برطانیہ میں اسرائیل پر پابندیوں کے لیے غیر معمولی دباؤ، عوامی رائے کیا کہتی ہے؟

فشار

?️

سچ خبریں: غزہ، مغربی کنارے، لبنان میں اسرائیلی جارحیت کے تسلسل اور ایران کے خلاف حالیہ جنگ کے تناظر میں برطانیہ میں نئی رائے عامہ اور پارلیمانی سرگرمیوں نے اسرائیل پر پابندیوں کے مطالبے کو غیر معمولی حد تک بڑھا دیا ہے۔ اب یہ مطالبہ محض سیاسی کارکنوں تک محدود نہیں رہا بلکہ عوام، حکمران جماعت لیبر پارٹی کے اراکین اور ارکانِ پارلیمنٹ کی بڑی تعداد بھی تل ابیب کے خلاف عملی اقدامات کا مطالبہ کر رہی ہے۔

تازہ ترین سروے کے مطابق، مختلف امدادی تنظیموں جیسے "میڈیکل ایڈ فار فلسطین”، "سیو دی چلڈرن” اور "کریسٹین ایڈ” کی جانب سے کیے گئے سروے میں 87 فیصد لیبر پارٹی اراکین نے اسرائیل کی غیر قانونی بستیوں کے ساتھ تجارتی تعلقات پر پابندی کی حمایت کی ہے، جبکہ صرف 6 فیصد نے مخالفت کی۔

یہ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ حکمران جماعت کی بنیادی سطح پر بھی فلسطین کے مسئلے پر حکومت کے محتاط مؤقف سے نمایاں اختلاف پایا جاتا ہے۔

اسی سروے میں 78 فیصد اراکین نے اسرائیل کو برطانیہ کی اسلحہ برآمدات، بشمول ایف-35 جنگی طیاروں کے پرزہ جات، کی معطلی کی حمایت کی، جبکہ صرف 14 فیصد اس کے مخالف تھے۔ مزید 68 فیصد نے برطانیہ اور اسرائیل کے تجارتی معاہدے کو معطل کرنے کی حمایت کی اور 62 فیصد نے حکومت کی موجودہ پالیسی پر عدم اطمینان ظاہر کیا۔

برطانوی حکومت گزشتہ مہینوں میں اسرائیل کے ساتھ تعلقات میں توازن برقرار رکھنے کی کوشش کرتی رہی ہے، تاہم سرویز کے نتائج ظاہر کرتے ہیں کہ یہ پالیسی خود حکمران جماعت کے اندر بھی غیر مقبول ہو رہی ہے۔

تنظیم "جسٹس ناؤ” کے ایک اور سروے کے مطابق، 62 فیصد برطانوی عوام اسرائیل پر اقتصادی پابندیوں کی حمایت کرتے ہیں تاکہ اسے جارحیت روکنے پر مجبور کیا جا سکے، جبکہ صرف 11 فیصد اس کے مخالف ہیں۔ اسی سروے میں 65 فیصد نے مکمل اسلحہ پابندی اور 60 فیصد نے تجارتی معاہدے کی معطلی کا مطالبہ کیا۔

یہ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ اسرائیل پر پابندیوں کا مطالبہ اب ایک وسیع سیاسی اور عوامی رجحان میں تبدیل ہو چکا ہے، جو برطانوی حکومت کے لیے اندرونی سیاسی دباؤ میں اضافہ کر رہا ہے۔

یوگوو کے ایک اور سروے کے مطابق، 62 فیصد برطانوی عوام اسرائیلی فوجی کارروائیوں کے مخالف ہیں، جبکہ صرف 13 فیصد حمایت کرتے ہیں۔ مزید 54 فیصد نے اسرائیل کو اسلحہ برآمدات مکمل طور پر روکنے کا مطالبہ کیا ہے، جن میں ایف-35 کے پرزہ جات بھی شامل ہیں۔

ایف-35 پروگرام برطانیہ میں حالیہ مہینوں میں ایک حساس سیاسی مسئلہ بن چکا ہے۔ حکومت نے 2024 میں بعض اسلحہ برآمدات معطل کی تھیں، لیکن ایف-35 کے پرزہ جات کو اس پابندی سے مستثنیٰ رکھا گیا تھا، جس پر شدید تنقید کی جا رہی ہے۔

حقوقِ انسانی تنظیم "الحق” نے اس مسئلے پر برطانوی عدالت میں مقدمہ بھی دائر کیا تھا، جسے ابتدائی طور پر مسترد کر دیا گیا، تاہم یہ معاملہ اب بھی سیاسی اور قانونی دباؤ کی علامت بنا ہوا ہے۔

پارلیمنٹ میں بھی اسرائیل کے خلاف اقدامات کے مطالبات میں اضافہ ہو رہا ہے، جس سے برطانوی حکومت پر دباؤ مزید بڑھتا جا رہا ہے۔

مشہور خبریں۔

آبنائے ہرمز واشنگٹن اور تہران کے لیے ایک آزمائش

?️ 2 مئی 2026 سچ خبریں:میگزین المجله نے اپنی ایک رپورٹ میں لکھا ہے کہ

کالعدم ٹی ٹی پی سے مذاکرات کا فیصلہ تمام اسٹیک ہولڈرز نے کیا تھا، عمران خان

?️ 11 جنوری 2023اسلام آباد:(سچ خبریں) سابق وزیر اعظم اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی

ہندوستان نے ایک بار پھر روس سے S-400 انٹرسیپشن سسٹم حاصل کرنے کی درخواست کی

?️ 27 جون 2025سچ خبریں: ہندوستان اور روس کے وزرائے دفاع نے شنگھائی تعاون تنظیم

وزیراعلی سہیل آفریدی کا فیصلہ انتہائی قابل افسوس ہے۔ طلال چوہدری

?️ 20 اکتوبر 2025اسلام آباد (سچ خبریں) وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے وزیراعلی

کورونا: ملک بھر میں صورتحال تشویشناک

?️ 13 جنوری 2022اسلام آباد (سچ خبریں) ملک میں کورونا وائرس ایک مرتبہ پھر سے

 یتزاہ باراک: اندرونی اور بیرونی بحران اسرائیل کو تباہ کر رہے ہیں / پوری دنیا ہم سے نفرت کرتی ہے

?️ 28 اگست 2025سچ خبریں: ایک ممتاز صیہونی جنرل نے غزہ کی جنگ کے دوران

غزہ آپریشن میں اسرائیلی فوج کہاں تھی؟

?️ 8 اکتوبر 2023سچ خبریں:صیہونی حکومت کے مختلف ذرائع ابلاغ کے حوالے سے ایک رپورٹ

دہشت گردی کا مقابلہ کسی ایک سیاسی جماعت نے نہیں، سب نے مل کر کرنا ہے، بلاول بھٹو

?️ 13 دسمبر 2023پشاور: (سچ خبریں) چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو نے کہا ہے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے