امریکہ میں تین ہفتے سے زیادہ حکومتی شٹ ڈاؤن ؛ کیا 35 دن کا تاریخی ریکارڈ ٹوٹنے والا ہے؟

امریکہ میں تین ہفتے سے زیادہ حکومتی شٹ ڈاؤن ؛ کیا 35 دن کا تاریخی ریکارڈ ٹوٹنے والا ہے؟

?️

سچ خبریں:امریکہ میں وفاقی حکومت کا شٹ ڈاؤن تین ہفتے سے زیادہ عرصہ گزرنے کے باوجود ختم نہیں ہوا۔ بجٹ تنازعہ، سیاسی تعطل، اور صدر ٹرمپ کی پالیسیوں نے حالات کو اس نہج پر پہنچا دیا ہے کہ 2018 کے 35 روزہ تاریخی ریکارڈ کے ٹوٹنے کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔

امریکہ میں وفاقی حکومت کا شٹ ڈاؤن تین ہفتوں کے قریب پہنچ گیا ہے، اور اگر یہ تعطل جاری رہا تو 2018 کی 35 روزہ تاریخی ریکارڈ بندش کا نیا ریکارڈ قائم ہو سکتا ہے۔
یکم اکتوبر 2025 کو کونگریس کی بجٹ بل پر ناکامی کے بعد حکومت فدرال نے اپنے بیشتر شعبے بند کر دیے۔ یہ امریکہ کی تاریخ کی تیسری طویل ترین سرکاری بندش ہے جس نے سرکاری خدمات، فضائی نظام، اور لاکھوں ملازمین کی زندگیوں کو متاثر کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:بجٹ معاہدے میں ناکامی کے بعد امریکی حکومت بندش کا شکار

سیاسی جمود اور بجٹ بحران

یہ بحران اُس وقت شروع ہوا جب سینیٹ متواتر ووٹنگ کے باوجود بجٹ بل منظور کرنے میں ناکام رہی۔
ایوان نمائندگان نے 217 کے مقابلے میں 212 ووٹوں سے ایک عارضی بجٹ بل منظور کیا، مگر سینیٹ میں اتفاق رائے پیدا نہ ہو سکا۔
اختلاف کی بنیادی وجہ ہیلتھ کیئر قانون (Affordable Care Act) کے تحت 22 ملین امریکی شہریوں کے لیے دی جانے والی سبسڈی کا مستقبل ہے، جسے ڈیموکریٹس بڑھانا چاہتے ہیں جبکہ ریپبلکنز اسے مہنگا اور غیر ضروری سمجھتے ہیں۔

ٹرمپ کا نظریہ: حکومت کو چھوٹا کرنا

ڈونلڈ ٹرمپ، جو جنوری 2025 میں دوسری بار صدر بنے، اس بحران کو وفاقی نظام کم کرنے کا موقع سمجھتے ہیں۔
ان کے مطابق، حکومت کی بندش “غیر ضروری پروگرامز ختم کرنے” کا ذریعہ ہے۔
وائٹ ہاؤس کے بجٹ ڈائریکٹر راس وُوٹ نے عندیہ دیا کہ دورانِ شٹ ڈاؤن دس ہزار سے زائد ملازمین کو برطرفی کے نوٹس مل سکتے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق، سال کے اختتام تک تقریباً 300 ہزار ملازمین حکومت چھوڑ دیں گے — جن میں سے 60 ہزار کی برطرفی زبردستی ہوگی۔

اثرات: معیشت، خدمات اور بین الاقوامی مقام

کانگریشنل بجٹ آفس کے مطابق، اب تک 7.5 لاکھ سرکاری ملازمین جبری رخصت پر ہیں جبکہ 7 لاکھ ضروری اہلکار بغیر تنخواہ کے خدمات انجام دے رہے ہیں۔
تنخواہوں کی عدم ادائیگی نے خاندانی معیشتوں کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔
شٹ ڈاؤن کے باعث پاسپورٹ، ویزا، فضائی پروازوں، اور انفراسٹرکچر کے منصوبوں میں تاخیر ہو رہی ہے۔

اقتصادی ماہرین کے مطابق، اگر یہ تعطل جاری رہا تو ملکی جی ڈی پی میں 0.15 فیصد کمی واقع ہو سکتی ہے، جبکہ خسارہ پہلے ہی 1.77 ٹریلین ڈالر تک پہنچ چکا ہے۔

ٹرمپ انتظامیہ نے پہلی ہی دن ڈیموکریٹ ریاستوں کے منصوبوں کے 26 ارب ڈالر منجمد کر دیے، جن میں نیویارک، شکاگو اور ماحولیاتی منصوبے شامل ہیں — جسے ناقدین "سیاسی انتقام” قرار دیتے ہیں۔

عالمی سطح پر اثرات

یہ بحران صرف اندرونِ ملک نہیں بلکہ امریکی خارجہ پالیسی پر بھی اثرانداز ہو رہا ہے۔
کئی سفارتی دفاتر بند ہیں، وزارتِ خارجہ کے اہلکار چھٹی پر ہیں، اور امدادی پروگرام تعطل کا شکار ہیں۔
یہ صورتِ حال امریکہ کے عالمی وقار اور اتحادیوں کے اعتماد کو متزلزل کر رہی ہے۔

ممکنہ منظرنامے

1️⃣ دو جماعتی مفاہمت:
اگر ریپبلکن اور ڈیموکریٹس عارضی بجٹ یا سبسڈی اصلاحات پر سمجھوتے پر پہنچ جائیں تو شٹ ڈاؤن ختم ہو سکتا ہے۔

2️⃣ کسی ایک فریق کی پسپائی:
اگر عوامی دباؤ یا اقتصادی بحران شدید ہوا تو ایک فریق پیچھے ہٹ سکتا ہے۔ تاہم اب تک اس کے آثار نہیں۔

3️⃣ مزید طول پکڑنا:
اگر تعطل برقرار رہا، تو شٹ ڈاؤن 2018 کے 35 دن کے ریکارڈ کو توڑ سکتا ہے — جو اس وقت تاریخ کی سب سے طویل تھا۔

تجزیہ کاروں کے مطابق، موجودہ بحران امریکی سیاست میں گہرے پولرائزیشن کی علامت ہے۔

مزید پڑھیں:امریکی سینیٹ کی جانب سے حکومت کی بندش ختم کرنے کے ڈیموکریٹس کا بل مسترد 

ریپبلکنز حکومت کے حجم کو کم کرنے پر بضد ہیں، جبکہ ڈیموکریٹس عوامی فلاحی پروگراموں سے پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں۔
یہ شٹ ڈاؤن نہ صرف معاشی اور سماجی بحران کو جنم دے رہا ہے بلکہ امریکہ کے اندر جمہوری اداروں پر عوامی اعتماد کو بھی متزلزل کر رہا ہے۔

مشہور خبریں۔

جوڈیشل کمیشن کی ٹھوس یقین دہانی نہ کرائی گئی تو مذاکرات ختم سمجھے جائیں، سلمان اکرم

?️ 11 جنوری 2025اسلام آباد: (سچ خبریں) پاکستان تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم

صیہونیوں کی خلیجی ممالک کے ساتھ مل کر ایران مخالف اتحاد تشکیل دینے کی کوشش

?️ 3 مارچ 2021سچ خبریں:صیہونی حکام خلیج فارس کے تین عرب ممالک کے ساتھ ملک

لبنان میں مزاحمتی رہنما کی شہادت کی پہلی برسی کی تفصیلات

?️ 27 ستمبر 2025سچ خبریں: لبنان کی حزب اللہ نے ملک میں شہیدوں سید حسن

190 ملین پاؤنڈ کیس میں عمران خان کےخلاف جھوٹی گواہی دینے کیلئے شدید دباؤ ڈالا گیا، زلفی بخاری

?️ 22 جنوری 2025 اسلام آباد: (سچ خبریں) پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے

سندھ : ڈہرکی کے قریب دو مسافر ٹرینیں ٹکرا گئیں، 33 افراد جاں بحق

?️ 7 جون 2021کراچی (سچ خبریں)سندھ کے ضلع گھوٹکی میں ڈہرکی کے قریب اسٹیشن پر

گورنر پنجاب کا اسرائیلی دہشتگردی کیخلاف شدید ردعمل کا اظہار

?️ 12 مئی 2021لاہور (سچ خبریں) گورنر پنجاب چوہدری محمد سرور نے  اسرائیلی دہشت گردی

سندھ کے 19 اضلاع میں 52 خالی بلدیاتی نشستوں پر ضمنی انتخابات کا شیڈول جاری

?️ 29 جولائی 2025کراچی (سچ خبریں) الیکشن کمیشن آف پاکستان نے صوبہ سندھ کے 19

قوم پر مسلط لوگوں نے کسی حلقہ میں بھی 30 فیصد ووٹ نہیں لیے

?️ 11 مئی 2024لاہور:(سچ خبریں) امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے