کیا صیہونی اندرونی تقسیم خانہ جنگی کا باعث بنے گی؟

صیہونی

?️

سچ خبریں:صیہونی ذرائع ابلاغ نے اطلاع دی کہ نتن یاہو کے دسیوں ہزار دائیں بازو کے حامیوں نے متنازعہ عدالتی اصلاحات کے منصوبے جس پر بنیامین نیتن یاہو کی کابینہ عمل درآمد کرنے کا ارادہ رکھتی ہے، کے حق میں بڑے پیمانے پر مظاہروں کی اطلاع دی۔

صیہونی حکومت کے چینل 12 نے اطلاع دی ہے کہ 150000 سے 200000 تک نیتن یاہو کے حامیوں نے بیت المقدس میں عدالتی اصلاحات پر مبنی صیہونی کابینہ کے منصوبے کی حمایت میں مظاہرہ کرتے ہوئے نعرے لگائے کہ وہ عدالتی اصلاحات چاہتے ہیں،یدیوت احرونٹ اخبار نے بھی لکھا کہ دائیں بازو جماعتووں سے وابستہ ہزاروں اسرائیلیوں نے مقبوضہ بیت المقدس میں صیہونی سپریم کورٹ کے سامنے عدالتی اصلاحات کے منصوبے کی حمایت میں مظاہرہ کیا۔

المیادین نیوز چینل نے مقبوضہ فلسطین میں اس چینل کے دفتر کے ڈائریکٹر کے حوالے سے خبر دی کہ نیتن یاہو کے عدالتی اصلاحات کے منصوبے کے خلاف ہونے والے ہفتہ وار مظاہروں کے 4 ماہ کے بعد اب تل ابیب کی سڑکوں پر اس منصوبے کے حامیوں اور مخالفین کی وسیع پیمانے پر موجودگی دیکھنے کو مل رہی ہے،رپورٹ کے مطابق تل ابیب کے چوکوں میں انتہائی دائیں بازو جماعتوں کا مظاہرہ مقبوضہ فلسطین میں اندرونی خلیج اور صیہونی حکام کی ناکامی کو ظاہر کرتا ہے۔

اسی سلسلے میں فلسطینی امور کے محقق امیر مخول نے المیادین چینل کے ساتھ ایک ٹیلی ویژن انٹرویو میں اس حکومت کے اندرونی بحران اور تعطل کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس مظاہرے کے وقت کے اہم اثرات ہیں اس لیے کہ یہ کنیسہ کی گرمیوں کی تعطیلات کے موقع پر ہوا ہے جہاں نیتن یاہو اپنے اہداف کے لیے اپنے اسٹریٹ حامیوں کو ایک متوازی قوت کے طور پر استعمال کر رہے ہیں،انہوں نے مزید کہا کہ صیہونی حکومت شدید بحران کا شکار ہے جبکہ مظاہروں کی اگلی لہر اس سے کہیں زیادہ پرتشدد ہو گی کیونکہ مظاہرے جاری رہیں گے، انہوں نے کہا کہ اسرائیلی میڈیا کبھی غیر جانبدار نہیں رہا بلکہ اس نے کبھی کبھی سیاست دانوں سے بھی زیادہ خطرناک کام کیا ہے، یاد رہے کہ دائیں بازو کی صہیونی جماعتوں نے لوگوں سے مظاہروں میں شرکت کی اپیل کی ہے جبکہ مظاہرے کا اہتمام نیتن یاہو کی قیادت میں سرگرم لیکوڈ پارٹی نے کیا ہے نیز مذہبی صہیونی جماعت جس کی قیادت انتہا پسند وزیر خزانہ اسموٹریچ کر رہے ہیں ، اس میں بڑھ چرھ کر حصہ لیا ہے۔

یاد رہے کہ اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے گزشتہ ماہ اعلان کیا تھا کہ وہ اپنی طے شدہ عدالتی اصلاحات پر ووٹنگ ملتوی کر دیں گے کیونکہ ان کی عدالتی اصلاحات کے خلاف مظاہرے تیز ہو گئے تھے، انہوں نے اعلان کیا کہ وہ بل پر دوسرے اور تیسرے ووٹ کو پاس اوور کے بعد، 5 سے 13 اپریل تک ملتوی کر دیں گے تاکہ حقیقی بحث کے لیے ایک اور موقع فراہم کیا جا سکے، تاہم نیتن یاہو نے اصرار کیا کہ عدالتی قوانین میں بنیادی ترمیم ضروری ہے، یاد رہے کہ گزشتہ تین ماہ کے دوران مقبوضہ علاقوں میں نیتن یاہو کے عدالتی اصلاحات کے منصوبے کے خلاف وسیع پیمانے پر مظاہرے ہوئے ہیں اور اس منصوبے کے مخالفین اسے عدالتی حکام کے انتظامی اختیارات کے خلاف اختیارات کو کم کرنے کی ایک کوشش سمجھتے ہیں۔

مشہور خبریں۔

سیف القدس کی جنگ فلسطینی عوام کی تاریخ میں ایک اہم موڑ تھی:جہاد اسلامی

?️ 28 دسمبر 2021سچ خبریں:فلسطین کی جہاد اسلامی تحریک کے سیاسی بیورو کے ایک سینئر

حامد خان کا 26ویں آئینی ترمیم کے خلاف وکلا تحریک شروع کرنے کا اعلان

?️ 21 اکتوبر 2024 اسلام آباد: (سچ خبریں) پاکستان تحریک انصاف رہنما اور سپریم کورٹ بار

غزہ میں تباہ کن ویرانی؛ 90 فیصد رہائشی علاقے زمین بوس

?️ 19 جنوری 2025سچ خبریں:غزہ میں جنگ بندی کے نفاذ اور قابض اسرائیلی افواج کے

صیہونیوں کے ہاتھوں مسجد الاقصی کی یہودی سازی کا منصوبہ اور عرب رہنماؤں کی خاموشی

?️ 5 ستمبر 2024سچ خبریں: اسرائیل نے پہلے فلسطینیوں کے مکانات کو مسمار کرنے، انہیں

ترکی کا اسرائیل کو مشورہ

?️ 28 اکتوبر 2023سچ خبریں: ترکی کے صدر نے کہا ہے کہ صیہونی حکومت اپنے

سانحہ میناب کے حوالے سے امریکی اپنی شرمناک توجیہات سے بچ نہیں سکتے: اسماعیل بقائی

?️ 20 مئی 2026 سچ خبریں:اسماعیل بقائی، ترجمان وزارت خارجہ ایران نے امریکی سینٹرل کمانڈ

ٹک ٹاک سے شروع ہونے والی ٹرمپ کی صدارت

?️ 20 جنوری 2025سچ خبریں:دنیا کے مقبول ترین سوشل میڈیا پلیٹ فارمز میں سے ایک

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے