?️
اسلام آباد {سچ خبریں} قوم کو اس وقت مجلس شوریٰ کے ایوانِ بالا کے تقریباً نصف ارکان کے انتخاب کا مرحلہ درپیش ہے۔ الیکشن کمیشن نے انتخابی شیڈول جاری کردیا ہے جس کے مطابق چاروں صوبائی اسمبلیوں اور قومی اسمبلی کے ارکان اپنے اپنے حلقۂ انتخاب میں 3 مارچ کو حقِ رائے دہی استعمال کریں گے۔ امیدواران کے کاغذاتِ نامزدگی کی وصولی کے بعد ان کی جانچ پڑتال جاری ہے۔ اس ضمن میں الیکشن کمیشن نے چار اداروں سے رابطہ کرکے امیدواروں سے متعلق تفصیلات طلب کی ہیں، وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف آئی اے سے استفسار کیا گیا ہے کہ امیدوار کسی کیس میں سزا یافتہ ہے یا نہیں؟ فیڈرل بیورو آف ریونیو (ایف بی آر) سے پوچھا گیا ہے کہ امیدوار ٹیکس نادہندہ تو نہیں؟ نیب سے بھی امیدوار کے سزا یافتہ ہونے سے متعلق سوال کیا گیا ہے، جب کہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان سے امیدواروں اور اُن کے اہل خانہ کے قرض نادہندہ ہونے کے بارے میں معلومات مانگی گئی ہیں۔
پاکستانی سیاست کا یہ المیہ ہے کہ بدعنوانی اس کے رگ و ریشہ میں سرایت کرچکی ہے۔ ایوانِ بالا کے تین مارچ کے انتخابات سے عین قبل ایک وڈیو منظرعام پر آئی ہے جس میں تین برس قبل ہونے والے اسی ایوان کے انتخابات کے موقع پر خیبر پختون خوا اسمبلی کے ارکان کے ضمیر فروشی کے عوض کروڑوں روپے کی وصولی اور نوٹوں کی گنتی کے مناظر دیکھے جا سکتے ہیں۔ صاف، شفاف، منصفانہ، غیر جانب دارانہ اور ہر لحاظ سے قابلِ اعتماد انتخابات کرانا الیکشن کمیشن کا بنیادی فریضہ ہے، مگر اب تک کا تجربہ خصوصاً 2018ء کے انتخابات سے متعلق سامنے آنے والی وڈیو اس امر کی گواہ ہے کہ الیکشن کمیشن اپنے اس بنیادی فریضے کی کماحقہٗ ادائیگی میں ناکام رہا ہے جس کی بازگشت ملک کی اعلیٰ ترین عدالت میں بھی سنائی دی ہے، جہاں عدالتِ عظمیٰ کے فاضل جج صاحبان نے حکومت کی جانب سے دائر کردہ ریفرنس کی سماعت کے دوران یہ واضح کیا کہ الیکشن کمیشن کا کام صرف شیڈول جاری کردینا نہیں، کمیشن بدعنوانی کو روکنے کے لیے منصوبہ اور حکمتِ عملی بھی پیش کرے۔ اس ضمن میں معزز عدالت نے جب کمیشن کے وکیل سے استفسار کیا کہ الیکشن کمیشن نے بدعنوانی کی روک تھام کے لیے کیا اقدامات کیے ہیں، اور گزشتہ چالیس برس کے دوران ووٹ کی خرید و فروخت پر کتنے سینیٹر نااہل ہوئے ہیں؟ وکیل صاحب اس نہایت اہم اور بنیادی نوعیت کے سوال کا جواب دینے سے قاصر رہے تو عدالت کو الیکشن کمیشن کے ارکان اور سربراہ کو ذاتی طور پر طلب کرنا پڑا کہ وہ ایوانِ بالا کے انتخابات میں بدعنوانی کی روک تھام سے متعلق منصوبہ بندی، حکمت عملی اور ٹھوس اقدامات سے عدالت کو آگاہ کریں۔ حقیقت یہی ہے کہ برسہا برس سے یہ معمول چلا آرہا ہے کہ ایوانِ بالا کے انتخابات کے موقع پر ارکانِ اسمبلی کی منڈیاں سجتی ہیں۔
2018ء کے انتخابات کے موقع پر جناب عمران خاں نے اپنے ارکانِ اسمبلی کی خرید و فروخت کا برملا اعتراف کرتے ہوئے اس مذموم کاروبار میں ملوث خیبر پختون خوا اسمبلی کے ارکان کو پارٹی سے نکالنے کا اعلان بھی کیا، مگر اب جو وڈیو سامنے آئی ہے اس میں موجودہ صوبائی کابینہ کے ایک رکن بھی رقم کی وصولی میں نمایاں دکھائی دے رہے ہیں۔ اس وڈیو کے بعد ان صاحب کو کابینہ سے سبکدوش کر دیا گیا ہے، مگر بدعنوانی، ووٹوں اور ضمیر فروشی میں ملوث ارکان کو فارغ کیے جانے کے باوجود ان صاحب کا وزیر بن جانا اس امر کا واضح ثبوت ہے کہ 2018ء میں یا تو تمام بدعنوان لوگوں کو پارٹی سے نکالا نہیں جا سکا تھا، یا جان بوجھ کر بعض لوگوں کے جرم سے چشم پوشی کی گئی تھی۔
2021ء کے ایوانِ بالا کے انتخابات سے قبل بھی فریقین کی جانب سے نتائج میں سرپرائز دینے کے دعوے سرعام بلکہ چیلنج کی صورت میں کیے جارہے ہیں، جس کا واضح مطلب یہ بھی ہے کہ تین مارچ کے انتخابات سے قبل بھی ارکانِ اسمبلی کی خرید و فروخت کی منڈیاں سجائی جا چکی ہیں۔ یہ انتہائی خوفناک صورت حال ہے، وفاقی مجلس شوریٰ کے ایوانِ بالا سینیٹ اور ایوانِ زیریں قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلیوں کے یہ ارکان ہی وفاقی و صوبائی کابینہ میں وزیر، مشیر، مختلف کمیٹیوں کے رکن اور سربراہ وغیرہ بنتے ہیں، جن کے سامنے اہم قومی راز آتے ہیں۔ اس طرح ارکان کی خرید و فروخت سے جہاں عالمی برادری میں ملک و قوم کی جگ ہنسائی ہوتی ہے اور قوم کو شرمندگی اورشرمساری سے دوچار ہونا پڑتا ہے، وہیں اس امر کی بھی کیا ضمانت ہے کہ اس طرح کے لالچی، دولت کے پجاری اور بکائو ارکانِ اسمبلی تک پہنچنے والے قومی راز محفوظ رہتے ہوں گے اور ملک دشمن ادارے بھاری قیمت ادا کرکے انہیں اپنے مخصوص مفادات اور مذموم مقاصد کے لیے استعمال نہیں کرسکتے!
اس لیے ملک و قوم کے مفاد میں ہے کہ نہ صرف ان اداروں کے انتخابات بلکہ پوری سیاست کو ہر قیمت پر لالچی، قابلِ فروخت، ضمیر فروش اور جرائم پیشہ عناصر سے پاک کیا جائے۔


مشہور خبریں۔
صیہونی کابینہ تباہی کے دہانے پر
?️ 7 اپریل 2022سچ خبریںصیہونی کنسیٹ کی رکن عیدت سیلمن کے حکمراں اتحاد کے ساتھ
اپریل
امریکی تارکین وطن کے لیے ٹرمپ کے کیا منصوبے ہیں؟
?️ 28 نومبر 2024سچ خبریں: صدارتی انتخابات میں ڈونلڈ ٹرمپ کی جیت کے ساتھ ہی سخت
نومبر
مشہور بھارتی اداکار کو اسٹار بننے کے لیے کیا کیا دیکھنا پڑا؟
?️ 8 اگست 2023سچ خبریں: بالی وڈ کے نامور اداکار وویک اوبرائے نے انکشاف کیا
اگست
محمد بن سلمان انسانی حقوق کی خلاف ورزی کرنے والوں میں سر فہرست
?️ 27 نومبر 2021سچ خبریں:انسانی حقوق کے مطالعہ کے ایک ادارے نے سعودی ولی عہد
نومبر
مراد سعید سینیٹ انتخابات کیلئے اہل قرار، اپیلیٹ ٹریبونل نے اپیل منظور کرلی
?️ 26 مارچ 2024پشاور: (سچ خبریں) پشاور کی اپیلیٹ ٹربیونل نے رہنما پاکستان تحریک انصاف
مارچ
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 80ویں اجلاس کے پہلے دن فلسطین محور گفتگو رہا
?️ 24 ستمبر 2025اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 80ویں اجلاس کے پہلے دن فلسطین
ستمبر
بھارت، افغانستان کے امن میں مسلسل رکاوٹ ڈال رہا ہے: وزیر خارجہ
?️ 19 جولائی 2021اسلام آباد(سچ خبریں) وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ
جولائی
غزہ میں صحافیوں کی خطرناک صورتحال،صہیونی میڈیا سے خوفزدہ ہیں
?️ 25 اگست 2025غزہ میں صحافیوں کی خطرناک صورتحال،صہیونی میڈیا سے خوفزدہ ہیں فلسطینی میڈیا
اگست