?️
سچ خبریں:یمن پر مہینوں کی بمباری کے بعد امریکہ نے حملے روکنے کا اعلان کر دیا،یہ فیصلہ نہ صرف ایک فوجی پسپائی ہے بلکہ واشنگٹن کی کمزور ہوتی ہوئی بالادستی اور انصاراللہ کی بڑھتی طاقت کا ثبوت ہے۔
یمن کے خلاف مہینوں پر محیط مہنگی اور شدید فوجی کارروائیوں کے بعد، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بالآخر یمن پر حملے روکنے کا اعلان کر دیا،ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ انصار اللہ نے کہا ہے کہ وہ امریکہ سے جنگ نہیں چاہتے اور مزید کوئی بحری جہاز تباہ نہیں کریں گے۔
یہ بھی پڑھیں: یمنی فوج کا امریکہ کو انتباہ
پسپائی یا مجبوری؟
ٹرمپ نے کہا کہ ہم حوثیوں کی بات کا احترام کرتے ہیں، اب امریکہ یمن پر مزید حملے نہیں کرے گا،امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے بھی تسلیم کیا کہ اب مزید حملوں کی ضرورت باقی نہیں رہی کیونکہ ہمارے اصل مقصد یعنی بحری راستوں کی حفاظت کو حاصل کر لیا گیا ہے۔
عمان کی ثالثی اور صنعا کی وضاحت
عمان نے تصدیق کی کہ اس نے واشنگٹن اور صنعا کے درمیان ثالثی کی، جس کے نتیجے میں دونوں فریقوں نے ایک دوسرے کو نشانہ نہ بنانے پر اتفاق کیا،تاہم، صنعا کے مؤقف کے مطابق یہ جنگ بندی دراصل امریکہ کی جانب سے یکطرفہ پسپائی ہے، اور ٹرمپ کی باتیں سچ پر مبنی نہیں،انصار اللہ کے ترجمان محمد البخیتی نے کہا کہ ہم نے حملے بند کرنے کا کوئی اعلان نہیں کیا، ٹرمپ حقائق کو مسخ کر رہے ہیں،محمد طاہر انعم، سیاسی مشیر، نے کہا کہیہ اقدام ٹرمپ کے دورہ مشرق وسطیٰ کے خوف کا نتیجہ ہے۔
انصار اللہ کی مزاحمت: میدان میں کامیابی
یمنی ڈرونز اور میزائل امریکی بحری بیڑوں کو نشانہ بنانے میں کامیاب رہے
پینٹاگون کسی قابلِ ذکر کامیابی کے بغیر حملوں کو "اقدام بازدارندہ” قرار دیتا رہا
5 ارب ڈالر سے زائد کا مالی نقصان، بغیر کسی اسٹریٹجک فائدے کے
واشنگٹن کو جھٹکا، انصار اللہ کو برتری
امریکہ نے اندازہ نہیں لگایا تھا کہ یمن جیسی چھوٹی قوت اس حد تک جواب دے سکتی ہے
انصار اللہ نے طاقت کے توازن کو تبدیل کر دیا
ٹرمپ کو عالمی سطح پر امریکی فضائی طاقت کی رسوائی سے بچنے کے لیے پسپائی اختیار کرنا پڑی
فلسطین اور مزاحمتی محاذ کے لیے نئی راہیں
امریکہ چاہتا تھا کہ یمنی حماس اور فلسطینی مزاحمت سے دستبردار ہوں مگر یمنیوں نے فلسطینیوں کے دفاع میں پوزیشن مزید سخت کر لیا،انصار اللہ نے واضح کر دیا کہ جب تک غزہ پر اسرائیلی حملے جاری ہیں، ہم بھی اپنے حملے جاری رکھیں گے
اگلا ہدف: اسرائیل کے توانائی مراکز؟
اسرائیلی حملوں کے بعد یمنی قیادت نے اشارہ دیا ہے کہ اس بار جواب فوجی مراکز کے بجائے توانائی و اقتصادی تنصیبات کو نشانہ بنا سکتا ہے — ایک ایسا اقدام جو تل ابیب کو شدید بحران سے دوچار کر سکتا ہے۔
نتیجہ: بالادستی کا زوال، مزاحمت کی فتح
یمن کی مزاحمت نے نہ صرف امریکہ کو میدان جنگ میں پیچھے ہٹنے پر مجبور کیا، بلکہ واشنگٹن کی مغربی ایشیا میں برتری کا زوال بھی واضح کر دیا۔ یہ ایک اسٹریٹجک شکست ہے جو فلسطینی و علاقائی محاذوں پر بھی اپنے اثرات مرتب کرے گی۔
Short Link
Copied


مشہور خبریں۔
کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس، ریکارڈ ترسیلات زر کے باوجود ڈالر کی قلت پیدا ہوگئی
?️ 18 جولائی 2025اسلام آباد: (سچ خبریں) ریکارڈ ترسیلات زر کی آمد اور کرنٹ اکاؤنٹ
جولائی
مقبوضہ فلسطین میں مشتبہ دھماکہ
?️ 18 مارچ 2023سچ خبریں:فوج، انٹرنل سیکیورٹی سروس شاباک اور اسرائیلی پولیس نے مقبوضہ فلسطینی
مارچ
تیونس کے ساحل میں دردناک حادثہ، کشتی ڈوبنے سے 41 افراد ہلاک ہوگئے
?️ 17 اپریل 2021تیونس (سچ خبریں) تیونس کے ساحل میں ایک دردناک حادثہ پیش آیا
اپریل
حزب اللہ سے جنگ کی صورت میں اسرائیل پر روزانہ 2 ہزار راکٹ داغے جائیں گے:صیہونی عہدہ دار
?️ 19 اکتوبر 2021سچ خبریں:اسرائیلی فوج کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے خدشہ ظاہر کیا کہ
اکتوبر
سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر بل پر پارلیمانی کارروائی کا ریکارڈ طلب
?️ 2 مئی 2023سچی خبریں:(سچ خبریں) سپریم کورٹ نے چیف جسٹس آف پاکستان کے اختیارات
مئی
یوکرین کی سلامتی کی ذمہ داری یورپ پر ہوگی:امریکی نائب صدر
?️ 21 اگست 2025یوکرین کی سلامتی کی ذمہ داری یورپ پر ہوگی:امریکی نائب صدر امریکی
اگست
مولانا فضل الرحمٰن نے ایک بار پھر نئے انتخابات کا مطالبہ کردیا
?️ 27 اکتوبر 2024خوشاب: (سچ خبریں) جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن
اکتوبر
پنجاب میں خسرہ سے اب تک 18 اموات ہوچکی ہیں، صوبائی وزیر صحت
?️ 3 جون 2024لاہور: (سچ خبریں) وزیر صحت پنجاب خواجہ عمران نذیر نے کہا ہے
جون