نے ایک کتاب میں لکھا

امام بارگاہ میں معصوم شہریوں پر حملہ انتہائی بزدلانہ ہے۔ طارق فضل چودھری

?️ 6 فروری 2026اسلام آباد (سچ خبریں) وفاقی وزیر پارلیمانی اُمور طارق فضل چودھری نے

روس اور چین: امریکی گولڈن ڈوم منصوبہ غیر مستحکم ہو رہا ہے

?️ 9 مئی 2025سچ خبریں: عالمی تزویراتی استحکام کے بارے میں روس اور چین کے

وزیراعظم شہباز شریف 17 ستمبر سے سہ ملکی دورہ کریں گے

?️ 15 ستمبر 2025اسلام آباد (سچ خبریں) سفارتی ذرائع کے مطابق وزیراعظم محمد شہباز شریف

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے