امریکی شہری اسرائیل کی جنگی پالیسیوں کی قیمت کیسے ادا کر رہے ہیں؟

امریکی امداد

?️

سچ خبریں:الجزیرہ نے اپنی ایک رپورٹ میں بتایا ہے کہ اسرائیل کو دی جانے والی امریکی امداد کا بڑا حصہ براہِ راست امریکی عوام کے ٹیکسوں سے آتا ہے۔

الجزیرہ نیوز چینل کی رپورٹ کے مطابق دوسری عالمی جنگ کے بعد سے اب تک امریکہ اسرائیل کو 300 ارب ڈالر سے زائد کی فوجی اور اقتصادی امداد فراہم کر چکا ہے، جس کے باعث اسرائیل جدید امریکی تاریخ میں امریکی امداد کا سب سے بڑا وصول کنندہ بن گیا ہے، حالانکہ دونوں کے درمیان کوئی باضابطہ دفاعی معاہدہ موجود نہیں۔

رپورٹ کے مطابق 1962 میں امریکی صدر جان ایف کینیڈی نے اسرائیل کو دفاعی میزائل فروخت کرنے کی منظوری دی، جو اس وقت کی غیر رسمی امریکی پالیسی کے خلاف تھا۔ ابتدا میں یہ امداد سودی قرضوں کی صورت میں تھی، لیکن وقت کے ساتھ یہ نظام تبدیل ہوتا گیا۔

الجزیرہ کے مطابق 1973 کی جنگ کے بعد صورتحال یکسر بدل گئی جب صیہونی وزیر اعظم گلدا مائیر نے ہنگامی بنیادوں پر امریکہ سے مدد طلب کی، جس کے جواب میں صدر رچرڈ نکسن کی درخواست پر کانگریس نے 2 ارب 200 ملین ڈالر کا امدادی پیکج منظور کیا، جس میں سے 1 ارب 500 ملین ڈالر بعد میں بلاعوض امداد میں تبدیل کر دیے گئے۔

1980 کی دہائی میں اسرائیل شدید معاشی بحران کا شکار ہوا تو امریکی صدر رونالڈ ریگن نے فیصلہ کیا کہ اسرائیل کو دی جانے والی فوجی امداد کو قرض کے بجائے مکمل طور پر فری گرانٹ بنا دیا جائے۔ اسی دوران اسرائیل کو فارن ملٹری فنانسنگ پروگرام کے تحت خصوصی رعایتیں بھی ملیں، جن میں امریکی امداد کا 26.3 فیصد اسرائیل کے اندر خرچ کرنے کی اجازت شامل ہے۔

الجزیرہ کے مطابق 1990 کے بعد دونوں ممالک نے امداد کیلئے دس سالہ معاہدوں کا سلسلہ شروع کیا، جن میں:

  • 1999 میں 21.3 ارب ڈالر
  • اوباما دور میں 30 ارب ڈالر
  • موجودہ معاہدہ 38 ارب ڈالر (سالانہ 3.8 ارب)

شامل ہیں، جو 2028 تک جاری رہے گا۔

غزہ پر 2023 کے حملوں کے بعد کانگریس نے مزید 14.1 ارب ڈالر کی اضافی امداد منظور کی، جس سے صرف دو سال میں اسرائیل کی مجموعی امریکی فنڈنگ 21.7 ارب ڈالر تک پہنچ گئی۔

الجزیرہ کے مطابق صیہونی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو موجودہ معاہدے کو بیس سال تک بڑھانے کی کوشش کر رہے ہیں، جبکہ امریکہ میں یہ بحث شدت اختیار کر رہی ہے کہ کیا اسرائیل کی غیر مشروط امداد کا دور ختم ہونے کے قریب ہے۔

مشہور خبریں۔

پانی کےتنازعے پر پاکستان اور بھارت کے درمیان مذاکرات کا آغاز

?️ 1 مارچ 2022اسلام آباد(سچ خبریں) پانی کے تنازعے پر پاک بھارت مذاکرات کا آغاز

بھارت سے تعلقات کی نوعیت کے لئے وزیراعظم نے اہم اجلاس طلب کر لیا

?️ 2 اپریل 2021اسلام آباد (سچ خبریں) وزیراعظم عمران خان نے بھارت سے تعلقات کی

برطانوی وزارت دفاع کے ہاتھوں 250 افغانی مترجمین کی اطلاعات منظر عام پر

?️ 21 ستمبر 2021سچ خبریں: برطانوی حکومت کہ جو پہلے افغانستان سے باہر نکلنے کو

غزہ کے شہید بچوں کے صرف نام پڑھنے میں 18 گھنٹے لگتے ہیں

?️ 9 اپریل 2024سچ خبریں: سیو دی چلڈرن آرگنائزیشن کے سربراہ نے سلامتی کونسل کے

حماس کا جنگ بندی کے کسی بھی معاہدے میں مزاحمت کی بنیادی پوزیشن پر زور 

?️ 17 اپریل 2025سچ خبریں: اسرائیلی حکومت کی طرف سے جنگ بندی کی تجویز کے

تابش گوہر کو ایک اور نیا منصب دے دیا گیا

?️ 30 مارچ 2021اسلام آباد(سچ خبریں) کابینہ میں تازہ ترین ردوبدل کے نتیجے میں وزیر

بن سلمان کے نیوم منصوبے کو درپیش پیچیدہ چیلنجز

?️ 24 جنوری 2023سچ خبریں:سعودی عرب کے نیوم منصوبے کے نفاذ کے آغاز سے لے

عالمی تنظیموں، مالیاتی اداروں کا سیلاب متاثرین کیلئے 50 کروڑ ڈالر امداد کا اعلان

?️ 26 اگست 2022اسلام آباد: (سچ خبریں)وزیر اعظم  نے ملک بھر میں بڑے پیمانے پر

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے