کیا ٹرمپ کی بحری ناکہ بندی چین کو جنگ میں دھکیل سکتی ہے؟ ایران تنازع پر عالمی طاقتوں کی نئی صف بندی

ٹرمپ

?️

سچ خبریں:ٹرمپ کی جانب سے ایران کی بحری ناکہ بندی کی تجویز نے عالمی توانائی بحران اور چین کی ممکنہ عسکری مداخلت کے خدشات کو بڑھا دیا ہے، جبکہ اسلام آباد مذاکرات کی ناکامی نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے

ٹرمپ کی بحری ناکہ بندی کی دھمکی نے ایسے خطرناک منظرنامے کو جنم دیا ہے جو اس کے اندازوں سے کہیں آگے ہیں، اور اس کا مطلب چین، بھارت، جاپان، جنوبی کوریا اور یورپ کو بیک وقت تیل اور گیس کی فراہمی میں خلل ہے، جو چین کو بھی ممکنہ طور پر جنگ میں شامل کر سکتا ہے۔

امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسلام آباد مذاکرات میں ناکامی کے فوراً بعد سوشل میڈیا پر ایک مضمون شیئر کیا جس میں انہوں نے وینزویلا کے طرز پر ایران کی بحری ناکہ بندی کی تجویز پیش کی۔

نیوز ویب سائٹ المیادین نے اپنے تجزیے میں لکھا کہ ایران کے حوالے سے ٹرمپ کا یہ موازنہ جغرافیائی حقیقتوں سے مطابقت نہیں رکھتا۔ وینزویلا اور کیوبا کیریبین ممالک ہیں جو جغرافیائی طور پر محصور ہیں، ان کے پاس کوئی مؤثر زمینی متبادل نہیں اور ان کی معیشت مکمل طور پر سمندری راستوں پر منحصر ہے، جن پر واشنگٹن کا کنٹرول ہے۔

 اس کے برعکس ایران سات ممالک کے ساتھ زمینی سرحدیں رکھتا ہے اور اس کی اسٹریٹجک گہرائی چین، روس، پاکستان اور وسطی ایشیا تک پھیلی ہوئی ہے۔ جنگ کے دوران پاکستان کے ذریعے زمینی سپلائی لائنز کی مؤثریت بھی ثابت ہو چکی ہے، جن کے ذریعے سمندری راستوں کو نظرانداز کرتے ہوئے چینی اسلحہ منتقل کیا گیا۔

اس کے علاوہ ایران اس اہم آبنائے پر خود کنٹرول رکھتا ہے جس کے ذریعے اسے محصور کرنے کی بات کی جا رہی ہے۔ خلیج فارس اور بحیرہ عمان میں تقریباً 2500 کلومیٹر طویل ساحلی پٹی کو سرنگوں، غاروں، میزائلوں، طیاروں اور بغیر پائلٹ آبدوزوں سے مضبوط بنایا گیا ہے، جو کسی بھی امریکی ناکہ بندی کو ایک خطرناک جوا بنا دیتی ہے، جو خود جنگ سے کم نہیں۔

اسلام آباد مذاکرات کیوں ناکام ہوئے؟

میدانی، سیاسی اور اقتصادی حقائق اسلام آباد مذاکرات کی صورتحال کو واضح کرتے ہیں۔ یہ صرف پہلا دور تھا اور ایران نے واضح کیا تھا کہ ایک نشست میں معاہدہ ممکن نہیں اور سفارتکاری ایک مسلسل عمل ہے، لیکن واشنگٹن نے جلد بازی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے نائب کو وسیع اختیارات کے ساتھ بھیجا اور پہلے ہی مرحلے میں اپنی حتمی پیشکش سامنے رکھ دی۔

 یہ طرز عمل اعتماد کی علامت نہیں بلکہ وقت کے دباؤ، بڑھتے اخراجات اور امریکہ میں ممکنہ معاشی و انتخابی بحران کے خدشات کی عکاسی کرتا ہے۔

امریکہ کے اندرونی اختلافات بھی شدت اختیار کر چکے ہیں۔ فوجی قیادت نے جنگ کے خطرات سے خبردار کیا لیکن انہیں نظرانداز کیا گیا۔ کانگریس بھی جنگی حکمت عملی سے مطمئن نہیں تھی۔

 سب سے اہم بات یہ کہ ویتنام جنگ کے بعد سب سے بڑی جنگ مخالف تحریک سامنے آئی، حتیٰ کہ ٹرمپ کی اپنی حمایتی تحریک ماگا نے بھی اس جنگ کی مخالفت کرتے ہوئے اسے امریکی معیشت کے لیے نقصان دہ قرار دیا۔ ان حالات نے واشنگٹن کی مذاکراتی پوزیشن کو مزید کمزور کر دیا۔

دوسری جانب ایران کے داخلی محاذ نے تمام اندازوں کو غلط ثابت کر دیا۔ جہاں انتشار کی توقع کی جا رہی تھی، وہاں ملک بھر میں لاکھوں افراد سڑکوں پر نکل آئے اور قومی یکجہتی کا مظاہرہ کیا۔ بیرون ملک ایرانی بھی وطن واپس آئے اور حتیٰ کہ بعض مخالف گروہ بھی دفاع کے لیے سامنے آئے۔ تین ہزار سے زائد شہریوں کی شہادت اور وسیع تباہی کے باوجود یہ اتحاد ایران کی داخلی مضبوطی کو ظاہر کرتا ہے۔

جنگ میں طاقت کا توازن کس کے حق میں ہے؟

امریکہ کو شدید عسکری دباؤ کا سامنا ہے۔ خطے میں اس کے اڈے حملوں کا نشانہ بنے اور کئی غیر فعال ہو گئے۔ مزید کمک بھی انہیں محفوظ بنانے کے بجائے مزید نمایاں ہدف بنا رہی ہے، کیونکہ ایرانی میزائل اور ڈرونز دور دراز اور مضبوط اہداف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

پیٹریاٹ اور تھاڈ میزائل سسٹمز کے ذخائر تیزی سے ختم ہو رہے ہیں، یہاں تک کہ یہ رفتار یوکرین جنگ کے چار سالہ استعمال سے بھی زیادہ ہے۔ امریکہ کو فضائی اور دفاعی نظاموں میں بھی نقصان اٹھانا پڑا ہے جس کی تلافی میں برسوں لگ سکتے ہیں۔

لبنان میں صہیونی حکومت عسکری اور سیاسی بحران کا شکار ہے۔ اسرائیلی فوج مسلسل کارروائیوں کے باوجود اپنے اہداف حاصل نہیں کر سکی اور حزب اللہ کے خلاف نقصانات اٹھا رہی ہے۔

 سیاسی طور پر بھی جنگ بندی کی خلاف ورزی نے اسرائیل کو عالمی سطح پر تنقید کا نشانہ بنایا ہے جبکہ حزب اللہ کی پوزیشن مزید مضبوط ہوئی ہے۔

کیا چین جنگ میں شامل ہوگا؟

المیادین کے مطابق ٹرمپ کی بحری ناکہ بندی کا منصوبہ اس کے اندازوں سے کہیں زیادہ بڑے نتائج پیدا کر سکتا ہے۔ آبنائے کو بند کرنا صرف ایران کی برآمدات روکنے تک محدود نہیں بلکہ چین، بھارت، جاپان، جنوبی کوریا اور یورپ کی توانائی سپلائی کو بھی متاثر کرے گا، جس سے تیل کی قیمت 150 سے 200 ڈالر فی بیرل تک پہنچ سکتی ہے۔

مزید خطرناک بات یہ ہے کہ چین اپنے توانائی کے راستوں کے تحفظ کے لیے بحیرہ عرب اور بحر ہند میں اپنے جنگی جہاز بھیج سکتا ہے، جس سے ایک علاقائی تنازعہ عالمی بحران میں تبدیل ہو سکتا ہے اور امریکہ کے لیے صورتحال کو کنٹرول کرنا مشکل ہو جائے گا۔

امریکہ کا اسٹریٹجک تعطل

مجموعی طور پر ایران کے خلاف امریکی اور صہیونی جارحیت، جس کا مقصد ایران کا خاتمہ اور خطے کی نئی ترتیب تھا، چھ ہفتوں کے اندر ایک بڑے اسٹریٹجک تعطل میں تبدیل ہو چکی ہے۔ نہ واشنگٹن اور نہ ہی تل ابیب اس سے بھاری قیمت ادا کیے بغیر نکل سکتے ہیں۔

اس تعطل سے پیچھے ہٹنا امریکہ کی عالمی ساکھ کو نقصان پہنچا سکتا ہے اور اس کے مخالفین کو مزید متحرک کر سکتا ہے، جبکہ جنگ جاری رکھنے سے مسلسل عسکری و معاشی تھکن بڑھے گی جس سے چین اور روس فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔

اس تمام صورتحال کے درمیان ایران نہ صرف مزاحمت جاری رکھے ہوئے ہے بلکہ سفارتی محاذ پر بھی سرگرم ہے اور دونوں میدانوں میں اپنے مخالفین پر دباؤ برقرار رکھے ہوئے ہے۔

مشہور خبریں۔

سعودی حکام کا صیہونی نامہ نگار کے مکہ میں داخل ہونے کا اعتراف

?️ 24 جولائی 2022سچ خبریں:سعودی عرب نے سوشل میڈیا پر بڑے پیمانے پر احتجاج کے

وزیر داخلہ کا اہم خطاب، اسلام اور ملک دشمنوں کو شکست دیں گے

?️ 19 اپریل 2021اسلام آباد(سچ خبریں) وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید احمد کا کہنا ہے

بلدیاتی انتخابات میں حلقہ بندیاں اور سیکیورٹی رکاوٹ ہیں

?️ 26 نومبر 2022کراچی:(سچ خبریں) الیکشن کمیشن آف پاکستان کی جانب سے کراچی اور حیدرآباد

ترک محنت کشوں کا مہنگائی کے خلاف وسیع مظاہرہ

?️ 20 نومبر 2021سچ خبریں: ترکی میں بڑھتی ہوئی مہنگائی اور زندگی گزارنے کی مہنگی

عبرانی میڈیا: جولانی سعودی عرب میں ٹرمپ سے ملاقات کریں گے

?️ 13 مئی 2025سچ خبریں: عبرانی زبان کے میڈیا نے ابو محمد گولانی کی ابراہیمی

مغربی کنارے میں ایک بار پھر صیہونی جارحیت؛مجاہدین کا دندان شکن جواب

?️ 3 اگست 2023سچ خبریں: فلسطینیوں کے خلاف اپنے جابرانہ اقدامات کے تسلسل میں صیہونی

میری برطرفی امریکی دباؤ اور سازش کا نتیجہ تھا: عمران خان

?️ 11 جون 2023سچ خبریں:پاکستان کے سابق وزیر اعظم عمران خان نے نیوز ویک میگزین

غریبوں کی بستیاں اجاڑ کر طاقتور لوگوں کے ریزورٹس بچائے گئے۔ مصدق ملک

?️ 29 اگست 2025اسلام آباد (سچ خبریں) وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی سینیٹر مصدق ملک

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے