12 روزہ جنگ میں ایران کی فتح نے علاقائی دفاعی حکمت عملیوں کو کیسے بدل دیا؟

ایران

?️

یمانیون نیوز کے مطابق، جمہوری اسلامی ایران اور صہیونیستی ریاست کے درمیان 12 روزہ جنگ، جس کا آغاز اس ریاست کی جانب سے ایران کی سرزمین پر وحشیانہ جارحیت کے بعد ہوا، محض ایک محدود عسکری تصادم نہیں تھی۔
واضح رہے کہ یہ ایک ایسا منفرد لمحہ تھا جس نے خطے میں جنگ کے قواعد اور دفاعی اتحادوں کو یکسر تبدیل کر دیا۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ایران نے اپنی خودمختاری کے دفاع اور جوہری و میزائلی صلاحیتوں کے حصول کے حق کے تحت جنگ میں قدم رکھا اور بالآخر فتح یاب ہوا۔ دوسری طرف، صہیونیستی دشمن کو متعدد محاذوں پر شکست کا سامنا کرنا پڑا، جس سے نہ صرف اس کی عوامی شبیہہ مجروح ہوئی بلکہ اس کی کمزوریاں بھی عیاں ہو گئیں، جس سے اس کے داخلی حلقوں میں شدید صدمہ پہنچا۔
صہیونیستوں کا آغاز اور امریکی مداخلت پر اختتام
صہیونیستی ریاست نے طویل عرصے تک ایران کے خلاف دھمکیاں دینے اور تناؤ بڑھانے کے بعد، ایرانی مراکز، سائنسدانوں اور کمانڈروں کے خلاف جارحیت شروع کی۔ ان کا خیال تھا کہ یہ اچانک حملہ ایران کو پسپائی یا خاموشی پر مجبور کر دے گا۔
لیکن ایران کا جواب تل ابیب کی توقعات سے بالکل مختلف تھا۔ تہران نے مقبوضہ علاقوں پر وسیع اور دقیق میزائلی حملے کیے، جو صہیونیستی ریاست کے فضائی دفاعی نظام کو ناکارہ بنانے میں کامیاب رہے۔ صرف 72 گھنٹے کے اندر ہی صہیونیستی ریاست کو اپنی حکمت عملی کی غلطی کا احساس ہو گیا، اور وہ ایران کے طویل المدتی میزائلی حملوں کے سامنے بے بس نظر آئی۔ نتیجتاً، واشنگٹن کی مدد سے تل ابیب نے فوری جنگ بندی کے لیے مذاکرات کا آغاز کیا۔
ایرانی میزائلوں کی نشانے پر مار اور صہیونیستوں کی عبرتناک شکست
اگرچہ صہیونیستی دشمن نے ابتدائی دنوں میں شدید حملے کیے، لیکن وہ ایران کے جوہری یا میزائلی ڈھانچے کو کوئی قابل ذکر نقصان نہ پہنچا سکا۔
اس کے برعکس، ایران نے النقب اور اشدود جیسے اہم فوجی و انٹیلی جنس مراکز، بجلی گھروں اور فضائی دفاعی ریڈارز کو نشانہ بنانے میں کامیابی حاصل کی۔ ایرانی میزائل اسرائیل کے کثیرالطبقاتی دفاعی نظام کو چیرتے ہوئے تل ابیب تک پہنچ گئے، جو ایک غیرمعمولی کامیابی تھی۔
صہیونیستوں کا دفاعی نظام بکھرتا ہوا: "آہنی گنبد” کی شکست
اس جنگ میں صہیونیستی ریاست کو سب سے بڑا جھٹکا اپنے دفاعی نظام کی ناکامی کی صورت میں ملا، جسے سالوں تک ناقابل تسخیر بتایا جاتا تھا۔ "آہنی گنبد” اور "ڈیوڈز سلنگ” جیسے نظام ایرانی میزائلوں کو روکنے میں ناکام رہے، خاص طور پر وہ میزائل جو ایران نے حالیہ برسوں میں تیار کیے تھے۔
ایران میں یکجہتی، اسرائیل میں انتشار
صہیونیستی ریاست کا خیال تھا کہ ایران میں داخلی تقسیم پیدا ہو جائے گی، لیکن اس کے برعکس ایرانی عوام نے اپنی حکومت کے ساتھ مضبوط یکجہتی کا مظاہرہ کیا۔ دوسری طرف، اسرائیل میں فوجی اور سیاسی قیادت کے درمیان شدید تناؤ پیدا ہوا، اور عوامی دباؤ نے صہیونیستی حکومت کو شکست کی وجوہات پر جوابدہ ٹھہرایا۔
نتیجہ
ایران کی فتح صرف اس کی تکنیکی برتری کی وجہ سے نہیں تھی، بلکہ اس کی مضبوط قومی یکجہتی، مستقل مزاجی اور مکمل خودمختاری کے عزم نے اسے کامیاب بنایا۔ دوسری طرف، صہیونیستی ریاست سیاسی، عسکری اور سماجی طور پر کمزور ہو کر رہ گئی۔

مشہور خبریں۔

شاہ محمود قریشی نے عمران خان کی رہائی مہم میں شمولیت کی مبینہ پیشکش مسترد کر دی

?️ 2 نومبر 2025لاہور: (سچ خبریں) پاکستان تحریک انصاف کے رہنما شاہ محمود قریشی نے

حکمران جماعت کا وزیراعلیٰ پنجاب، اسپیکر کے خلاف تحریک عدم اعتماد لانے کا فیصلہ

?️ 17 دسمبر 2022لاہور: (سچ خبریں) مسلم لیگ ن نے وزیراعلیٰ پنجاب چوہدری پرویز الہیٰ اور اسپیکر سبطین

کیا بحیرہ احمر میں 1956 کا منظر نامہ دہرایا جانے والا ہے؟

?️ 14 جنوری 2024سچ خبریں: اگرچہ امریکہ اور انگلستان کے یمن پر حملے کو زیادہ

قاتل اور شہید کے درمیان موازنہ انصاف نہیں:سید حسن نصراللہ

?️ 4 جنوری 2022سچ خبریں:حزب اللہ کے سربراہ سید حسن نصراللہ نے شہید قاسم سلیمانی

نادرا حکام نے وراثتی سرٹیفکیٹ اجرا کے لئے اہم بیان جاری کر دیا

?️ 11 نومبر 2021اسلام آباد(سچ خبریں) نادرا حکام کے مطابق تینوں میگا سینٹرز پر دوشفٹوں

’9 مئی سے متعلق صرف 6 مقدمات میں 33 ملزمان کو فوجی حکام کے حوالے کیا گیا‘

?️ 26 مئی 2023اسلام آباد: (سچ خبریں) وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ نے کہا

فلسطینی مزاحمتی تحریک کا صیہونیوں کو شدید انتباہ

?️ 21 جون 2023سچ خبریں:فلسطین کی جہاد اسلامی تحریک کے رہنماوں میں سے ایک نے

برطانیہ کے خلاف پاکستان کا شدید رد عمل سامنے آگیا

?️ 13 اپریل 2021اسلام آباد (سچ خبریں)اسلام آباد دفتر خارجہ کے ترجمان زاہد حفیظ چوہدری

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے