?️
سچ خبریں:امریکی ذرائع ابلاغ نے ایران اور امریکہ کے درمیان چالیس روزہ جنگ اور اس کے بعد معاہدے کا تجزیہ کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ کی کامیابی کے دعووں پر سوالات اٹھائے ہیں۔ نیویارک ٹائمز، واشنگٹن پوسٹ اور نیوز ویک کی رپورٹس میں امریکی دباؤ میں کمی، اسرائیل سے اختلافات اور چین کے بڑھتے اثر و رسوخ کا جائزہ لیا گیا ہے۔
اگرچہ ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ طے پانے والی مفاہمتی یادداشت کو ایک تاریخی کامیابی قرار دیا ہے، تاہم امریکہ کے سیاسی اور ذرائع ابلاغی حلقوں میں واشنگٹن کی حقیقی کامیابیوں کے بارے میں شکوک و شبہات میں اضافہ ہو گیا ہے۔
بہت سے تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ تہران اور واشنگٹن کے درمیان ہونے والا معاہدہ نہ صرف امریکہ کی کامیابی کی علامت نہیں بلکہ اس نے واشنگٹن کی طاقت کی حدود کو بھی آشکار کر دیا ہے اور ٹرمپ حکومت کو نئے چیلنجوں سے دوچار کر دیا ہے۔
نیویارک ٹائمز، واشنگٹن پوسٹ اور نیوز ویک میں شائع ہونے والی رپورٹس اور تجزیوں میں ایک مشترک نتیجے پر زور دیا گیا ہے کہ حالیہ معاہدہ ان بنیادی مسائل کو حل کرنے میں ناکام رہا ہے جنہیں بنیاد بنا کر امریکہ جنگ میں داخل ہوا تھا، اور ان امور کے بارے میں فیصلہ آئندہ مذاکرات پر چھوڑ دیا گیا ہے۔
ان رپورٹس کے مطابق اگرچہ اس معاہدے نے تہران اور واشنگٹن کے درمیان سفارت کاری کا راستہ دوبارہ کھول دیا ہے، تاہم ایران کے جوہری پروگرام، بیلسٹک میزائل، ایران اور اسرائیل کے درمیان تنازع اور خطے میں امریکی اثر و رسوخ کے مستقبل جیسے موضوعات تاحال کسی حتمی حل تک نہیں پہنچ سکے۔ یہی مسئلہ آنے والے مہینوں میں ٹرمپ حکومت کے لیے ایک مشکل آزمائش بن سکتا ہے۔
اس کے علاوہ سوئٹزرلینڈ میں شروع ہونے والے نئے مذاکرات کو بھی لبنان، آبنائے ہرمز اور دیگر حساس علاقائی مسائل جیسی رکاوٹوں کا سامنا ہے۔
محدود کامیابیاں
نیویارک ٹائمز نے یہ سوال اٹھایا ہے کہ تقریباً چار ماہ کی جنگ کے بعد کیا تبدیل ہوا ہے؟ اور اس کا جواب دیتا ہے کہ بہت زیادہ نہیں۔
اس اخبار کے مطابق ایران کا جوہری پروگرام ختم نہیں ہوا۔
بیلسٹک میزائلوں کا معاملہ آئندہ مذاکرات کے لیے چھوڑ دیا گیا ہے۔
خطے میں ایران کے اتحادی گروہ اور قوتیں بدستور سرگرم ہیں۔
میساچوسٹس ادارۂ ٹیکنالوجی میں سلامتی کے مطالعات کی پروفیسر کیٹلین ٹالمیج کے مطابق یہ معاہدہ امریکہ کی فوجی برتری کے بجائے اس حقیقت کی نشاندہی کرتا ہے کہ واشنگٹن کشیدگی میں مزید اضافے کے عمل کو جاری رکھنے کی محدود صلاحیت رکھتا ہے۔
نیویارک ٹائمز نے یہ بھی لکھا ہے کہ ایران اپنی ایک اہم طاقت کو دباؤ کے مؤثر ذریعہ میں تبدیل کرنے میں کامیاب ہوا ہے اور وہ آبنائے ہرمز ہے۔ جنگ نے ظاہر کر دیا کہ تہران اس اہم توانائی گزرگاہ کو ایک تزویراتی ہتھیار کے طور پر استعمال کر سکتا ہے۔
معاہدے کے مطابق ایران کو اہم معاشی مراعات حاصل ہوں گی، جن میں شامل ہیں:
امریکی بحری محاصرے کا خاتمہ،
تین سو ارب ڈالر کے تعمیر نو فنڈ کا قیام،
ایران کے منجمد اثاثوں کی رہائی،
اور امریکی پابندیوں کا خاتمہ۔
اسی طرح دونوں فریقوں نے ساٹھ روزہ مدت کے دوران سب سے پیچیدہ موضوعات، جن میں جوہری معاملہ اور پابندیاں شامل ہیں، پر مذاکرات جاری رکھنے پر اتفاق کیا ہے۔
امریکی دباؤ کے ذرائع میں کمی
واشنگٹن پوسٹ کا ماننا ہے کہ ٹرمپ کے پاس اب جنگ سے پہلے کے مقابلے میں دباؤ ڈالنے کے کم ذرائع موجود ہیں۔
اخبار کے مطابق گزشتہ فروری میں ایران کو یہ تشویش تھی کہ کسی بھی امریکی حملے سے نظام کے سقوط کا خطرہ پیدا ہو سکتا ہے، لیکن جنگ نے دکھایا کہ ایران کا حکومتی ڈھانچہ ایران کے رہبر کی شہادت کے بعد بھی اپنی بقا برقرار رکھنے میں کامیاب رہا۔
اخبار مزید لکھتا ہے کہ ایران نے ثابت کیا کہ صرف آبنائے ہرمز کو بند کرنے کی دھمکی کے ذریعے بھی عالمی منڈیوں میں اضطراب پیدا کیا جا سکتا ہے۔ یہ وہ گزرگاہ ہے جہاں سے دنیا کی تقریباً بیس فیصد تیل اور گیس کی تجارت گزرتی ہے۔
امریکہ اور اسرائیل کے درمیان اختلافات
اس معاہدے کے اہم ترین نتائج میں سے ایک واشنگٹن اور تل ابیب کے درمیان اختلافات میں اضافہ ہے۔
نیویارک ٹائمز کے مطابق اسرائیل اس تصور کے ساتھ جنگ میں داخل ہوا تھا کہ وہ کئی دہائیوں تک ایران کے خطرے کو ختم کر سکتا ہے، لیکن بالآخر وہ خود کو ایسے معاہدے کے کنارے پر کھڑا دیکھتا ہے جس پر امریکہ نے اسرائیل کے تزویراتی اہداف کو مکمل اہمیت دیے بغیر دستخط کیے۔
صیہونی فوجی انٹیلی جنس کے سابق افسر ڈینی سیٹرینوویچ نے اس معاہدے کو اس تزویراتی حکمت عملی کا مکمل انہدام قرار دیا ہے جسے اسرائیل ایران کے خلاف اختیار کیے ہوئے تھا۔
اس کے علاوہ معاہدے میں لبنان میں جنگ بندی کو شامل کرنے سے امریکہ ایک مشکل صورت حال سے دوچار ہو گیا ہے، کیونکہ واشنگٹن کو اب صیہونی فوجی کارروائیوں کو محدود کرنے کے لیے بنیامین نیتن یاہو کی حکومت پر دباؤ ڈالنا پڑ سکتا ہے، جو دونوں اتحادیوں کے درمیان کشیدگی میں اضافے کا سبب بن سکتا ہے۔
ٹرمپ پر داخلی دباؤ
ٹرمپ کے چیلنج صرف خارجہ پالیسی تک محدود نہیں ہیں۔
واشنگٹن پوسٹ کے مطابق ٹرمپ کے بعض قدامت پسند حامی ان پر ایران کو حد سے زیادہ مراعات دینے کا الزام لگا رہے ہیں۔ دوسری جانب جنگ کے معاشی اثرات، جن میں افراطِ زر میں اضافہ اور توانائی کی قیمتوں میں بڑھوتری شامل ہے، وسط مدتی انتخابات سے قبل ان کے انتخابی حلقے پر دباؤ ڈال رہے ہیں۔
فاکس نیوز کے سروے کے مطابق اٹھاون فیصد ووٹروں کا خیال ہے کہ ایران کے خلاف جنگ کا فیصلہ غلط تھا، جبکہ صرف پینتیس فیصد افراد ٹرمپ کی جانب سے ایران کے معاملے کو سنبھالنے کے طریقے سے مطمئن ہیں۔
چین؛ جنگ کا خاموش فاتح
نیوز ویک نے اس معاملے کے ایک اور پہلو کو اجاگر کرتے ہوئے کہا ہے کہ چین بغیر ایک بھی گولی چلائے اس جنگ کے بڑے فاتحین میں شامل رہا ہے۔
اس جریدے کے مطابق بیجنگ نے خود کو ایسے ملک کے طور پر پیش کیا ہے جو مذاکرات اور ممالک کی خودمختاری کے احترام کی حمایت کرتا ہے، جبکہ امریکہ کو ایک ایسی فوجی طاقت کے طور پر دیکھا گیا جو اپنے اتحادیوں کے لیے بھاری قیمت کا باعث بنتی ہے۔
بیجنگ میں چین اور عالمگیریت مرکز کے سربراہ ہنری وانگ کے مطابق امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف جنگ نے ایک انتہائی خطرناک مثال قائم کی ہے اور گزشتہ اسی برسوں سے قائم عالمی نظام کو کمزور کر دیا ہے۔
اسی طرح بروکنگز ادارے کے ریان ہاس کا کہنا ہے کہ امریکہ اور اس کے یورپی و عرب اتحادیوں کے درمیان نمایاں ہونے والے اختلافات نے چین کے اثر و رسوخ میں اضافے کے لیے مناسب مواقع پیدا کر دیے ہیں۔
مجموعی طور پر وہ معاہدہ جسے ٹرمپ ایک بڑی تزویراتی کامیابی کے طور پر پیش کرنا چاہتے تھے، ان کی حکومت کے لیے نئی مشکلات کا سبب بن سکتا ہے، کیونکہ وہ بنیادی مسائل جنہوں نے جنگ کی بنیاد رکھی تھی، اب تک حل نہیں ہو سکے اور امریکہ کی اپنی خواہشات مسلط کرنے کی صلاحیت پہلے سے کہیں زیادہ آزمائش سے دوچار ہو چکی ہے۔


مشہور خبریں۔
حماس سیاسی سربراہ شہادت پر فلسطینی مزاحمتی گروپوں کا ردعمل
?️ 31 جولائی 2024سچ خبریں: حماس کے سیاسی سربراہ اسماعیل ہنیہ کی تہران میں شہادت
جولائی
مسلم اُمہ کو متحد ہو کر تمام عصری چیلنجز کا سامنا کرنا ہوگا، اسحٰق ڈار
?️ 29 نومبر 2025اسلام آباد: (سچ خبریں) نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحٰق ڈار نے
نومبر
حملہ یمن سے،تباہی ابوظہبی میں،تشویش اسرائیل میں
?️ 20 جنوری 2022سچ خبریں:عبرانی زبان کے ذرائع نے بتایا کہ جنوبی یمن میں متحدہ
جنوری
سپریم کورٹ میں ریکوڈک صدارتی ریفرنس سماعت کیلئے مقرر
?️ 19 اکتوبر 2022اسلام آباد: (سچ خبریں) سپریم کورٹ نے ریکوڈک صدارتی ریفرنس سماعت کیلئے مقرر کر دیا۔
اکتوبر
جنوبی یمن میں سعودی–اماراتی نیابتی جنگ میں شدت
?️ 10 دسمبر 2025سچ خبریں:جنوبی اور مشرقی یمن میں سعودی و اماراتی حمایت یافتہ گروہوں
دسمبر
ٹک ٹاک میں تصاویر کو اے آئی ویڈیوز میں تبدیل کرنے کا فیچر پیش
?️ 15 مئی 2025سچ خبریں: شارٹ ویڈیو شیئرنگ ایپلی کیشن ٹک ٹاک نے اسٹوریز میں
مئی
آل خلیفہ کا صیہونی عہدہ دار کا استقبال،بحرانی عوام کا احتجاج
?️ 12 مارچ 2022سچ خبریں:بحرین کے عوام نے اس ملک کے دار الحکومت منامہ اور
مارچ
بائیڈن کا سعودی عرب اور اسرائیل کا دورہ ملتوی: امریکی میڈیا
?️ 4 جون 2022سچ خبریں: جب کہ بعض صیہونی ذرائع ابلاغ نے جو بائیڈن کے
جون