?️
سچ خبریں:ایرانی رکن پارلیمان حسین امامی راد نے کہا ہے کہ ایران نے میدان اور سفارت کاری کے امتزاج، آبنائے ہرمز اور باب المندب میں اپنے اثر و رسوخ کے استحکام کے ذریعے خطے کے نئے سکیورٹی نظم کی تشکیل میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔
ایرانی پارلیمان کے رکن حسین امامی راد نے ایک تحریری مضمون میں کہا ہے کہ امریکہ اور صہیونی حکومت نے حالیہ مسلط کردہ جنگ کا آغاز ایران میں حکومت کی تبدیلی، ملک کی تقسیم اور اس کے تیل کے وسائل پر قبضے کے مقصد سے کیا تھا، لیکن ایرانی عوام کی استقامت، مسلح افواج کی قربانیوں، رہبر انقلاب کی حکمت عملی اور نظام کے مختلف اداروں کی مؤثر کارکردگی نے تمام صورتحال کو تبدیل کر دیا۔
انہوں نے کہا کہ دشمنوں نے اپنی حساب کتاب میں ایرانی عوام کے عزم، قیادت کی شہادت طلبی کے جذبے، سماجی یکجہتی، مسلح افواج کی بازدارتی صلاحیت اور اسلامی جمہوریہ ایران کی اسٹریٹجک طاقت کو نظر انداز کیا تھا۔
ان کے مطابق جو منصوبہ ایران کے خلاف طاقت کے توازن کو تبدیل کرنے کے لیے بنایا گیا تھا، وہ خود خطے میں طاقت کے توازن کی نئی تعریف کا سبب بن گیا۔ آج مغربی ایشیا میں رونما ہونے والے واقعات صرف فوجی جھڑپوں یا سفارتی سرگرمیوں تک محدود نہیں بلکہ یہ خطے کے سکیورٹی اور سیاسی نظم کی ازسرنو تشکیل کی علامت ہیں۔
حسین امامی راد نے کہا کہ لبنان کے حالات، ایران اور امریکہ کے بالواسطہ مذاکرات، علاقائی کرداروں کی سرگرمیاں اور آبنائے ہرمز و باب المندب کے گرد پیش آنے والی تبدیلیاں ایک بڑے منظرنامے کے مختلف حصے ہیں، جس کا بنیادی موضوع مستقبل کے علاقائی سیاسی اور سکیورٹی قواعد کا تعین ہے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ واشنگٹن کی بنیادی ترجیح ایک ایسی وسیع علاقائی جنگ کو روکنا تھی جو توانائی کی سلامتی، عالمی معیشت اور خطے میں امریکی مفادات کے لیے خطرہ بن سکتی تھی۔ ان کے مطابق عوامی دباؤ، جنگی اخراجات اور داخلی سیاسی ملاحظات نے بھی امریکہ کو بحران پر قابو پانے اور کشیدگی کم کرنے پر مجبور کیا۔
ایرانی رکن پارلیمان نے کہا کہ موجودہ نازک جنگ بندی کو مستقل امن قرار نہیں دیا جا سکتا کیونکہ امریکہ اور صہیونی حکومت ایک طرف مذاکرات اور کشیدگی میں کمی کی بات کرتے ہیں جبکہ دوسری جانب معاہدوں کی خلاف ورزی، دباؤ میں اضافے اور دشمنانہ اقدامات کے ذریعے زمینی حقائق کو اپنے حق میں تبدیل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
انہوں نے لبنان پر صیہونی حملوں، ایران کی سرزمین پر حملوں، اقتصادی محاصرے اور بین الاقوامی اداروں میں سیاسی دباؤ کو مزاحمتی محور کو کمزور کرنے اور آگ کے سائے میں مذاکرات کی حکمت عملی کا حصہ قرار دیا۔
ان کے مطابق ایران کی نظر میں لبنان علاقائی بازدارتی نظام کا ایک بنیادی ستون اور صہیونی توسیع پسندانہ پالیسیوں کے مقابل استحکام کا اہم عنصر ہے۔ اسی لیے تہران نے ابتدا ہی سے اس بات پر زور دیا کہ کوئی بھی جنگ بندی یا معاہدہ تمام محاذوں خصوصاً لبنان کو شامل کرے۔
امامی راد نے کہا کہ امریکہ اور اسرائیل ایک ایسے ماڈل کو آگے بڑھانے کی کوشش کر رہے تھے جس میں فوجی، سکیورٹی اور اقتصادی دباؤ مسلسل جاری رہے لیکن اسے باضابطہ جنگ کا نام نہ دیا جائے۔ تاہم حالیہ مہینوں کے تجربات نے ثابت کر دیا کہ یہ اندازہ ایران کے بارے میں غلط تھا اور اسلامی جمہوریہ نہ مسلط کردہ جنگ قبول کرے گی اور نہ ہی مسلط کردہ مذاکرات۔
انہوں نے کہا کہ ایران نے اقوام متحدہ کے منشور کی دفعہ 51 کے تحت اپنے حق دفاع کی بنیاد پر اس مساوات کو مستقل شکل اختیار کرنے سے روکنے کا فیصلہ کیا۔
ان کے مطابق ایران کا ردعمل صرف ایک فوجی اقدام نہیں بلکہ ایک اسٹریٹجک پیغام تھا کہ لبنان اور جنوبی بیروت خطے کی سکیورٹی مساوات سے باہر نہیں ہیں اور دشمن محدود مگر مسلسل اقدامات کے ذریعے نئے قواعد نافذ نہیں کر سکتا۔
انہوں نے کہا کہ محاذوں کا اتحاد اب صرف ایک سیاسی نعرہ نہیں بلکہ ایک عملی حقیقت بن چکی ہے۔
حسین امامی راد کے مطابق ماضی میں بعض حلقے مزاحمتی محاذوں کو ایک دوسرے سے الگ سمجھتے تھے۔ لبنان کو ایران سے جدا، یمن کو لبنان سے الگ اور باب المندب کو آبنائے ہرمز سے غیر متعلق قرار دیا جاتا تھا، لیکن زمینی حقائق نے اس تصور کو غلط ثابت کر دیا۔
انہوں نے کہا کہ آج آبنائے ہرمز سے باب المندب تک، خلیج فارس سے بحیرہ احمر تک ایک نیا علاقائی نظم تشکیل پا رہا ہے، جو اس اصول پر قائم ہے کہ خطے کی سلامتی ناقابل تقسیم ہے اور اس نظام کے کسی ایک حصے کے خلاف مہم جوئی پورے خطے پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔
ان کے مطابق آبنائے ہرمز سے باب المندب تک جغرافیائی سیاسی عوامل کا ایک ایسا جال تشکیل پا چکا ہے جو عالمی تجارت، توانائی کی سلامتی اور بڑی طاقتوں کے حسابات پر اثر ڈال سکتا ہے، اور یہی حقیقت نئے علاقائی توازن میں ایران کی اسٹریٹجک صلاحیت کا اہم حصہ ہے۔
ایرانی رکن پارلیمان نے بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کے بورڈ آف گورنرز کی حالیہ قرارداد کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ بعض بین الاقوامی ادارے اپنے پیشہ ورانہ کردار سے ہٹ کر ایران پر سیاسی دباؤ ڈالنے کے آلے میں تبدیل ہو چکے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ جب کسی ملک کی پرامن جوہری تنصیبات کو نشانہ بنایا جاتا ہے اور حملہ آور کی مذمت کے بجائے متاثرہ فریق پر دباؤ ڈالا جاتا ہے تو بین الاقوامی اداروں کی غیر جانبداری پر سوالات پیدا ہونا فطری امر ہے۔
امامی راد نے زور دیا کہ ایران ہمیشہ منطق، مذاکرات اور سیاسی حل کا حامی رہا ہے، لیکن وہ سفارت کاری اور بین الاقوامی اداروں کو دباؤ کے آلے کے طور پر استعمال کرنے کی مخالفت کرتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران کی حکمت عملی ایک واضح اصول پر مبنی ہے؛ نہ ہم میدان چھوڑیں گے اور نہ سفارت کاری۔ ان کے مطابق دفاعی طاقت باوقار مذاکرات کی بنیاد فراہم کرتی ہے جبکہ سفارت کاری میدان میں حاصل ہونے والی کامیابیوں کو پائیدار سیاسی نتائج میں تبدیل کرتی ہے۔
انہوں نے موجودہ صورتحال کو تلواروں کے مذاکرات سے تعبیر کرتے ہوئے کہا کہ آج خطے میں مکالمہ اور سخت طاقت بیک وقت ایک دوسرے پر اثر انداز ہو رہے ہیں۔ امریکہ سفارتی مذاکرات اور زمینی دباؤ کو یکجا کر کے اپنے مقاصد حاصل کرنا چاہتا ہے جبکہ ایران اپنے حق دفاع، بازدارتی صلاحیتوں، علاقائی گہرائی اور جغرافیائی سیاسی اہرموں کی مدد سے ثابت کر چکا ہے کہ وہ میدان اور سفارت کاری دونوں میں مؤثر کردار ادا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
انہوں نے آخر میں کہا کہ آبنائے ہرمز سے باب المندب اور لبنان سے خلیج فارس تک نئی علاقائی حقیقت یہ ہے کہ سلامتی ناقابل تقسیم ہے اور ایران کے کردار، زمینی حقائق اور خطے کے عوام کے حقوق کو نظر انداز کر کے کوئی پائیدار سیاسی یا سکیورٹی نظام قائم نہیں کیا جا سکتا۔


مشہور خبریں۔
کالعدم ٹی ٹی پی کے حوالے وزیر اعظم کا اہم بیان
?️ 24 ستمبر 2021اسلام آباد (سچ خبریں) وزیراعظم عمران خان نے کالعدم ٹی ٹی پی
ستمبر
نوبل امن ایوارڈ کن لوگوں کو ملتا ہے؟
?️ 12 دسمبر 2023سچ خبریں: نوبل امن ایوارڈ ، سب سے زیادہ سیاسی نوبل ایوارڈ
دسمبر
اسرائیلی آبادکاروں کے حملے کو دہشت گردی قرار دیا:امریکی سفیر
?️ 21 نومبر 2025 اسرائیلی آبادکاروں کے حملے کو دہشت گردی قرار دیا:امریکی سفیر امریکی
نومبر
ترکی کے صدر کا امریکی مسلمانوں کے نام پیغام
?️ 29 دسمبر 2021سچ خبریں:ترک صدر نے شمالی امریکہ میں مسلمانوں کے ایک بڑے اجتماع
دسمبر
اوپن اے آئی کا انتخابات سے قبل غلط معلومات سے نمٹنے کیلئے نیا ٹول متعارف کرنے کا اعلان
?️ 17 جنوری 2024سچ خبریں: مصنوعی ذہانت پر تحقیق کرنے والی کمپنی ’اوپن اے آئی‘
جنوری
آزاد کشمیر کے عوام کا فیصلہ تحریک انصاف کے حق میں ہوگا: وزیر خارجہ
?️ 25 جولائی 2021اسلام آباد(سچ خبریں) وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے آزاد کشمیر کے
جولائی
سعودی عرب اور پاکستان کے باہمی دفاعی معاہدے پر دستخط
?️ 18 ستمبر 2025سچ خبریں: سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان اور پاکستان کے
ستمبر
ہم سوریہ میں کسی بھی طرح کے تقسیم کے مخالف ہیں : سوری وزیر خارجہ
?️ 17 مئی 2025سچ خبریں: اسعد الشیبانی، سوریہ کی عبوری حکومت کے وزیر خارجہ، نے
مئی