پینٹاگون میں برطرفیوں کی لہر کے پس منظر میں فوجی نافرمانی اور سیاسی صفایا

ایران کے مقابلے میں

?️

سچ خبریں:ایران کے مقابلے میں امریکی ناکامیوں کے بعد پینٹاگون میں تجربہ کار جنرلوں کی تیز رفتار برطرفیوں نے واشنگٹن کو شدید بحران میں دھکیل دیا ہے،رپورٹ کے مطابق درجنوں سینئر کمانڈر ایک وسیع تصفیہ کے تحت اپنے عہدوں سے ہٹا دیے گئے ہیں۔

ایران کے مقابلے میں اسٹریٹجک ناکامیوں کے بعد امریکہ، وزارت دفاع میں بے سابقہ تصفیہ اور مسلسل برطرفی کے نتیجے میں ایک نئے بحران کا سامنا کر رہا ہے۔

ایران کے خلاف محاذ میں حالیہ شکستوں اور طے شدہ مقاصد میں ناکامی کے بعد، وزارت دفاع امریکہ اپنی تاریخ کی سب سے بڑی برطرفیوں میں سے ایک کی گواہ ہے. امریکی وزیر دفاع پیت ہگست نے 13 فروردین کو ایک فوری حکم کے ذریعے بری فوج کے چیف آف اسٹاف، جنرل رَندی جُورج کی مدتِ کار کا عملاً خاتمہ کر دیا۔

یہ اقدام، جس کی امریکی حکام نے باضابطہ تصدیق بھی کی، بڑے پیمانے پر ہونے والی تبدیلیوں کی صرف ابتدائی نشاندہی ہے۔ رپورٹس کے مطابق، نیوی اور فضائیہ کے اہم کمانڈروں سمیت 12 سے زائد سینئر جنرلوں کو ہگست کے براہِ راست حکم اور ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ مکمل ہم آہنگی کے ذریعے ان کے عہدوں سے ہٹا دیا گیا ہے۔

اس برطرفی کی لہر میں آرمی کمانڈر ولیم گرین جونیئر اور امریکی فوج کے تربیتی و تبدیلی کے سربراہ ڈیوڈ ہودن جیسے افراد بھی شامل ہیں، جس نے امریکی عسکری ڈھانچے کو حیرت میں مبتلا کر دیا ہے۔ جنرل کریسٹوفر لانو کی بطور عبوری جانشین تقرری، جو ہگست کے قریبی ساتھی کے طور پر جانے جاتے ہیں، فوجی ڈھانچے کی فوری یکسانیت کے لیے کی جانے والی کوششوں کی طرف اشارہ کرتی ہے۔

یہ اقدامات ایسے وقت میں کیے جا رہے ہیں جب امریکی فوج ایران کی علاقائی طاقت کے مقابلے میں واضح طور پر اسٹریٹجک تذبذب اور فیصلہ سازی کے بحران کا شکار ہے،تجربہ کار کمانڈروں کی برطرفی سے ظاہر ہوتا ہے کہ واشنگٹن اپنی خودساختہ بحران سے نکلنے اور مسلسل پسپائیوں پر پردہ ڈالنے کی کوشش کر رہا ہے۔

وجوہات کا جائزہ؛ خودکشانہ آپریشنز سے انکار اور سیاسی تصفیہ

ماہرین کے مطابق پینٹاگون میں اس اچانک زلزلے کی وجہ وائٹ ہاؤس کی تهاجمی پالیسیوں اور فوجی حقیقت پسندی کے درمیان گہرا اختلاف ہے۔ جنرل رَندی جورج، جن کی شناخت پیچیدہ آپریشنز کی کمان اور جان بچانے والے محتاط رویے سے تھی، میدان کے حقائق کی بنیاد پر کیے گئے حسابات کی وجہ سے ہگست کے لیے ناپسندیدہ شخصیت بن گئے تھے۔

اس برطرفی نے واضح کر دیا کہ پینٹاگون کے نئے ڈھانچے میں ایران کے خلاف جارحانہ پالیسیوں پر بغیر سوال عمل کرنا زیادہ اہمیت رکھتا ہے، اور وہ ہر اس آواز کو ہٹا رہا ہے جو ایسی منصوبہ بندی کے راستے میں رکاوٹ بنے۔

فوج کے اندر سے سامنے آنے والی رپورٹس کے مطابق اصل اختلاف اس وقت پیدا ہوا جب خصوصی دستوں، ڈیلٹا فورس، کو زمینی کارروائی کے لیے ایران بھیجنے کے منصوبے کی مخالفت کی گئی۔ جنرلوں نے ایران کی مضبوط دفاعی صلاحیتوں کے پیش نظر اس کارروائی کو امریکی فوج کے لیے خطرناک قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا۔

اس پیشہ ورانہ انکار نے ہگست اور ٹرمپ کی ناراضی کو بڑھایا؛ کیونکہ وہ ایسے کمانڈروں کی تلاش میں تھے جو ممکنہ شکست کے باوجود سیاسی احکامات پر عمل کریں۔

سیاسی وفاداری کی بنیاد پر فوجی قیادت کی تبدیلی

پینٹاگون کے اعلیٰ ترین درجوں میں ہونے والی یہ تبدیلی ایک نئے فوجی نظریے کو ظاہر کرتی ہے۔ جنرل کریسٹوفر لانو جیسے افراد کی تعیناتی اس جانب اشارہ ہے کہ اب اسٹریٹجک مہارت کے مقابلے میں سیاسی وفاداری کو ترجیح دی جا رہی ہے۔

ماہرین کے مطابق، یہ وسیع تصفیہ امریکی فوج میں روایتی صداقت اور پیشہ ورانہ کمان کے ڈھانچے کو ختم کر رہا ہے۔ جب سینئر کمانڈر ایران پر حملے کے ممکنہ تباہ کن نتائج سے خبردار کرنے پر ہٹائے جاتے ہیں، تو اس کا مطلب ہے کہ حقیقت بیانی کی گنجائش ختم کی جا رہی ہے۔

بیک وقت متعدد اعلیٰ فوجی شخصیات کی برطرفی دراصل ایسی کارروائی ہے جس کے ذریعے درمیانی سطح کے افسران کو خاموش اور فرمانبردار بنایا جائے۔ یہ ظاہر کرتا ہے کہ واشنگٹن چاہتا ہے کہ فوجی مشینری مکمل اطاعت کے ساتھ سیاسی ہدایات پر عمل کرے۔

بین الاقوامی سطح پر بھی یہ برطرفیاں ایک طاقتور ملک کے اندرونی اضطراب کی نشاندہی کرتی ہیں۔ تجربہ کار کمانڈروں کی جگہ مطیع افراد کا تقرر، دنیا کو یہ پیغام دیتا ہے کہ امریکی فوج موجودہ دفاعی چیلنجز سے نمٹنے کی صلاحیت پر اعتماد نہیں رکھتی۔

نتائج اور اثرات؛ فوجی ڈھانچے میں بے چینی اور ایران کی قوت مدافعت میں تقویت

پینٹاگون میں ان برطرفیوں نے امریکی فوج کے اندر گہری بے اعتمادی پیدا کی ہے۔ جنرل رَندی جورج جیسے مقبول کمانڈر کی برطرفی نے افسران کے مورال پر شدید اثر ڈالا ہے۔

ایران کے ساتھ ناکامیوں کے ساتھ ساتھ اب داخلی بحران نے امریکی فیصلہ سازی کو مزید مشکل بنا دیا ہے۔ فوج اب خود کو ایسے احکامات کے سامنے پاتی ہے جو عسکری حکمت عملی کے بجائے سیاسی بنیادوں پر صادر کیے جا رہے ہیں۔

عالمی سطح پر، ان تبدیلیوں نے امریکہ کی بازدارندگی کی شبیہ کو کمزور کیا ہے، کیونکہ ایک ایسے ملک میں جہاں بحران کے وقت سینئر کمانڈر ہٹا دیے جائیں، وہاں فوجی یکجہتی کمزور دکھائی دیتی ہے۔

اس کے برعکس، یہ تبدیلیاں ایران کی دفاعی طاقت کے استحکام کی طرف اشارہ کرتی ہیں، کیونکہ امریکی فوج کے اعلیٰ ترین کمانڈر بھی ایران کے دفاعی نظام کے خلاف زمینی آپریشن کو ناقابلِ عمل سمجھتے رہے ہیں۔

نتیجتاً، واشنگٹن میں جاری یہ تبدیلیاں اس حقیقت کی عکاسی کرتی ہیں کہ ایران کے خلاف میدان میں قدم رکھنے سے پہلے ہی امریکی جنگی حکمت عملی داخلی سطح پر بحران کا شکار ہو چکی ہے۔

مشہور خبریں۔

مشیر قومی سلامتی سرکاری دورے پر امریکا روانہ

?️ 27 جولائی 2021اسلام آباد (سچ خبریں) مشیر قومی سلامتی ڈاکٹرمعیدیوسف اہم دورے پر امریکا

نیتن یاہو کو تل ابیب میں بھی سکون کا سانس نصیب نہیں

?️ 5 دسمبر 2023سچ خبریں: صہیونی قیدیوں کے اہل خانہ نے پیر کے روز ایک

عالمی تنظیموں، مالیاتی اداروں کا سیلاب متاثرین کیلئے 50 کروڑ ڈالر امداد کا اعلان

?️ 26 اگست 2022اسلام آباد: (سچ خبریں)وزیر اعظم  نے ملک بھر میں بڑے پیمانے پر

آئینی بینچ نے حساس اداروں میں سیاسی سیل ختم کرنے کی رپورٹ طلب کرلی

?️ 10 دسمبر 2024اسلام آباد: (سچ خبریں) سپریم کورٹ کے آئینی بینچ نے وزارت دفاع

نوازشریف کی تجویز پر پنجاب کابینہ میں 10 نئے وزرا اور مشیروں کی شمولیت متوقع

?️ 20 جولائی 2025لاہور (سچ خبریں) مسلم لیگ (ن) کے سربراہ اور سابق وزیر اعظم

الجزائر کی سرحد کے قریب موساد کا خطرہ

?️ 28 نومبر 2021سچ خبریں:فرانسیسی زبان کے ایک اخبار نے لکھا ہے کہ موساد الجزائر

صیہونی طرز کی آزادی بیان

?️ 13 نومبر 2023سچ خبریں: اگرچہ صیہونی حکومت نے ہمیشہ میڈیا کے پروپیگنڈے کے پیچھے

امریکہ لشکرکشی کے بجائے سیاسی حل اور سفارتکاری اپنائے:پاکستانی اخبار

?️ 30 جنوری 2026امریکہ لشکرکشی کے بجائے سیاسی حل اور سفارتکاری اپنائے:پاکستانی اخبار  پاکستانی اردو

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے