🗓️
سچ خبریں: غیر متوقع صورتحال میں لبنانی حزب اللہ اور غزہ میں فلسطینی مزاحمت کی طرف سے اسرائیل کے خلاف مسلسل سکیورٹی خطرات کے علاوہ، جنین کا مسئلہ بھی تل ابیب کے سیاسی، فوجی اور سکیورٹی رہنماؤں کی اہم تشویش بن گیا ہے۔
جنین شہر اور اس کے مستقل اور مستحکم کیمپ کے حالیہ واقعات نے صیہونیوں کی سوچ کو اس حد تک متاثر کیا ہے کہ دوسرے محاذوں سے اس حکومت کے خلاف روایتی خطرات کے مقابلہ میں جنین کو ان دنوں صیہونی حکومت کی سب سے اہم فوجی اور سکیورٹی فکرمندی سمجھنا غلط نہیں ہے۔
جنین میں فوجی جھٹکوں کا سلسلہ
جنین میں واقعات کا آغاز تقریباً ایک ماہ قبل صیہونی حکومت کے فوجی قافلے کے راستے میں سڑک کے کنارے نصب کئی بموں کے پھٹنے سے ہوا جو ایک بے مثال مسئلہ ہے،ان دھماکوں کے دوران صیہونی فوج کی جدید بکتر بند گاڑیاں جنہیں ٹائیگرز اور پینتھرز کے نام سے جانا جاتا ہے، ناکارہ ہو گئیں، یہ ایک ایسا واقعہ ہے جس نے بالآخر جنین پر مستقبل کے حملوں میں صیہونی حکومت کی فوج کی فوجی حکمت عملی کو تبدیل کر دیا۔
یہ بھی پڑھیں: جنین میں صہیونیوں کی پسپائی کے بعد فلسطین میں بدلتی ہوئی مساوات
اس واقعے کے چند روز بعد ہی مزاحمتی گروہوں کی جانب سے جنین کے مغرب سے صیہونی بستیوں کی جانب متعدد راکٹ داغے گئے، یہ واقعہ صہیونیوں کے لیے اس قدر چونکا دینے والا تھا کہ بہت سے عسکری تجزیہ کاروں نے اس کا غزہ میں گزشتہ دو دہائیوں کے واقعات سے موازنہ کیا اور کہا کہ اگر اس پر قابو نہ پایا گیا تو آنے والے برسوں میں جنین غزہ کی طرح سکیورٹی کا مسئلہ بن جائے گا اس لیے کہ جنین اور غزہ کے درمیان اہم فرق یہ ہے کہ اس علاقے میں مزاحمتی مجاہدین قابضین سے صفر کے فاصلے پر ہیں اور صیہونی حکومت کو بہت زیادہ نقصان پہنچا سکتے ہیں۔
صہیونی حلقے: غزہ کا تجربہ اپنے آپ کو دہرا رہا ہے۔
اس حوالے سے عبرانی زبان کے اخبار اسرائیل ہیوم نے لکھا کہ اس وقت جنین سے جو راکٹ فائر کیے جا رہے ہیں وہ قدیم اور سادہ ہیں لیکن مزاحمتی گروپ مغربی کنارے میں غزہ کے تجربے کو دہرانے کا سوچ رہے ہیں، اس عبرانی اخبار کے مطابق مزاحمتی گروپوں نے گزشتہ دو ماہ کے دوران مغربی کنارے کے شمال میں 4 بار راکٹ فائر کرنے کی کوشش کی اور ہر بار ایسا لگتا تھا کہ فائرنگ کی کاروائی اور راکٹوں میں استعمال ہونے والے مواد کی قسم میں بہتری آئی ہے، کیونکہ ابتدائی طور پر یہ راکٹ بہت سادہ اور عام تھے لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ وہ بہتر ہو گئے اور زیادہ فاصلے تک مار کرنے لگے،صہیونی فوج کے سابق افسروں اور کمانڈروں میں سے ایک نے کہا کہ یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ فلسطینیوں کی جانب سے راکٹ فائر کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، اس سے قبل بھی دوسرے فوجی انتفاضہ کے دوران مغربی کنارے میں راکٹوں کی تعمیر اور اپ گریڈیشن کی کوششیں کی گئیں جس کے بعد صیہونی فوج نے شمالی مغربی کنارے میں راکٹ فیکٹریوں پر حملہ کیا، اس لیے اب جو کچھ ہو رہا ہے اس سے وہ عجیب نہیں ہے،یہ فلسطینیوں کی جانب سے مزید کوششوں کے امکان کو ظاہر کرتا ہے، انہوں نے زور دے کر کہا کہ جو کچھ ہوا وہ سرخ لکیر ہے، عبرانی ذرائع نے مزید اطلاع دی کہ آباد کاروں کے خوف اور تشویش کے پیش نظر صیہونی فوج غزہ کی پٹی جیسے مغربی کنارے میں صہیونی بستیوں کے گرد وارننگ سسٹم نصب کرنے پر غور کر رہی ہے۔
جنین میں کیا تبدیلیاں آئی ہیں؟
فلسطینی ماہر احمد ابو زھری نے جنین میں پیش آنے والے واقعات کے سلسلے میں اس مسئلے کا گہرائی سے جائزہ لیا ہے ، ان کا خیال ہے کہ کہ مغربی کنارے کے حالات نے مزاحمتی تحریک کی صلاحیتوں میں بہتری لائی اور مجاہدین صیہونی غاصبوں کے خلاف منفرد کارروائیاں انجام دینے میں کامیاب ہوئے جس میں صیہونیوں کو بھاری جانی نقصان اٹھانا پڑا، یہ ماضی سے مختلف ہے، موجودہ حالات میں اسرائیلی فوج اور اس حکومت کی سکیورٹی سروسز کو پیچیدہ چیلنجوں اور خطرات کا سامنا ہے جنہوں نے جنین کو قابض حکومت کے لیے خطرناک ترین علاقوں میں تبدیل کر دیا ہے۔
مزاحمت نے حال ہی میں جنین میں جو اقدامات کیے ہیں ان سے بنیادی تبدیلیاں آئی ہیں جن کا خلاصہ درج ذیل مسائل میں کیا جا سکتا ہے۔
1۔ موجودہ حالات میں صیہونی فوج کو مزاحمت کی طاقت اور براہ راست تصادم کی صلاحیت کی وجہ سے مشکل اور خطرناک ماحول میں کام کرنا ہوگا۔
2. فلسطینی مزاحمت کی طاقت کی وجہ سے جنین میں صہیونی فوج کی کاروائیوں کی ناکامی کی شرح میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔
3. صیہونی حکومت کی فوج نے اپنے بہت سے آپریشنز میں تاخیر کی ہے یہاں تک کہ اس حکومت کے فوجی کمانڈر بھی اپنے آپریشنل منصوبوں کو تبدیل کرنے پر مجبور ہوگئے ہیں۔
4. مزاحمتی مجاہدین کے ہاتھوں صیہونی فوجیوں کے اغوا کے خطرے نے فوجی کمانڈروں کو جنین پر شدید فضائی بمباری کرنے اور اس علاقے میں مزید فوجی اور فوجی سازوسامان بھیجنے پر مجبور کردیا ہے جس سے صیہونی فوج کی آپریشنل مشکلات میں اضافہ ہوا ہے اور اس کے ساتھ ہی صیہونیوں کے تشدد کی مقدار پر تنقید بھی تیز ہو گئی ہے۔
جنین سے راکٹ حملے خطرناک کیوں ہیں؟
گزشتہ دنوں اور ہفتوں کے دوران، ہم نے مغربی کنارے کے شمال میں، خاص طور پر جنین میں مزاحمت کی فوجی طاقت کی ترقی میں اہم پیش رفت دیکھی ہے، مزاحمت ہر قسم کے سڑک کے کنارے نصب ہونے والے بم اور راکٹ بنانے میں کامیاب رہی ہے جس سے اس نے قریبی صہیونی بستیوں کو نشانہ بنایا ،یہ درست ہے کہ یہ راکٹ موجودہ حالات میں عملی طور پر قدیم اور معمولی تھے لیکن ان کے بہت خطرناک حفاظتی اور سیاسی اثرات ہیں اس لیے کہ صیہونی حکام نے انہیں کبھی بھی معمولی نہیں سمجھا اس لیے کہ انہیں خدشہ ہے کہ مزاحمت کی صلاحیتوں میں سے جو کچھ اب تک پوشیدہ ہے وہ اس سے کہیں زیادہ خطرناک ہے جو منظرعام پر آچکا ہے! ان دنوں صہیونی اس واقعے کے نتائج اور مغربی کنارے کے مستقبل کے بارے میں بہت پریشان ہیں ،حالیہ ہفتوں میں صیہونی حکومت بڑے خوف اور تشویش کے ساتھ جنین میں رونما ہونے والے واقعات کی پیروی کر رہی ہے جس کی صہیونیوں کے پاس جائز وجوہات ہیں جن میں درج ذیل مسائل شامل ہیں:
1۔ غزہ کے تجربے کو دہرانے کا خوف اور یہ کہ یہ راکٹ بہت زیادہ خطرناک میزائلوں اور راکٹوں میں تبدیل ہو جائیں گے۔
2. یہ خدشہ کہ مغربی کنارے کی صہیونی بستیاں ان راکٹوں کا براہ راست نشانہ بنیں گی۔
3. یہ تشویش کہ مزاحمت نئی مساوات قائم کر سکتی ہے اور مقبوضہ علاقوں میں کسی بھی مقصد تک پہنچ سکتی ہے، ایسا مسئلہ جو قابضین کو بہت مہنگا پڑے گا اور غاصبوں کو صیہونی حکومت کی مجموعی سلامتی سے محروم کر دے گا۔
4. یہ خدشہ اور تشویش کہ مغربی کنارے سے راکٹ حملے اس خطے میں مزاحمت کی قوت اور موجودگی میں اضافہ کریں گے اور نتیجتاً فلسطینی عوام میں مزاحمتی گروہوں کی مقبولیت میں اضافہ ہوگا، خاص طور پر یہ کہ یہ راکٹ مغربی کنارے کے اندر سے فائر کیے جائیں گے جو مقبوضہ علاقوں کی بستیوں سے قربت کی وجہ سے غزہ سے کہیں زیادہ خطرناک ہو گی۔
مزید پڑھیں: جنین حملے میں صیہونیوں کے لیے 4 پریشان کن حقائق
مغربی کنارے میں مزاحمت کی فوجی صلاحیتوں میں اضافہ اہم پیغامات کا حامل ہے جیسے یہ حقیقت کہ مزاحمت نے سکیورٹی چیلنجوں اور خطرات پر قابو پا لیا اور مالی وسائل پیدا کرنے میں کامیابی حاصل کی۔ اور فوجی تجربات کی منتقلی اور موجودہ حالات پر کنٹرول کر لیا ہے لیکن اہم اور اہم مسئلہ یہ ہے کہ مزاحمت نے ان راکٹوں کے ذریعے صیہونی حکومت کو کئی پیغامات دیے ہیں جن میں سب سے واضح یہ ہے کہ مزاحمت کو تباہ کرنے کی کوششیں نہ صرف ناکام ہوئیں بلکہ مزاحمت تیزی سے نئے ہتھیار حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہے جس سے صہیونی فوجیوں اور آباد کاروں کے لیے بہت زیادہ مشکل اور پیچیدہ حالات پیدا ہو گئے ہیں اس لیے نئی پیدا شدہ صورت حال میں مغربی کنارہ اب قابضین کے لیے محفوظ جگہ نہیں رہے گا ،وہ جہاں بھی جائیں گے غزہ کے ڈراؤنے خواب اور مزاحمتی میزائل ان کے پیچھے ہوں گے۔
خلاصۂ کلام
ان دنوں جعلی حکومت کے لیڈروں کو جس چیز نے مجبور کیا ہے وہ کوئی معمولی مسئلہ نہیں ہے جسے بڑے پیمانے پر فوجی آپریشن سے حل کیا جا سکتا ہے، ان دنوں مغربی کنارے خصوصاً اس کے شمالی حصے میں مسلح کرنے کا عمل اس حد تک بڑھ چکا ہے کہ اس نے صہیونیوں کو حالات پر قابو پانے کے بارے میں سوچنے پر مجبور کر دیا ہے،جنین میں ان دنوں کے واقعات، جو سڑک کے کنارے نصب بموں کی طاقت کو مضبوط بنانے کے ساتھ شروع ہوئے اور جنین سے صہیونی بستیوں کی طرف راکٹ داغنے تک جاری رہے، نے صہیونیوں کے ذہنوں کو دو دہائیوں قبل غزہ کے واقعات کی طرف موڑ دیا ہے، جہاں غزہ کی پٹی میں فلسطینی مزاحمت کاروں نے ابتدائی طور پر انتہائی بنیادی نوعیت کے فوجی ہتھیاروں اور میزائلوں کا استعمال کرکے صیہونیوں کو نشانہ بنانے کی کوشش کی لیکن موجودہ حالات میں 20 سال کے بعد ان کی طاقت اس سطح پر پہنچ گئی ہے کہ وہ صیہونیوں کے خلاف جنگ کر سکتے ہیں اور صیہونی مسلح افواج کے خلاف نئی فوجی مساوات قائم کرسکتے ہیں اور قابضین کو نہ صرف غزہ بلکہ مقبوضہ بیت المقدس اور دیگر فلسطینی علاقوں پر حملہ کرنے کا سوچنے سے بھی روک سکتے ہیں۔
یہاں ہم جینین کے ایک اور غزہ میں تبدیل ہونے کے بارے میں بات کر رہے ہیں، جس کے بارے میں ان دنوں سوچنا بھی صہیونی رہنماؤں کے لیے خطرناک خیالات اور ڈراؤنے خواب ہیں، شاید وہ اپنے ذہنوں میں وہ دن دیکھ رہے ہوں جب جنین اور مغربی کنارے کے دیگر علاقوں میں مزاحمت شروع ہو جائے گی جس کے نتیجہ میں صہیونیوں کو اس علاقے سے انخلاء پر مجبور ہونا پڑے گا جس کی ایک حقیقی اور بہت واضح مثال 2005 میں غزہ کی پٹی سے صیہونیوں کے ذلت آمیز انخلاء کے ساتھ سامنے آئی۔
مشہور خبریں۔
وزیراعظم نے اقتصادی رابطہ کمیٹی کی تشکیلِ نو کردی، وزیرخزانہ چیئرمین مقرر
🗓️ 24 مارچ 2024اسلام آباد: (سچ خبریں) وزیراعظم شہباز شریف نے اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای
مارچ
کیا نائیجر پر فوج قابض رہے گی؛ فوجی رہنما کیا کہتے ہیں؟
🗓️ 20 اگست 2023سچ خبریں: نائیجر کی بغاوت کے منصوبہ سازوں نے اس بات پر
اگست
امریکی فوج کی سب سے بڑی کمزوری کیا ہے ؟
🗓️ 17 اکتوبر 2023سچ خبریں:امریکی فوج کے ایک ریٹائرڈ جنرل اور سابق اعلیٰ عہدیدار ڈان
اکتوبر
سال کے پہلے روز اسٹاک ایکسیچنج میں تیزی، انڈیکس میں 2023 پوائنٹس اضافے سے 64 ہزار کی حد بحال
🗓️ 1 جنوری 2024اسلام آباد:(سچ خبریں) پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں نئے سال کے پہلے روز
جنوری
شیخ رشید کا عمران خان کے خلاف بینرز آویزاں کرنے والوں کو سخت پیغام
🗓️ 2 جولائی 2022اسلام آباد(سچ خبریں) پی ٹی آئی ریلی کے راستے میں عمران خان مخالف بینرز آویزاں
جولائی
افغان خواتین کے خلاف طالبان کی پالیسیوں پر ملائیشیا کی تنقید
🗓️ 25 ستمبر 2023سچ خبریں:ملائیشیا کے وزیر اعظم اور وزیر خزانہ انور ابراہیم نے اقوام
ستمبر
امام حسین علیہ السلام کے زائرین کی میزبانی پر فخر ہے: ممتاز سنی عالم
🗓️ 16 ستمبر 2022سچ خبریں: اربعین واک میں لاکھوں لوگوں کی شرکت کے جواب
ستمبر
جنوبی افریقہ نے فرانس کو کیسے ذلیل کیا؟
🗓️ 8 اگست 2023سچ خبریں: جنوبی افریقہ نے آنے والے برکس اجلاس میں مدعو رہنماؤں
اگست